وقاص احمد

صاحبان گرامی
آج کا کالم ایک محلے “اسلام پورہ” کی کہانی پر مبنی ہے۔
اسلام پورہ ایک درمیانے درجے کا متوسط طبقے کا محلہ تھا، چند ایک امیر لوگوں کے گھر بھی تھے جو متوسط اور غریب لوگوں سے زیادہ میل ملاپ نہیں رکھتے تھے۔ اسلام پورہ کے لوگ پر جوش، خوش باش، اپنے حال میں مست اور زندہ دل تھے۔ مگر ہر پرانے محلے کی طرح اس میں سیاستیں، سازشیں اور چھوٹے موٹے لڑائی جھگڑے بھی رہتے تھے۔

اسلام پورہ کا سب سے نمایاں گھر محلے کی ایک نکڑ پر تھا۔ یہ عظیم الشان گھر ایک بدمعاش کا تھا جس کا نام تو سالار خان تھا مگر لوگ عرف عام اسے کھوجی بدمعاش کہتے تھے۔ کھوجی بدمعاش ایک پرسرار کردار تھا، کہنے کو تو اس کے محلے میں کسی سے بھی تعلقات نہیں تھے مگر نجی محفلوں میں ہر بندہ بڑے فخر سے کھوجی بدمعاش کے ساتھ اپنے تعلقات کا ذکر کرتا تھا۔ محلہ کمیٹی کے بابوں کا سرپنچ ہو یا پھر کریانہ فروش ایسوسیشن کا لیڈر، محلے کی دائیوں سے لیکر مولوی صاحبان تک سب سے کھوجی بدمعاش کے تعلقات تھے۔ کھوجی کا ذریعہ معاش نامعلوم تھا لیکن ساتھ کے علاقوں میں اس کی دادا گیری کے قصے اس کی دہشت بڑھاتے رہتے تھے۔ سو محلے والوں سے اس کاتعلق احترام کی نسبت خوف کا زیادہ تھا۔ خوف کی وجہ سے دلوں میں نفرت بھی تھی لیکن ڈر کے مارے کوئی اظہار بھی نہیں کرتا تھا۔ جس بندے سے کھوجی بدمعاش ہنس کر بات کر لیتا وہ تو خوشی سے نہال ہوتا پھرتا اور باقی سارا محلہ حسد، جلن، نفرت کے مارے جل بھن جاتا۔

محلے کی سب سے بڑی ایکٹیوٹی ہر سال محلہ کمیٹی کے سربراہ کا چناؤ ہوتا۔ خوب رونق لگتی، خوب جوڑ توڑ لگتا، خوب کمپئین چلتی۔ ایک میلہ سا سج جاتا۔ اس الیکشن میں بھی کھوجی بدمعاش کا کردار بہت مشکوک ہوتا۔ لوگ کہتے تھے کہ کھوجی پیسے، دھونس، ڈر اور دھمکیوں کا سہارا لیکر اس الیکشن پر اثر انداز ہوتا ہے۔ مگر یہ صرف سرگوشیوں کی باتیں تھیں۔ کھلم کھلا کوئی بات نا کرتا۔ جیتنے والے بندے پر ہمیشہ منفی ہتھکنڈوں، پیسے کے استعمال اور کھوجی بدمعاش کی درپردہ اعانت کا الزام لگتا اور ہفتہ دو ہفتے میں سب بھول جاتے۔ محلہ کمیٹیوں کے سربراہ بدلتے رہے مگر ہر دفعہ الزامات وہی رہتے۔

ایک دن محلے میں کوئی بزرگ عالم تشریف لائے۔ بڑے بوڑھوں کے ساتھ بیٹھک ہوئی۔ گفتگو تو شرعی مسائل پر ہی چل رہی تھی کہ پھیلتے پھیلتے محلے کی سیاست تک آگئی۔ بزرگوں نے رونا رویا کہ ہمیں کبھی کوئی مخلص، صادق و امین، نیک، شریف اور ویژنری سربراہ نہیں ملا۔ لوگ جوڑ توڑ کر کے اور کھوجی بدمعاش کی آشیر باد سے سربراہ بن جاتے ہیں۔ بزرگ نے خاموشی سے ساری باتیں سنیں اور دھیمے لہجے میں بولے، “دیکھو بھائی اگر تم ایک انسان میں یہ تمام خصوصیات تلاش کر رہے ہو تو یہ ناممکن ہے، انسان ہو تو انسانوں کی خوبیوں خامیوں کے پیکج میں سے اپنے لیے کوئی پیکج پسند کرو اور پھر جس کو پسند کر لو اس کی اچھائیوں سے فائدہ اٹھاؤ اور اس کو موقع دو کہ وہ تم لوگوں کے لیے کچھ بہتر کر سکے”. محلے کے بابے یہ سن کر بہت مطمئن ہوئے، پھر کوئی بولا کہ لوگ تو اس انتخاب پر مختلف طریقے سے اثر انداز ہو کر جیت جاتے ہیں، اب دیکھیں اگر کوئی کھوجی بدمعاش کی اعانت سے آئے گا تو وہ پھر اسی کے مفادات کا خیال رکھے گا ناں؟ اس کا کیا کریں؟ بزرگ نے جواب دیا کہ اس سوال کا جواب آپ کو ایک حکایت سے مل جائے گا اگر آپ نے وہ واقعہ سنا ہو جس میں گاؤں کے کنوئیں میں کتا گر گیا تھا اور محلے والوں نے ایک عالم دین سے اس پانی کو پاک کرنے کا شرعی حل معلوم کیا تھا۔ ایک دو بابے جلدی سے بولے جی جی ایسی صورت میں 40 ڈول پانی کے نکالنے چاہیں وغیرہ وغیرہ اس کے بعد پانی پاک ہوجاتا ہے۔ بزرگ نے مطمئن ہو کر کہا کہ ہاں پھر تو آپ کو حل معلوم ہے۔ اسی سے رہنمائی لیں۔ محلے والوں نے بزرگ کا شکریہ ادا کیا اور وہ چلے گئے۔

7-8 سال بعد بزرگ کا اس محلے سے پھر گزر ہوا۔ پرانی باتیں چلیں تو بزرگ نے یاد کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا پھر اس حکایت نے آپ لوگوں کو ایک بہتر لیڈر ڈھونڈنے میں رہنمائی کی؟ بابوں نے جواب دیا، “کہاں جی، ہم تو پانی کے ڈول نکال نکال کر تھک گئے ہیں۔ 8 سال میں 8 بندے تبدیل کر لیے آج بھی کھوجی بدمعاش کی پشت پناہی والا بندہ ہی الیکشن جیت جاتا ہے”

بزرگ نے افسوس سے سر ہلایا اور بولے، “اگر آپ نے اس دن میری بات مکمل سن لی ہوتی تو حکایت میں چالیس ڈول پانی نکالنے کے حکم سے پہلے کتا باہر نکالنے کا بھی حکم تھا۔ آپ نے کتا باہر نکالا؟”
محلے کے بابے بزرگ کی بات پر ششدر رہ گئے کہ اتنی سادہ بات بھی وہ سمجھ نا پائے۔ شرمندگی سے ایک دوسرا کا منہ تکا اور نظریں نیچے کر کے بولے “اوہ، اب سمجھے۔۔ کتا نکالنے کا تو خیال بھی ہمیں نہیں آیا”.
تو میرے عزیز ہم وطنو۔

یہ نصیحت کی بات پلے باندھ لو، صرف ڈول بھر بھر نکالنے سے پانی پاک نہیں، پہلے کتا نکالنا پڑتا ہے۔ پاکستان پائندہ باد