عاطف توقیر

ہماری ستر سالہ بدقسمتی یہ ہے کہ جب بھی کوئی شخص ریاستی بیانیے پر سوال اٹھائے اور لوگوں کو خواب خفلت سے بیدار کرے، فوراﹰ کسی کونے سے آواز آتی ہے آپ ملک کا امیج خراب کر رہے ہیں۔ یعنی ہم نے مسائل کو ختم نہیں کرنا بلکہ ان پر خاموشی کی مٹی ڈال کر کسی شتر مرغ کی طرح ریت میں منہ دبا کر رکھنا ہے کیوں کہ اس تباہی پر چیخنے سے ملک کا امیج خراب ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ مسائل جوں کے توں رہیں اور ہماری ہڈیوں کا گودا تک نکال کر کھا لیا جائے، ہمارے بچوں کا مستقبل برباد کر دیا جائے، مگر آواز تک نہ نکلے۔

شرمین عبید چنوئے نے خواتین پر تیزاب پھینکے کے واقعات پر فلم بنائی تو اس ملک میں بحث یہ نہیں تھی کہ اس ظلم کو کیسے روکا جائے، شور یہ تھا کہ اس سے تو ملک کا امیج خراب ہو گئے۔ خواتین کا چہرہ اور زندگی برباد ہوتی ہے، تو ہوتی رہے، ہم غیرت مند جو ہیں۔

کسی نے لڑکیوں کی تعلیم کے لیے آواز اٹھائی، تو اس بات پر گفت گو کرنے کی بجائے کہ بچیوں کی تعلیم ملک کی ترقی اور مستقبل کے لیے نہایت ضروری ہے۔ کوئی ضیاالحق کی تیار کردہ مطالعہ پاکستان کا ڈسا محب وطن پکارا یہ ملک کا امیج خراب کرنے کی بین الاقوامی سازش کا حصہ ہے۔

کسی نے صحت کے شعبے کی بربادی پر بات کی، کسی نے ملک میں شدت پسندی پر ریاستی عناصر کی آشیرباد کا ذکر کیا، کسی نے بلوچوں، سندھیوں، مہاجروں، سرائیکیوں، کشمیریوں، گلگت بلتستان کے باسیوں، یا پشتونوں حتی ٰ کے پنجاب کے متعدد علاقوں میں بسنے والوں کے حقوق پر بات کی، تو صحت کے شعبے میں اصلاحات، شدت پسندی کے انسداد یا حقوق کی عدم دستیابی پر بات چیت ہمارے پیش نظر نہیں تھی، بلکہ مدعا یہ تھا کہ یہ بات کر کے اصل میں اس سے ملک کا تشخص خراب کیا جا رہا ہے اور مسائل پر آواز اٹھانے والے نے ضرور کسی دوسرے ملک کے خفیہ ادارے سے پیسے پکڑ لیے ہیں۔

پھر ایک اور بیانیہ آج کل ایوان حکم و اقتدار سے ہمارے کانوں کی زینت ہے اور وہ یہ کہ کسی بھی مسئلے کی جانب کوئی شخص توجہ دلائے، تو فوراﹰ کہیے کہ پاکستان ایک گھر ہے اور ہم سب اس گھر کے باسی اور گھر کے لوگ اپنے مسائل پڑوسیوں کو نہیں بتاتے، کیوں کہ اس سے گھر کا امیج خراب ہو جاتا ہے۔ مقصد پھر وہی ہے کہ بات مت کیجیے۔ یعنی گھر کے لوگوں سے بات کرنے کا کوئی معجزاتی طریقہ ڈھونڈ لیا جائے اور کسی بھی عوامی فورم پر بات نہ کی جائے۔

ملک کے وردی پوش حاکموں کی جانب سے آج کل تیسری طریقہ واردات یہ ہے کہ زرخرید دفاعی تجزیہ کاروں کی شکل میں مسخروں کو پیسے دے کر ’ففتھ جنریشن وار‘ کا نعرہ لگا دیا جائے، یعنی اگر کوئی شخص بہ طور شہری کسی ریاستی پالیسی یا حکمت عملی پر تنقید کرے تو فوراﹰ اسے غیرملکی ایجنٹ قرار دیا جائے اور ملک کی بربادی کی ذمہ دار پالیسیوں پر نظرثانی کرنے کی بجائے ایسی آوازوں کو خاموش کرایا جائے، تو عوامی شعور میں اپنا حصہ ملا سکتی ہیں۔

یعنی پاکستان کا پاسپورٹ دنیا کے بدترین ممالک میں شامل ہو جائے، تو ملکی امیج خراب نہیں ہو گا، مگر آپ نے جس دن اس بربادی کا تذکرہ کیا، تو ملک کا تشخص برباد ہو جائے گا۔ پاکستان صحافیوں پر حملوں اور تشدد کے اعتبار سے دنیا کا خطرناک ترین ملک بن جائے، لیکن اگر آپ نے اس موضوع پر بات کی، تو ملکی تشخص کی دھجیاں اڑ جائیں گی۔ پاکستان میں عالمی دہشت گرد امریکی حملوں میں مارے جائیں، تو ملک کا تشخص بحال رہے گا لیکن آپ نے جس روز ان دہشت گردوں کی ملک میں موجودگی پر سوال اٹھایا، آپ ریاستی اداروں کی نگاہ میں ملک کے تشخص کو تباہ کرنے کے مشن پر سمجھے جائیں گے۔ داخلی سلامتی کے اعتبار سے پاکستان کا شمار نائجیریا، یوگینڈا اور صومالیہ کے ساتھ ہونے لگے، تو چلے گا، مگر آپ نے اگر اس بین الاقوامی رپورٹ کا ذکر کیا، تو اسے ملک کے امیج پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

خفیہ اداروں کے ہاتھوں غیرقانونی طور پر لاپتا کئے جانے والے افراد واپس لوٹیں، چیخ چیخ کر کہیں کہ انہیں ان اداروں نے اٹھایا، اپنے جسموں پر تشدد کے نشانات دکھائیں اور جواب میں ریاستی اداروں کے ہاتھوں اغوا کے ان واقعات کی مذمت کرنے کی بجائے، فوراﹰ کوئی زور سے کہے گا کہ یہ پاکستان کے امیج کو خراب کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔

ملکی میڈیا پر اس عسکری اسٹیبلشمنٹ کا مکمل قبضہ ہے اور درست اطلاعات اور معلومات تک رسائی ایک منظم انداز سے کنٹرول کی جاتی ہے۔ عوام تک بیانیہ وہی پہنچتا ہے، جو جی ایچ کیو طے کر لیتا ہے۔ ٹھیک یہی بے خبری ہم نے سن 1971 میں دیکھی تھی، جب جنرل نیازی نے دشمن کے سامنے ہتھیار ڈالنے والے پہلے مسلمان جنرل کا اعزاز اپنے نام کرنے سے چند گھنٹے قبل سینہ پھلا کر کہا تھا کہ وہ آخری سانس تک لڑیں گے اور ہمارا مشرقی بازو کٹ جانے اور نوے ہزار سے زائد فوج قید ہو جانے کے وقت بھی ریڈیو پاکستان سے ’جنگ کھیڈ نئیں اے زنانیاں دے‘ جیسا گانا چلایا جا رہا تھا۔ اس تباہی کی وجوہات، ذمہ داروں کا تعین اور اس سے سبق کی بات کوئی مفصل معلومات آج تک اس قوم کو نہیں بتائی گئی۔

پیرس دہشت گردوں کی مالی معاونت کے انسداد کی ٹاسک فورس نے پاکستان کو دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے والے زیرنگرانی ممالک کی فہرست میں شامل کر دیا۔ اس سے پہلے وزیرخارجہ خواجہ آصف صاحب ’تین مہنیے کے لیے بچ گئے‘ کا اعلان کر کے قبل از وقت لڈیاں ڈال رہے تھے۔ اس حوالے سے ہونے والی ووٹنگ میں سی پیک والے چین اور فوج مانگنے والے سعودی عرب تک نے پاکستان کا ساتھ نہیں دیا۔ اس سے پاکستان کی پہلے سے لڑکھڑاتی اقتصادیات کو کتنا نقصان پہنچے گا اور غریب عوام کو اس کا کتنا بوجھ اٹھانا پڑے گا یہ عوام جانیں۔ دہشت گردوں کو اپنا اثاثہ سمجھنے والے اور ان سانپوں کو پالنے والے ان پابندیوں سے ذرا بھی متاثر نہیں ہوں گے، ان کا دھندا پوری رفتار سے چلتا رہے گا۔

یہاں دو سوالات ہیں، جو آپ سب سے پوچھے جانا چاہیئں۔ اگر ہم دہشت گردوں کی مالی معاونت نہیں کر رہے، ان کو اثاثہ نہیں سمجھ رہے، ان کے سروں پر ریاست کا ہاتھ نہیں ہے، تو چین اور سعودی عرب جیسے دوست ممالک بھی آخر پاکستان کا ساتھ دینے سے پیچھے کیسے ہٹ گئے۔ ہم تو عربوں کے دفاع میں پیش پیش ہیں، مگر عرب کن وجوہات کی بنا پر ہمارا سفارتی دفاع نہ کر سکے؟

اور دوسرا سوال کیا اس نئی تباہی کی ذمہ داری فوجی اشرافیہ اور اس کی پالیسیوں پر ڈالنے سے پاکستان کا امیج خراب ہو جائے گا؟ یعنی پاکستان کا امیج اس فہرست میں آنے سے خراب نہیں ہوا بلکہ اس پر بات کرنے سے خراب ہو گا؟ اگر ایسا ہے، تو آئیے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لیں۔