عاطف توقیر

آج کل ٹی وی چینلز پر ایک سلسلہ چل نکلا ہے کہ کسی بھی سیاسی پہلو پر تجزیے کے لیے ماضی کے جرنیلوں کو مدعو کیا جاتا ہے اور وہ اپنی بھڑاس کچھ اس طرح سے نکالتے ہیں، جسے وہ ملکی افواج کے ترجمان ہوں۔

گزشتہ روز فوج کے شعبے آئی ایس پی آر کی جانب سے واضح انداز سے کہا گیا ہے کہ ان جرنیلوں کی کسی معاملے پر رائے ان کی انفرادی رائے تو ہو سکتی ہے، مگر اس کا ملکی فوج سے کوئی تعلق نہیں۔

ملک میں سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان تناؤ کے بیج بونے میں بھی ان تجزیہ کاروں نے ایک نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

مجھے دنیا کے متعدد ممالک میں جانے اور وہاں کے پبلک اسفیر پر اثرانداز ہونے والے میڈیا سے متعلقہ افراد سے گفت گو کا موقع ملا ہے۔ ترقی یافتہ ریاستوں میں صحافت اور تجزیے کے درمیان ایک واضح فرق رکھا جاتا ہے اور تجزیے یا رائے کو خبر کی صورت میں پیش نہیں کیا جاتا۔ ایسے ممالک جہاں یہ فرق کہ ہو یا دکھائی نہ دے، ان ممالک میں عوام اور اداروں کے درمیان کئی طرح کے مسائل دیکھے جا سکتے ہیں۔

میڈیا کے محقق کے طور پر مجھے مختلف ممالک کے پروپیگنڈا سے متعلقہ بیانوں اور خصوصاﹰ قومی سلامتی کے اظہاریوں کو دیکھنے کا موقع ملا۔ کسی ملکی صورت حال پر کوئی شخص اپنی رائے تو دے سکتا ہے، مگر تجزیے کے لیے اس کا کم از کم اس موضوع پر کوئی تحقیقی مکالہ ہونا چاہیے، یعنی اگر آپ نے کسی موضوع پر تحقیق نہیں کی، تو آپ اس موضوع پر اپنی انفرادی رائے دو دے سکتے ہیں، مگر پبلک اسفیر میں اپنا کوئی تجزیہ فقط اس وقت داخل کر سکتے ہیں، جب آپ واقعی اس موضوع پر کوانٹیٹیٹو یا کوالیٹیٹیو تحقیق سے گزر چکے ہوں۔ دوسری صورت میں وہ فقط آپ کی رائے ہو سکے گی۔

ہمارے میڈیا چینلز پر تاہم ایک صحافی، جسے رپورٹ کرنا چاہیے اور سابقہ جرنیل، جسے زیادہ سے زیادہ کسی معاملے پر اپنی رائے یا اپنی ملازمت کے دنوں کا کوئی تجربہ عوام سے بانٹنا چاہیے، وہ خود بہ خود فوج کے ترجمان بن کر کسی بھی موضوع پر بہ طور تجزیہ نگار بات کرنے لگتے ہیں۔

اس حوالے سے فوج کے شعبہء تعلقات عامہ کی جانب سے اس بات واضح انداز سے کرنا نہایت اہم اور خوش گوار ہے کہ مسلح افواج کو اگر کچھ کہنا ہو گا، تو وہ فقط اس شعبے کے توسط سے کہیں گی اور دیگر افراد فوج کی معرفت سے بیان بازی سے گریز کریں، کیوں کہ ایسی صورت میں وہ ان کی ذاتی رائے تو ہو سکتی ہے مگر فوج کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔

ہماری مسلح افواج کے مفاد اور وقار کے لیے یہ انتہائی ضروری بات ہے کہ وہ پیشہ ورانہ انداز سے اپنی خدمات کی انجام دہی پر توجہ مرکوز رکھیں اور دستور کے بتائے ہوئے دائرے کے مطابق اپنی قوم کی خدمت پر توانائی صرف کریں۔ دوسری جانب ملکی میڈیا سے فقط یہی کہا جا سکتا ہے کہ ایسی افراد کی بات چیت کو ان کی ذاتی رائے کے بہ طور تو پیش کیا جائے، مگر اسے کسی موضوع پر باریک تجزیہ یا فوج کی بات بنا کر پیش کرنے سے گریز کیا جائے۔ دوسری طرف وہ صحافی جو خود کو ’اندر کا آدمی‘ ظاہر کر کے ’دور کی کوڑی‘ لاتے ہیں، انہیں بھی سمجھ لینا چاہیے کہ ریٹنگ کے چکر میں وہ صحافت اور وکالت کا فرق ختم کرنے سے گریز کریں۔

ملک میں جمہوری قدروں کے لیے یہ نہایت ضروری ہو گا کہ ادارے قائم و دائم رہیں اور قانون اور دستور کا بول بالا رہے۔ یاد رکھیے، جس ملک میں ادارے قانون اور دستور کے مطابق اپنے اپنے فرائض انجام دینے میں مگن ہوں، وہاں ایسا خلا پیدا نہیں ہوتا، جس کا فائدہ ملک دشمن قوتوں کو پہنچتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here