عاطف توقیر

میرا ایک نہایت عمدہ دوست عامر کل مجھ سے ملا۔ نہایت پڑھا لکھا ہے اور اپنی مدلل گفت گو اور ٹھہراؤ کے باعث مجھے نہایت پسند ہے۔ مگر گفت گو ہوئی تو اس کی جانب سے پشتونوں کی تحریک سے متعلق کچھ اس انداز کے سوالات یا ابہام دیکھنے کو ملے، جو یہ بتا رہے تھے کہ وہ بھی میڈیا پر پھیلائی جانے والی کچھ نادرست باتوں کے اثر میں ہے۔ اور اگر اس جیسا پڑھا لکھا شخص ایسے بیانیوں کا شکار ہو سکتا ہے، تو پھر ایک کم پڑھا لکھا انسان یا ان پڑھ شخص، جس کی معلومات کا زیادہ تر انحصار میڈیا پر ہوتا ہے، اس کا کیا حال ہو گا۔

پشتونوں کی تحریک اور مطالبات واضح ہیں۔ ان کے بدترین دشمن بھی مانتے ہیں کہ مطالبات درست ہیں۔ سوال یہ ہے کہ پھر ایک بڑے طبقے کو اعتراض کیا ہے؟

اس کا جواب ایک منظم پروپیگنڈا مہم کی وجہ سے پیدا کی جانے والی کنفوژن ہے۔ اس بابت عام افراد جو ٹی وی دیکھ کر اپنی رائے بناتے ہیں، ان کے ذہنوں میں کچھ سوالات پیدا کر دیے گئے ہیں اور بدقسمتی سے ہمارے ہاں لفافوں پر مبنی صحافت اور نشریاتی اداروں کے تجارتی مفادات میڈیا کے ’خیالات کی آزاد منڈی‘ کے بنیادی تصور سے ہٹ کر یک طرفہ طور پر دی گئی ہدایات کو حتمی رائے سمجھتے ہوئے عوام تک پہنچا دیتے ہیں اور چیزوں کو اتنا آلودہ کر دیتے ہیں کہ بات سمجھ ہی سے بالا ہو جاتی ہے۔ آئیے ان سوالات کو ایک ایک کر کے مدلل انداز سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

پہلا اور عمومی سوال یہ ابہام یہ ہے، جس کا اظہار فوجی سربراہ جنرل قمر باجوہ صاحب نے بھی کیا، کہ اس تحریک کو افغانستان کی مدد حاصل ہے۔

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اس تحریک کی جانب سے مطالبات آپ کے سامنے ہیں اور کسی ریاست کے لیے یہ انتہائی آسان معاملہ ہوتا ہے کہ وہ جب بھی کسی تحریک یا جماعت یا گروہ کی جانب سے مطالبات کو دیکھے، تو سب سے پہلے یہ دیکھے کہ آیا یہ مطالبات دستور کے دائرے میں ہیں یا اس سے باہر ہیں۔ دستور کے دائرے میں ہیں، تو ان پر عمل درآمد کی کوشش کی جائے اور دستور سے باہر ہیں، تو انہیں سختی سے مسترد کیا جائے۔ اور اس حوالے سے عوام کو بتانے کے لیے یہ بات کافی ہے کہ فلاں مطالبہ دھرتی کے قانون کے خلاف تھا۔

اس سلسلے میں کسی بھی دوسرے معاملے کی طرف بڑھنے یا میڈیا پر سامنے آنے والے پروپیگنڈا میں آنے سے پہلے، آئیے ان مطالبات کو ایک بار پھر دیکھتے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ آیا یہ مطابات دستوری دائرے میں آتے ہیں یا باہر ہیں۔ مطالبات کچھ یوں ہیں۔

نقیب محسود کے ماورائے عدالت قتل میں ملوث راؤ انور کو پاکستانی قانون کے مطابق سخت سے سخت سزا دی جائے۔
وزیرستان سمیت تمام قبائلی ایجنسیوں میں بچھائی گئی باردوی سرنگیں صاف کی جائیں۔

وزیرستان سمیت تمام قبائلی ایجنسیوں میں موجود چیک پوسٹوں پر مقامی افراد کے ساتھ عزت اور تکریم کا رویہ اختیار کیا جائے۔
کسی ناخوش گوار واقعے کی صورت میں کرفیو نافذ کر کے عام افراد کی زندگیوں کو مشکلات کا شکار نہ کیا جائے۔
تمام لاپتا افراد کو عدالتوں میں پیش کیا جائے، ان میں سے جو قصوروار ہیں انہیں پاکستانی قانون کے مطابق سزا دی جائے اور جو بے قصور ہیں، انہیں چھوڑ دیا جائے۔

ماورائے عدالت قتل کے واقعات کی تحقیقات کے لیے ایک جوڈیشل کمیشن بنایا جائے، جس کی سربراہی چیف جسٹس آف پاکستان کریں۔
اس کے علاوہ آرمی پبلک اسکول سمیت دہشت گردی کے دیگر واقعات کی تحقیقات کرائی جائیں اور ان واقعات میں کوتاہی، نااہلی یا اپنے فرائض سے غفلت برتنے سمیت ہر طرح کے قصوروار کو سزا دی جائے۔

ان مطالبات کو غور سے دیکھا جائے، تو یہ تمام کے تمام نہ صرف قانونی ہیں بلکہ قبائلی علاقوں بلکہ پورے پاکستان کے عوام کو درپیش مسائل اور ان کی شہری آزادیوں کی راہ میں حائل مشکلات کا اشارہ بھی دیتے ہیں۔

پشتونوں کی اس تحریک کا آغاز جنوری میں ہوا تھا۔ ایک مکمل طور پر پرامن تحریک اور اس دوران لوگ تمام تر غم و غصے کے باوجود نہایت منظم انداز سے دستورِ پاکستان اور ریاست پاکستان کے دائرے کے اندر اپنی بات کر رہے تھے۔ تاہم اسلام آباد میں پریس کلب کے سامنے ہزاروں افراد جمع رہے مگر ان کی بات کو میڈیا نے بلیک آؤٹ کر دیا اور کئی روز تک جاری رہنے والے اس دھرنے کی بابت پاکستان کا تمام تر میڈیا مکمل طور پر خاموش رہا۔ یہ وہی میڈیا ہے جو گدھے کے گوشت اور چوہوں کی انتڑیوں سے تیل بنانے پر بھی پورے پورے پروگرام نشر کرتا ہے۔

میرا دوست عامر کہنے لگا، عاطف بھائی آپ کو نہیں لگتا کہ اس تحریک کے درپردہ کچھ دیگر عناصر ہو سکتے ہیں؟ میرا جواب تھا بالکل ہو سکتے ہیں، مگر یہ سوچنے کی بجائے کہ دیگر عناصر ہو سکتے ہیں، اگر ہم ان مطالبات کو سنجیدگی سے سنیں اور ان کے حل کی کوشش کریں، تو ان درپردہ عناصر کی کہانی تو خود بہ خود ختم ہو جاتی ہے۔ یہ بات خود باعث حیرت ہے کہ اگر مطالبات جائز ہیں، تو پھر درپردہ کوئی بھی ہو، اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟

عامر کا ایک سوال یہ تھا کہ عاطف بھائی یہ تحریک چیک پوسٹوں کے خاتمے کا مطالبہ کیوں کر رہی ہے؟ یہ تو ان کی حفاظت ہی کے لیے ہیں۔ یہ سوال پاکستانی میڈیا پر مسلسل پھیلائے جانے والے اس جھوٹ کا عکاس ہے، جو خواہ مہ خواہ اس تحریک کے مطالبات سے جوڑ دیا گیا ہے۔ اسی مضمون میں اوپر درج مطالبات میں آپ دیکھیں، تو اس مطالبے کا کہیں ذکر تک نہیں۔ مطالبہ چیک پوسٹوں پر مقامی افراد سے عزت و احترام سے پیش آنے کا ہے، نہ کے ان پوسٹوں کے خاتمے کا۔

عامر کا ایک اور سوال یہ بھی تھا کہ بیرون ممالک ان کے جلسوں میں افغانستان کے پرچم کیوں دکھائی دے رہے ہیں؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ پشتون صرف پاکستان ہی میں نہیں بالکل افغانستان کے متعدد صوبوں میں بھی وہاں کے دستور کے مطابق امن کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کر رہے ہیں۔ افغانستان میں پشتونوں کا مطالبہ یہ ہے کہ کابل حکومت، طالبان اور غیرملکی فورسز اب تشدد کا راستہ چھوڑیں، جس نے کئی عشروں سے افغان باشندوں کی زندگیوں کو اجیرن بنا رکھا ہے۔ پاکستان میں پشتون تحریک کی وجہ سے افغانستان میں بھی ایک پرامن تحریک پیدا ہوئی ہے۔ بیرون ممالک جب پشتون احتجاج کرتے ہیں، تو چوں کے وہاں دونوں ممالک کے پشتون یک جا ہوتے ہیں، تو اس صورت میں افغان افراد اپنے ملک کا پرچم بھی ان مظاہروں میں لے آتے ہیں۔ یہ بات سمجھنے کی ہے کہ پاکستانی پشتون اپنے پیاروں کا ماتم کر رہے ہیں، گم شدہ افراد کا نوحہ پڑھ رہے، ریاست سے بنیادی حقوق مانگ رہے ہیں، جب کہ افغان پشتون ملک میں امن کی بات کرتے ہوئے، تمام مکاتب فکر کو مل بیٹھنے اور لڑائی کی بجائے مذاکرات کا کہہ رہے ہیں۔ ان کی جانب سے ملکی پرچم لہرانے کی وجہ یہی ہے۔

پھر ایک اور سوال یہ بھی کہ فلاں جلسے میں ایک شخص پاکستانی پرچم لے کر داخل ہوا، تو اسے اندر جانے سے کیوں روکا گیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ پشتونوں کے متعدد جلسوں میں لوگ پاکستانی پرچم لہراتے نظر آتے ہیں، مگر اب اس صورت حال پر اپنی رائے خود دیجیے، ایک جلسے میں ایک شخص اپنے ہاتھ میں پاکستانی پرچم لیے اندر داخل ہو، پرچم لہراتا پھرے اور کوئی نہ روکے۔ پھر وہ جلسے میں پشتون تحفظ موومنٹ کے قائدین کو گالیاں دینا شروع کر دے، ایجنٹ ایجنٹ اور غدار غدار کے نعرے لگانا شروع کر دے اور اس صورت حال میں اسے جلسے کا انتظام خراب کرنے کے تناظر میں باہر نکالا جائے، تو کہے کہ اسے پرچم کی وجہ سے باہر نکالا گیا ہے۔ اس حوالے سے خود منظور پشتین نے سوات میں اپنے خطاب کے دوران پاکستان سے محبت، دستور کی عزت اور پاکستانی وحدت کی بات کی، جو نہایت ضروری ہے۔

اس حوالے سے میری رائے میں معاملہ اس وقت زیادہ خطرناک ہو جاتا ہے، جب کوئی شخص پاکستانی ہو، پاکستانی دستور کے مطابق کوئی جائز مطالبہ کر رہا ہو اور جواب میں اسے پاکستانی تسلیم کرنے ہی سے انکار کر دیا جائے۔ ٹھیک یہی کچھ ہم نے بنگال میں دیکھا تھا۔ بنگال کے لوگ پاکستانی تھی، پاکستان کے اس وقت کے قانون کے مطابق جائز مطالبات کر رہے تھے، قراردادِ پاکستان پر اس کی روح کے مطابق عمل کرنے کا کہہ رہے تھے، جواب میں ہماری طرف سے انہیں ’انڈین ایجنٹ‘ اور ’غدار بنگالی‘ کہا جا رہا تھا، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آخر میں انہوں نے خود ہی کہنا شروع کر دیا کہ اگر ہم پاکستانی نہیں بنگالی ہیں، تو پھر یوں ہی سہی۔
تو سوال یہ ہے کہ مطالبات دستوری ہیں، جلسے پرامن ہیں، تحریک بار بار خود کو پاکستانی ریاست کا حصہ اور دستورِ پاکستان کی بالادستی کی بات کر رہی ہے، تو اس کے خلاف پروپیگنڈا کیسا؟

جواب یہ ہے کہ جرنیلوں کو یہ قبول نہیں ہے کہ کوئی بھی عوامی تحریک ملک میں دستور کی بالادستی کی بات کرے، کیوں کہ اگر ایسا ہوا، تو ان کا کاروبار ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔ جرنیلوں نے جس انداز سے ریاست کے تمام تر اداروں کو قوم کی دی ہوئی بندوق سے یرغمال بنا رکھا ہے، جس طرح عدلیہ، سیاست دانوں، میڈیا، صحافیوں، اخبارات، پولیس بلکہ نصابی کتب تک کو اپنے سانچے میں ڈھال رکھا ہے، اس یرغمالی اور اس قوم کی حقیقی آزادی کی بات کی گئی، تو ان کی اقتدار اور اختیار پر گرفت کم زور پڑ جائے گی۔ اب تک یہی ہوتا آیا ہے کہ پالیسی ہم بنائیں گے، اچھی ہو گی تو داد ہم لیں گے، بری ہو گی تو گالی سویلین کھائیں گے۔ دستور کی بالادستی یہ ’اسٹیٹس کو‘ توڑ دے گی۔

عامر اچانک کہنے لگا عاطف بھائی بھارت میں کیوں لوگ فوج پر تنقید نہیں کرتے؟ کسی بھی دوسرے مہذب ملک میں کوئی بھی شخص فوج یا جرنیلوں پر تنقید نہیں کرتا، تو پھر پاکستان میں اس سلامتی کے اس ادارے پر تنقید کیوں؟

جواب یہ ہے کہ اگر آپ بھارت میں فوج پر تنقید کریں گے، تو کوئی بھی فوجی فوراﹰ کہہ دے گا کہ صاحب، پالیسی ہم نے نہیں بنائی، ہم وہ کر رہے ہیں، جو ہم اس ملک کی سویلین قیادت کہہ رہی ہے، کیوں کہ ہم دستور کے مطابق اس کے پابند ہیں۔ آپ کو تنقید کرنا ہے، تو حکومت اور پالیسیوں پر کیجیے، ہمارا ان سے کوئی لینا دینا نہیں۔ ہم عوام کے نمائندے کا حکم بجا لانے کے پابند ہیں اور بس۔
اس کی ایک مثال امریکی پیسیفک کمان کے جنرل کی ہے، جو حال ہی میں آسٹریلیا کی ایک جامعہ میں مدعو تھے۔ ان سے ایک طالب علم نے سوال پوچھا کہ صدر ٹرمپ کی ذہنی حالت اور جذباتی بیانات آپ کے سامنے ہیں۔ اگر وہ آپ کو کہہ دیں کہ چین پر ایٹم بم گرا دو تو آپ کیا کریں گے؟ جنرل نے بغیر کچھ سوچے جواب دیا، ’’ظاہر ہے میں ایٹم بم گرا دوں گا۔ میں اپنے ملک کے دستور کا پابند ہوں اور اس میں لکھا ہے کہ ملک کا کمانڈر ان چیف ملک کا صدر ہوتا ہے۔ صدر اچھا آدمی ہے کہ برا، اس کی ذہنی حالت ٹھیک ہے یا خراب، یہ میرا مسئلہ نہیں، امریکی قوم کا مسئلہ ہے۔ امریکی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو صدر منتخب کیا ہے اور صدر ٹرمپ سے جواب طلبی بھی امریکی قوم ہی کر سکتی ہے میں نہیں۔ میرے سامنے امریکا کا دستور ہے، جو بہ طور فوجی میرے لیے سب سے مقدس دستاویز ہے اور مجھے اس پر عمل کرنا ہے۔‘‘

پاکستان میں ستر برسوں سے اس ملک کے اقتدار پر فوجی جرنیل قابض ہیں اور انہوں نے سیاست دان تک وہی سامنے لا کھڑے کیے ہیں، جو کم زور اور کرپٹ ہیں اور قوم کی بھلائی اور دستور کی بالادستی کی بجائے ان کے احکامات پر عمل درآمد کریں، مگر کائنات کا اصول سادہ سا ہے، ظلم چلتا رہے، تو فطرت کی قوتیں خود اس کا سدباب کرنا شروع کر دیتیں ہیں۔ جہاں فرعون ہو، وہاں موسیٰ آئے گا ،جہاں نمرود ہو، وہاں ابراہیم پیدا ہو گا، جہاں یزید ہو، وہاں حسین نمودار ہو گا۔ آج تک ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here