عاطف توقیر

گزشتہ روز نواز شریف کے فیصلے سے متعلق میں نے متعدد ٹوئٹس کیں اور اس بابت مجھے ایک تبصرے کا سامنا رہا کہ عدالت نواز شریف کو اتنی سخت سزا دے رہی ہے، تو آپ نواز شریف کی حمایت کیوں کر رہے ہیں؟ یا کیا آپ کو تعلق ن لیگ سے ہے؟

یہ مضمون لکھنا اس لیے پڑ رہا ہے کہ اس طرز کے جملے آپ کو بھی درست بات کرنے پر سننے کو مل سکتے ہیں اور یہ ضروری ہے کہ آپ کو حقائق کا علم ہے۔

کچھ برس قبل جب نواز شریف کالا کوٹ پہن کر پیپلز پارٹی کے یوسف رضا گیلانی کی حکومت ختم کرانے کے لیے عدالتوں کے چکر لگا رہے تھے اور اس وقت میں نواز شریف پر تنقید کر رہا تھا، تو مجھے ن لیگ کے حامیوں کے جانب سے اکثر سننے کو ملتا تھا کہ آپ ایک ’چور کو بچانے کے لیے سوئس حکام کو خط نہ لکھنے والے یوسف رضا گیلانی‘ کی حمایت کر رہے ہیں، اس لیے یقیناﹰ آپ کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے۔

ہمارے ہاں ایک طرف پوری قوم یہ رونا روتی نظر آتی ہے کہ لوگ منافق ہیں اور سچ نہیں بولتے اور دوسری طرف سچ بولنے والوں کو شدید ترین الفاظ کا سامنا بھی اسی فکری قحط کے شکار افراد کی حامل قوم ہی سے رہتا ہے۔

پہلی بات تو یہ کہ نواز شریف کی کرپشن یا ان کی سزا بنیادی مسئلہ نہیں۔ زیادہ سنگین مسئلہ یہ ہے کہ یہ سزا دی کیوں گئی؟ کیا یہ سزا اس لیے دی گئی کہ انہوں نے کرپشن کی تھی؟ یا اس کے درپردہ حقائق کچھ اور ہیں۔ اگر کرپشن ہی سزا کی بنیادی وجہ ہوتی اور ملک میں کرپشن کے خلاف کریک ڈاؤن شروع ہوتا (جو کہ ضرور ہونا چاہیے) تو زمینی حقائق بے انتہا مختلف ہوتے۔ ایسی صورت میں انصاف بلاتخصیص ہوتا نظر آتا اور سیاست دانوں، افسروں، ججوں، جرنیلوں، وکیلوں، صحافیوں اور ہر ہر طبقے کے خلاف ایک قومی لہر دکھائی دیتی۔

ہماری اشرافیہ نہایت چالاک ہے اور اسے نہ صرف کرپشن کرنے کا پتا ہے بلکہ یہ بھی پتا ہے کہ کرپشن کس انداز سے کی جائے کہ پکڑی نہ جائے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ یہ کرپشن ہو کیوں رہی ہے؟ اور کیا کرپشن پاکستان کا کلیدی مسئلہ ہے؟
میری رائے میں کرپشن پاکستان کے کلیدی مسائل کی وجہ سے پیدا ہونے والے ضمنی مسئلہ ہے اور اس کی وجہ ہے یہاں اداروں کا مضبوط نہ ہونا۔

دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا نواز شریف یا کسی اور شخص کو کرپشن کی اجازت ہونا چاہیے؟ کیا نواز شریف کو کرپشن کرنے پر (جو عدالتی فیصلے کے مطابق ثابت نہیں ہوئی تاہم لندن فلیٹس کی منی ٹریل مہیا نہ کرنے پر فیصلہ سنایا گیا) سزا ہونا چاہیے؟ اس کا جواب بہت سادہ سا اور اصولی ہے کہ نواز شریف ہو یا کوئی بھی دوسرا شخص جو جو کرپشن میں ملوث ہو اسے ضرور سزا ملنا چاہیے۔
لیکن کیا یہ سزا نواز شریف کو کرپشن پر ہی ملی؟ اس کا جواب ہے کہ نہیں اس لیے کہ کرپشن کے الزامات زرداری، شرجیل میمن، ڈاکٹر عاصم، جنرل مشرف، جنرل کیانی، جنرل پاشا اور جانے کتنے دیگر افراد پر ہیں مگر انہیں تمام تر مقدمات سے باعزت بری کر دیا گیا۔ تو پھر اگلا سوال یہ ہے کہ نواز شریف کو یہ سزا دینے کی وجہ کیا تھی؟

اس سوال کا جواب ہمیں پچھلے کچھ برسوں میں پاکستان میں ہونے والی سیاسی تبدیلیوں سے مل سکتا ہے۔ نواز شریف کو جنرل کیانی پوری حمایت کے ساتھ وزارت عظمیٰ تک لائے تھے اور یہ حمایت نواز شریف کو فوجی جرنیلوں کی جانب سے کئی دہائیوں سے ملتی رہی ہے۔ تاہم مشرف کے دورِ اقتدار میں سن 2007 میں جب مشرف نے وکلا تحریک کو کچلنے کے لیے ملک میں دوسری مرتبہ مارشل لا نافذ کیا تو وہ پٹ گیا اور عوام نے اسے مسترد کر دیا۔ فوج نے میڈیا اور صحافیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا، تو صحافتی برادری اور وکلا نے اسے بھی مسترد کر دیا۔ ملک میں ہونے والے مسلسل ڈرون حملوں کی وجہ سے فوج کو ماضی کے مقابلے میں عوام میں مقبولیت میں کمی کا سامنا تھا۔ ایسے میں فوجی جرنیل خاصے دفاعی پوزیشن میں تھے۔ اسی صورت حال میں جب سن 2011 میں اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں ہلاکت کا واقعہ پیش آیا، تو فوج کو عوامی سطح پر پہلی مرتبہ شدید ترین تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور یہی وہ وقت تھا کہ اقتدار پر دوبارہ قبضے کے لیے دوبارہ سے پرانا راستہ اختیار کیا گیا۔

اس واقعے کے بعد میمو گیٹ اسکینڈل اور پھر زرداری کے خلاف کرپشن کے مقدمات شروع ہو گئے اور ایسے میں نواز شریف کو زرداری کے خلاف پیپلز پارٹی کی منتخب حکومت کے خلاف استعمال کیا گیا۔

اس کے انعام کے طور پر سن 2013ء میں نواز شریف کو حکومت عطا کر دی گئی اور اس کے لیے کیانی کی سربراہی میں فوج نے کئی طریقوں سے مسلم لیگ نون کی مدد کی۔ ایک طرف تو پیپلز پارٹی کو سزا دی گئی اور دوسری جانب طالبان اور کالعدم جماعتوں کے حملوں اور دھمیکیوں کے ذریعے ملک میں دستور کی بالادستی کے لیے آواز اٹھانے والی جماعتوں کی انتخابی سرگرمیوں کو محدود کر کے مسلم لیگ نون کے لیے راستہ ہم وار کیا گیا۔ ساتھ ہی ساتھ پی ٹی آئی کو بھی تیار کیا گیا اور یہی وقت تھا، جب پاکستان تحریک انصاف کے نظریے اور بیانے میں نمایاں تبدیلیاں ہونے لگیں۔

نواز شریف کے دور میں راحیل شریف کی شکل میں فوج کو ایک مرتبہ پھر اقتدار پر گرفت اور اسامہ بن لادن جیسے واقعات کی وجہ سے پریشانی کے شکار جی ایچ کیو کو دوبارہ طاقت کے راستے پر ڈالا گیا اور اس کے لیے عوام میں مقبولیت حاصل کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر ’شکریہ راحیل شریف‘ جیسی اشتہار بازی دکھائی دی۔

اس دوران مسلم لیگ نواز کی جانب سے کسی قدر مزاحمت بھی نظر آئی، جو فوج کے اس طرح عوامی حمایت حاصل کرنے کی ڈگر کے خلاف چہ مگوئیاں کر رہی تھی۔

اس کے بعد چند ایسے واقعات ہوئے، جو نواز حکومت اور فوج کے درمیان خلیج پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر گئے۔ ایک طرف تو یمن میں فوج بھیجنے کا معاملہ تھا، جس میں راحیل شریف سعودی درخواست پر پاکستانی فوج یمن بھیجنے پر رضامندی تک ظاہر کر چکے تھے، تاہم نواز شریف حکومت کا موقف تھا کہ ایسی صورت میں پاکستان میں فرقہ ورانہ فسادات جنم لے سکتے ہیں کیوں کہ یمن میں ایران اور سعودی عرب ایک پراکسی جنگ میں مصروف ہیں اور پاکستانی فوج کا ایسے میں کسی ایک فریق کا ساتھ دینا اس جنگ کو پاکستان لے آئے گا۔ پارلیمان کے ذریعے راحیل شریف کا راستہ روکا گیا اور یہی معاملہ تھا کہ سعودی عرب میں دہشت گردی کے خلاف کانفرنس (جس میں ٹرمپ تشریف لائے تھے) میں نواز شریف کو اپنی تقریر میں ایران کی مذمت کے الفاظ شامل نہ کرنے اور تقریر کو فقط انسدادِ دہشت گردی پر مرکوز رکھنے کی پاداش میں تقریر ہی کرنے نہ دی گئی۔

اس کے بعد ڈان لیکس کے معاملے پر نون لیگ کا موقف کہ ’گڈ طالبان‘ اور کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کی جانا چاہیے، جب کہ اس بابت فوجی اشرافیہ کو متضاد موقف ان دوریوں میں مزید اضافے کا باعث بنا۔ اسی دوران عمران خان کی پارٹی کو پہلے دھاندلی والے دھرنے اور پھر پانامہ لیکس معاملے پر احتجاج کے لیے استعمال کیا گیا۔

ہماری یادداشت کم زور ہے ورنہ پاناما لیکس کے بعد پیراڈئز لیکس میں متعدد جرنیلوں کے نام بھی آف شور کمپنیوں اور منی لانڈرنگ کے زمن میں سامنے آئے تھے، تاہم یہ معاملہ میڈیا اور قومی بحث ہی میں نہ لایا گیا۔

تو بات یہ ہے کہ کرپشن پر سزا کے ہم سبھی حامی ہیں۔ ہر وہ شخص جو قوم کی دولت لوٹے اسے ضرور سزا دی جانا چاہیے۔ اختلاف یہ ہے کہ فوجی جرنیل اقتدار پر قبضہ نہ چھوڑنے کے لیے کرپشن کا معاملہ استعمال کرتے رہے ہیں اور کر رہے ہیں۔ ایک طرف خود ہی جمہوری رہنماؤں کو سیاسی دھارے سے الگ کر کے اپنی پسند کے لوگ بہ طور رہنما قوم کے سامنے لائے جاتے ہیں اور پھر جوں ہی ان میں سے کوئی وقت گزرنے پر اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی کوشش کرے، اس انداز کے معاملات پیدا کر کے ان کی جگہ دیگر مصنوعی سیاست دانوں کو لاکھڑا کیا جاتا ہے۔

مشرف کو وردی میں صدر منتخب کرنے والی مسلم لیگ قاف اس وقت پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑی ہے۔ فوج کو خوش کرنے کے لیے یوسف رضا گیلانی سے وزارت عظمیٰ چھیننے والے نواز شریف ٹھیک ویسے ہی عمل کے ذریعے عمران خان اور پی ٹی آئی کے ہاتھوں وزارت عظمیٰ کھو چکے ہیں اور اب ہر جانب عمران خان اور پی ٹی آئی کے نعرے بج رہی ہے۔ بالکل ویسے ہی نعرے جیسے نوے کی دھائی میں ’اسلامی جمہوری اتحاد‘ نامی ایک مصنوعی سیاسی تحریک کے لیے گونجا کرتے تھے۔

مسئلہ یہ ہے کہ جب تک ہم اس ملک میں دستور کی بالادستی اور قانون کی حکم رانی کی راہ ہم وار نہیں کرتے، جب تک ہم ملک میں سویلین سپریمیسی کو یقینی نہیں بناتے، جب تک ہم عوام کے حق حکم رانی کو تسلیم نہیں کرواتے، تب تک ہم اسی انداز کے ڈرامے دیکھتے رہیں گے۔ میڈیا، صحافی، ادارے، عدالتیں سب کے سب ستر برس سے انہیں جرنیلوں ہی کے ہاتھ میں ہیں اور انہی کی بنائی ہوئی پالیسیوں کو یہ قوم بھگت رہی ہے۔

تو بات نہایت سادہ ہے۔ میں نے پوری زندگی نواز شریف کی مخالفت کی۔ بالکل اسی طرح جس طرح ضیا کی کی، بالکل اسی طرح جس طرح ہم سے پہلے کی نسل نے بھٹو کے مقابلے میں مذہبی جماعتوں کے مصنوعی اتحاد کی تحریک کی کی تھی، بالکل اسی طرح جس طرح لوگوں نے مجیب الرحمان کے مقابلے میں بھٹو کی کی تھی، بالکل اسی طرح جس طرح سوچنے سمجھنے والے اور اس قوم کے ہم درد لوگوں نے محترمہ فاطمہ جناح کے مقابلے میں ایوب خان کی کی تھی۔

تاریخ آج اپنے آپ کو پھر دوہرا رہی ہے۔ اس وقت صرف اور صرف اس وقت اپنے تمام تر بھیانک ماضی، کم زور سیاست اور نادرست نظریات کے باوجود نواز شریف کا بیانیہ درست ہے۔ ملک کو ترقی دینا ہے، تو اس ملک میں جمہوری اداروں کی مضبوطی اور سویلین سپریمیسی کو عزت دینا پڑے گی۔

دوسری صورت میں کرپشن کا مقدمات کھلتے رہیں گے، قوم اسی انداز سے مزید ستر سال دنیا بھر میں حقارت کا نشانہ بنتی رہی گی۔ انصاف پر یقین اس وقت کیجیے گا، جب اس ملک کو توڑنے والے، اس ملک کو غیروں کی جنگوں میں جھونکنے والے، اس ملک کی سرزمین پر فوجی اڈے امریکا کو دینے والے، اس ملک کے شہریوں کو ڈالر لے کر گوانتا نامو بھجوانے والے اور اس ملک کی سلامتی اور سالمیت کو خطرے میں دوچار کرنے والے جرنیلوں کو سزا مل جائے گی۔ انصاف پر یقین اس وقت کیجیے گا، جب نظریہ ضرورت کے تحت فیصلے دینے والے، دستور کو پامال کرنے والے جرنیلوں سے حلف اٹھانے والے اور انصاف کی بجائے مصلحت کے تحت فیصلے دے کر اس قوم کے مستقبل کو تباہ کرنے والے انصاف کے کٹہرے میں ہوں گے۔ انصاف پر یقین اس وقت کیجیے گا، جب میڈیا ہاؤس کو لالچ اور صحافیوں کو لفافے دے کر ان سے اپنی تعریفیں کروانے والے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوں گے۔

دوسری صورت میں تباہی کے نئے ادوار ہمارے منتظر ہیں اور ہمارے پاس اپنے بچوں کے سوالات کے جوابات دینے لائق کوئی مناسب جملہ بھی نہیں ہو گا۔ اس کی مثال یہ ہے کہ کل یوسف رضا گیلانی کو اقتدار سے باہر پھینکنے والے آج نواز شریف کا سوگ منا رہے ہیں اور آج نواز شریف کو اقتدار سے باہر پھینکنے والے کل عمران خان کا ایسا ہی سوگ منائیں گے۔