عاطف توقیر

غلطی کسی بھی انسان سے ہو سکتی ہے اور ہوتی ہے۔ سو اہم بات یہ نہیں کہ کسی نے کوئی غلطی کی یا نہیں۔ اہم بات لیکن یہ ہے کہ آیا اس نے وہ غلطی تسلیم کی یا نہیں؟ اس نے اس غلطی سے سبق سیکھا یا نہیں؟ اپنی غلطی پر معافی مانگی یا نہیں؟ اور کیا کہیں وہ دوبارہ تو ویسی ہی غلطی نہیں کر رہا؟

مگر ہمارے ہاں روایت بالکل مختلف ہے۔ یہ بات کم از کم میرے لیے نہایت افسوس کی تھی کہ پاکستان کے ایک ایسے ادارے، جس کا دستوری طور پر سیاست سے کسی بھی طرح کا تعلق نہیں ہونا چاہیے، آج کسی سیاسی جماعت کی طرح صحافیوں کے سیاسی سوالات کا سامنا کر رہا تھا۔ اور اس سے بھی بڑی بدقسمتی کہ ان میں سے کوئی ایک بھی صحافی ایسا نہیں تھا، جو واضح انداز سے وہ سوالات پوچھ سکتا، جن کا جواب قوم جاننا چاہتی ہے۔

میجر جنرل آصف غفور کی یہ پریس کانفرنس انتہائی مایوس کن اس لیے بھی تھی کہ ان کے پاس کسی سوال کا کوئی مناسب جواب نہیں تھا۔ سوائے اس روایتی جملے کے کہ پاکستانی فوج بقا کی جنگ لڑ رہی ہے یا وہ غیرجانب دار ہے یا اس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔

گزشتہ انتخابات کے وقت ملک میں دہشت گردی انتہائی زیادہ تھی، مگر تب بھی اتنی بڑی تعداد میں فوجیوں اور ان فوجیوں کو اتنے زیادہ اختیارات دینے کی نوبت نہیں آئی تھی۔ اس بات ساڑھے تین لاکھ فوج، جو پاکستانی کی کل مسلح افواج کا قریب نصف بنتا ہے تعینات کی گئی ہے، اور ہر فوجی کو کسی مجسٹریٹ کی سطح کے اختیارات تفویض کیے گئے ہیں۔ ایک ایسے موقع پر کہ جب فوج پر سیاست میں مداخلت کے شدید الزامات عائد کیے جا رہے ہیں، اس وقت فوجی اہلکاروں کو پولنگ اسٹیشن کے اندر اور باہر تعینات کرنا، بیلٹ پیپلرز کی نگرانی اور منتقلی تک کی ذمہ داریاں تفویض کرنا، اس ادارے کے حوالے سے شکوک و شبہات میں اضافہ کرے گا۔

فوجی ترجمان کا ایک طرف دعویٰ یہ ہے کہ سن 2013 کے مقابلے میں اب سکیورٹی حالات بہتر ہیں، دہشت گردی کا خاتمہ ہو چکا ہے، تاہم حیرت کی بات یہ ہے کہ ان انتخابات میں فوجی اہلکاروں کی تعداد بھی گزشتہ مرتبہ کے مقابلے میں زیادہ ہے، اختیارات بھی زیادہ ہیں اور اس پر یہ اصرار بھی کہ فوج انتخابات میں ’غیرجانب دار‘ رہے گی۔

اس ملک کی تاریخ میں جو سب سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ فوج ہر معاملے کا کریڈٹ تو پورا لیتی ہے، تاہم کسی بھی ناخوش گوار واقعے کا پورا الزام سویلین اداروں پر دھر دیا جاتا ہے۔ اس معاملے میں بھی فوج نے تمام تر ذمہ داری الیکشن کمیشن پر عائد کی ہے کہ فوج کی یہ بھاری تعیناتی الیکشن کمیشن کے کہنے پر ہو رہی ہے۔ یعنی اس معاملے میں اگر ساکھ خراب ہوتی ہے، تو وہ الیکشن کمیشن کی ہو گی اور اگر انتخابات بہتر انداز سے انجام پا گئے، تو اس کا کریڈٹ جی ایچ کیو کو چلا جائے گا۔

اس پریس کانفرنس میں تاہم چونکا دینے والی بات ایک ’صحافی‘ کا غیرعمومی سوال تھا۔ یہ بات تمام صحافی اور فوج کی میڈیا کووریج کرنے والے دوست جانتے ہیں کہ اس میں کن افراد کو شامل ہونے کی اجازت ہوتی ہے اور سوال کرنے کے لیے کن افراد کو منتخب کیا جاتا ہے۔ مگر عام افراد کو چوں کے معلوم نہیں، اس لیے انہیں یہاں بتانا ضروری ہے کہ فوجی ترجمان کی پریس بریفنگ کو کوور کرنے کی اجازت تمام صحافیوں کی نہیں دی جاتی، بلکہ صحافیوں کا انتخاب کیا جاتا ہے پھر ان کی جانب سے پوچھے جانے والے سوالات بھی پہلے دیکھے جاتے ہیں۔

تاہم اس پریس کانفرنس میں ایک صحافی کا سوال کچھ یوں تھا، ’’نوازشریف کا پتا بھی صاف ہوگیا ہے، زرداری کےگرد گھیرا تنگ ہو رہا ہے، لگے ہاتھوں عمران کا بھی کچھ کرلیں بعد میں اس ناسور سے جان نہیں چھوٹے گی۔‘‘

پریس کانفرنس میں یہ سوال پوچھا جانا، پی ٹی آئی کے حامیوں کے لیے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے۔ پہلی بات تو یہ کہ پریس کانفرنس سے قبل یہ سوال طے کیا گیا، یا اس سوال کو دیکھنے کے بعد بھی یہ طے کیا گیا کہ یہ سوال پوچھا جانا چاہیے۔

اس سے اس بات کا اندازہ بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جرنیل جو اس وقت عمران خان اور پی ٹی آئی کو استعمال کر رہے ہیں، وہ مستقبل میں عمران خان اور اس جماعت کے ساتھ کیا کچھ کرنے والے ہیں اور اس جماعت کے لیے جرنیلوں کے ہاں کتنی عزت ہے۔

اس پریس کانفرنس میں کچھ اہم سوالات جو ڈی جی صاحب سے پوچھے جانا چاہیے تھے، وہ غائب تھے۔ مثال کے طور پر پاکستان کا نام گرے لسٹ میں کیوں شامل ہوا؟ اب تک ایسے کون کون سے اقدامات کیے گئے، جن کی بنا پر یہ نام گرے لسٹ سے نکالنے میں مدد ملے گی؟

اسی طرح امریکا کا رویہ لمحہ بہ لمحہ پاکستان کی بابت سخت ہوتا جا رہا ہے اور اگر امریکا پاکستان پر مالی پابندیاں عائد کرتا ہے، تو اس کے لیے فوج کتنا تیار ہے۔

پریس کانفرنس میں تاہم جب فوجی ترجمان آصف غفور سے یہ پوچھا گیا کہ کالعدم جماعتوں کو انتخابات لڑنے کی اجازت مل گئی ہے اور وہ اعلانیہ طور پر اپنی انتخابی مہم میں مصروف ہیں، تو ان کا کہنا تھا کہ یہ الیکشن کمیشن کا کام ہے۔ حالاں کہ بہ طور سکیورٹی ادارہ وہ اس بابت اپنی رائے دے سکتے تھے، کیوں کہ امریکا کی جانب سے عسکری امداد کی بندش کی وجہ یہی بتائی گئی تھی۔
آصف غفور کی یہ ایک نہایت کم زور پریس کانفرنس تھی، جو فقط اس نکتے کے گرد گھومتی نظر آئی کہ کسی طرح وہ یہ تاثر زائل کر پائیں کہ فوج سیاست میں ملوث نہیں اور انتخابات میں اس کا کردار جانب دار نہیں، تاہم اس پریس کانفرنس سے لوگوں کو اطمینان کم ہوا ہے جب کہ ان کے شکوک و شبہات میں زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

اس پریس کانفرنس میں بھی ماضی کی طرح نہ کوئی سوال سیاسی انجینیئرنگ پر تھا، نہ لاپتا افراد پر ، نہ ماورائے عدالت قتل پر، نہ ایسے واقعات میں ملوث اہلکاروں کے سزاؤں پر، نہ مشرف کی واپسی پر، نہ مشرف کو ملک سے فرار کرانے میں مدد فراہم کرنے والے سابق جنرل راحیل شریف پر، نہ راؤ انوار کی ضمانت پر، نہ پشتون تحفظ موومنٹ پر، نہ بلوچوں پر، نہ سندھیوں کے احتجاج پر، نہ مہاجروں کے مسائل پر۔