عزیرسالار

پچھلے کئی دن سے لوگ شام کے سنگین حالات، سری دیوی کی وفات اور پاکستان میں بے بس اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے ساجد مسیح کی بہیمانہ موت پر ایک دوسرے پر طنز اور تشنیع کیے جا رہے ہیں۔ میں اسے مزید نظرانداز کر دیتا اگر یہ موضوع صرف سوشل میڈیا تک محدود رہتا لیکن سوشل میڈیا کے باہر بھی لوگ یہی موضوع ڈسکس کر رہے ہیں اور شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ آپ کو ساجد مسیح کی بہیمانہ موت کا تو بڑا دکھ ہے شام کے بچوں کا کیوں نہیں یا سری دیوی کی وفات پر کیوں غمزدہ ہیں؟

دیکھیں چیزوں کو خود سے سمجھنے کی صلاحیت پیدا کریں نہ کہ سوشل میڈیائی ہوا کے دوش پر اپنا آپ چھوڑ دیا کریں پھر وہ ہوا آپ کو جہاں لے جانا چاہے لے جا کر پٹخ دے- اس مسکین مسیحی کے ساتھ انسانیت سوز زیادتی ہمارے پیارے پاکستان میں ہوئی وہ ایک سہمی ہوئ برادری سے ہے، جو اپنے حق کے لیے بلند آواز میں نعرہ بھی نہیں لگا سکتی۔ پھر اس پر ظلم کرنے والے ہمارے اپنے لوگ ہیں ان کا ہاتھ روکنا ہمارے بس میں ہے ہم کوشش کر کے اس نظام کو اقلیتوں کے لیے محفوظ بنا سکتے ہیں، تو جو کام ہمارے دائرہ اختیار میں ہے وہی ہمارے لیے فرض کی سی حیثیت رکھتا ہے۔

جبکہ دوسری طرف شام میں عالمی سیاست اور سفاکیت عروج پر ہے، وہاں دنیا کے تمام بڑے ملکوں کے مفادات کا مکروہ کھیل کھیلا جارہا ہے، وہاں ہم اور آپ تو کیا ہماری حکومت اور فوج بھی کچھ نہیں کر سکتی سوائے سبق سیکھنے کے۔ لیکن ہم تو شام سے سبق سیکھنے کو بھی تیار نہیں، ہم اپنی شقاوت قلبی سے پاکستان کو بھی خدانخواستہ ایک اور شام بنانے جا رہے ہیں۔

دیکھیں جب آپ خود جل رہے ہوں تو فائربرگیڈ میں نوکری کی مجاہدانہ خواہش کے بجائے اپنے آپ کو محفوظ مقام تک پہنچانا آپ کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ آپ اگر بچ جائیں گے تو یہی فائر فائٹرز پر آپ کا احسان ہوگا کہ انہیں آپ کی وجہ سے ایک اور مسئلے کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

رہی بات سری دیوی کی تو بھئی دماغی امراض کے اچھے ہسپتال بنانے پر توجہ دیں کیونکہ آپ دوسروں کی بالکل ذاتی چیز کو عالمی سیاست کے ساتھ مکس اپ کر رہے ہیں۔کیا شام کے بچوں پر بمباری کے بعد آپ کے بہن بھائی یا بچے سکول نہیں گئے؟ انہوں نے اچھا صحت بخش کھانا نہیں کھایا؟ انہوں نے کھیلنا اور ہنسنا چھوڑ دیا؟ خود آپ نے کیا اپنی ضروریات زندگی پوری کرنا چھوڑ دیں؟

سری دیوی ایک پرفارمر تھیں۔ انہوں نے اپنے لازوال فن سے لوگوں کو حقیقی خوشیاں دیں، شکرگزار لوگوں کو اس سے ہمدردیاں ہیں اور اس میں ایسی کوئی قباحت نہیں جس سے کسی دوسرے کو تکلیف ہو۔ یہ فرد کی ذاتی زندگی کا ایک بالکل نجی معاملہ ہے اس پر اعتراض کرنا حماقت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔

ایک دوسرے سے متضاد چیزوں کو آپس میں ریلیٹ کرنے سے باز آئیں۔ہر چیز کو اس کی جگہ پر رکھ کر بالکل آزادانہ رائے قائم کرنا سیکھیں اور یہ بھی سمجھنے کی کوشش کریں کہ دنیا کے مسائل اتنے سیدھے نہیں ہوتے جتنا سیدھا آپ کے چھوٹے سے دماغ کا فتور ہے جو فیس بک کے پروپیگنڈہ پیجز کو فالو کر کے یونیورسل ٹروتھ کی سی رائے قائم کرتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here