عاطف توقیر

آصفہ تم نے مجھے افسردہ کر دیا۔ تمہاری تصویریں دیکھ کر میں بہت دیر تک صدمے میں رہا۔ تمہارے ساتھ ہونے والی زیادتی، بربریت، غیرانسانی برتاؤ، تشدد، عقوبت، تمہارے جسم کو نوچنے والے ناخن، تمہاری روح پر اگنے والی خراشیں، تمہارے ادھڑے ہوئے سانس، تمہارا معصوم وجود تو ان آنسوؤں کی وجہ تھا ہے، مگر اس سے زیادہ صدمہ جموں کی گلیوں میں بھارت کے پرچم لہرا لہرا کر ’بھارت ماتا کی جے‘ اور ’جے شری رام‘ کے نعرے لگانے والے کو دیکھ کر ہوا۔

یہ دیکھ کر ہوا کہ تم کتنی وحشی دنیا میں اتاری گئی تھیں۔ تمہارے مردہ جسم کو دیکھ کر میرے اندر کی بے بسی نے کہیں ایک دبیز سکون کی لہر بھی پیدا کر دی کہ اچھا ہوا، ورنہ اس بچی کو شاید اور زیادہ دکھ اور تکلیف دیکھنا پڑتی۔

پیاری آصفہ، تم ایک خانہ بہ دوش خان دان سے تھیں۔ گھوڑے اور خچروں کو چرایا کرتی تھیں۔ بھیڑ بکریوں کی گلہ بان تھیں؟ تمہارے باپ نے تمہیں کتنے پیار سے پہلی بار اپنے ہاتھوں میں لیا ہو گا۔ تمہارا ماتھا کتنی بار چوما ہو گا؟ تمہارے ننھے ننھے ہاتھوں کو کتنی باہر پکڑا ہو گا؟

مگر تمہارے آس پاس نعرے تھے، کیوں کہ تم اکثریتی ہندوؤں کے درمیان نہتی مسلمان تھیں۔ تمہارا وجود نوچنے والے تمہارے ننھے وجود کو کھروچنے والے، تمہاری روح کو زخمی کرنے والے، تمہیں اذیت دینے والے تو شاید مردار روح لوگ تھے۔ مگر تمہاری مسلمان ہونے کی وجہ سے اس ظلم پر شادمان لوگ ’جے شری رام‘ اور ’بھارت ماتا کی جے‘ والے جتھے ہرگز مردار ضمیر، مردار خور، مردار جسم اور مردار سوچ بھی ہیں۔

اقبال نے رام کے لیے لکھا تھا

ہے رام کے وجود پہ ہندوستان کو ناز
اہل نظر سمجھتے ہیں اس کو امامِ ہند

میں سوچ رہا ہوں، اگر ٹھیک اس وقت رام جی زمین پر اتر آئیں۔ دیکھیں کہ لٹھ بردار جتھے ایک بچے کے ساتھ جنسی زیادتی اور قتل پر ان کا نام لے کر نعرے لگا رہے ہیں۔ راون سیتا کو اٹھا لے گیا تھا، تو رام نے آگ کا دریا تک عبور کر لیا تھا اور اس بے انتہا طاقت ور راون سے جا ٹکرایا تھا، وہ آج یہاں موجود ہوں اور ان جتھوں کو دیکھیں۔ ان کے نام پر ہونے والی اس تباہی اور انسانیت سوزی کو محسوس کریں تو وہ کتنے ’خوش‘ ہوں گے؟ انہیں آصفہ کے باپ کے لرزتے ہاتھ دیکھ کر کتنا اچھا لگے گا کہ رام خود بھی تو اپنے باپ سے والہانہ محبت کرتے تھے۔

اپنے باپ کے صرف ایک جملے کو مان دینے کے لیے برسوں کا ’ونوانس‘ اختیار کر لینے والے رام کو آٹھ برس کی بچی کے ادھڑے ہوئے مردہ بدن کو قبر میں اتارنے والے باپ کو دیکھ کر کتنی راحت ملے گی؟

آصفہ تم کشمیر کی بیٹی ہو، مگر تم میری بیٹی بھی تو ہو؟ تمہارا باپ میرا بھائی بھی تو ہے؟ اس لیے نہیں کہ ہم دونوں مسلمان ہیں؟ اس لیے نہیں کہ ہم دونوں تمہیں چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے بھیڑوں بکریوں کو چارہ ڈالتے دیکھ کر مسکراتے ہیں؟ اس لیے بھی نہیں کہ میں اسی خطے سے ہوں جس خطے سے تمہارا باپ ہے بلکہ اس لیے کہ ہم سب انسان ہیں؟

آصفہ، کیا تمہیں پتا ہے، کچھ روز قبل ہمارے دیس میں بالکل تمہاری طرح ایک پیاری سی بیٹی زینب بھی ایسی ہی اذیت کا شکار ہوئی تھی۔ تمہیں پتا ہے کہ اس دنیا میں ہر روز لاکھوں بچے اس جنسی درندگی کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں، کروڑوں انسان نفرت کی آگ میں جھلس جاتے ہیں، لاکھوں کو رنگ، نسل، مذہب، مسلک اور فرقوں کے نام پر دھتکارا جاتا ہے؟

تمہیں پتا ہے کہ ہم سب بدنصیب سیارے کے باسی ہیں؟ تمہیں پتا ہے کہ اس سیارے پر اب انسانوں کی بستیوں میں انسانوں سے زیادہ بھیڑیے آن بسے ہیں؟ تمہیں پتا ہے کہ تم جیسے ہر بچے کی چیخیں، ہر بچے کے ساتھ زیادتی اور ہر بچے کی موت ہماری مردہ ضمیری کی کہانی بھی ہے؟

بیٹی آصفہ، مجھے کم از کم اس بات کی خوشی ہے کہ تمہاری موت نے ہندوستان کے غیرمذہبی لوگوں اور انسانیت پرستوں حلقوں کو کم از کم جھنجھوڑ ضرور دیا ہے۔ ان میں سے بہت سے لوگ تھے، جو کشمیر میں فوج کے ہاتھوں جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والے خواتین کے معاملے پر خاموش تھے۔ بہت سے لوگ تھے، جو عام انسانوں پر طاقت کے استعمال پر چپ تھے، بہت سے لوگ تھے، جو بنیادی حقوق مانگنے والوں کو دیکھنا تک پسند نہیں کرتے تھے۔ تمہارے معصوم اور ننھے بدن نے ان لوگوں کو بھی جھجھوڑ کر صدمے میں ڈال دیا ہے۔

آصفہ، میں تم سے بہت شرمندہ ہوں اور میں پوری کوشش کے باوجود بھی تمہاری پیاری آنکھوں، معصوم چہرے اور گالوں پر رکھے بھولے پن کے برابر ایک لفظ بھی نہیں لکھ سکتا۔ مجھے بس شرمندہ ہونے دو!

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here