عبدالغفار بھٹی

28 فروری2018 کو اسلام آباد میں اساتذہ کیجانب سے احتجاج کیا گیا۔ یہ احتجاج ان کی نوکریاں مستقل کرنے کے لیے تھا۔اس احتجاج میں مرد اساتذہ کے ساتھ خواتین اساتذہ بھی تھی۔ان اساتذہ کو روزانہ کی بنیادوں پر تنخواہ ملتی تھی وہ اپنی نوکریوں کو مستقل کرانے کے لیے سراپا احتجاج تھے..ہمیشہ کی طرح اس دفعہ بھی ریاست نے پولیس کو استعمال کیا اور پولیس نے مرد اساتذہ کہ ساتھ ساتھ خواتین اساتذہ کی عزت کا بھی خیال نہ کیا اور لاٹھی چارج کرنا شروع کر دیا..پولیس نے ہمیشہ کی طرح اس دفعہ بھی بربریت کا مظاہرہ کیا اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔

پولیس کا یہ عمل پہلی دفعہ کا نہیں تھا پولیس تو ریاستی اشرافیہ کا آلہ کار بنی ہوئی ہے۔ اشرافیہ کو اپنے مفادات کے لیے جہاں بھی جبر کا مظاہرہ کرانا ہو پولیس باآسانی دستیاب ہوتی ہے۔ اگر ینگ ڈوکٹرز پر تشدد کرانا ہو تو بھی پولیس ہی ریاست کی مدد کرتی ہے۔

یہ ریاست اور اس کے چلانے والوں نے ایک گندہ کھیل کھیلا وہ لوگ شاید بھول گے تھے کہ وہ بھی ایک عورت سے جنے گے ہیں۔ دوسری طرف حکومتی وزرا خاموش رہے کیوں کہ وہ آج کل رائے ونڈ ہوتے ہیں حزب مخالف والوں نے توحکومت کوآڑے ہاتھوں لیا اور پولیس کوخوب رگڑا لگایا خورشید شاہ نے حکومت کے ساتھ ساتھ پولیس گردی کی مذمت کی۔ وہ شاید بھول گے تھے کہ 25 دسمبر2017 کو انہی کی حکومت والے صوبے کے دارالحکومت کراچی میں سندھ پولیس نے اسی طرح اساتذہ پر تشدد کیا تھا۔ اس دن لاٹھی چارج کے ساتھ ساتھ اساتذہ کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی گیئی تھی اور کس طرح سے وہاں بھی خواتین اساتذہ کو پولیس وین میں ڈالا گیا تھا اسد عمر نے بھی نواز اینڈ کمپنی کو تنقید کا نشانہ بنایا ..
اس دن میڈیا اندھا ہو گیا تھا..سول سوسائٹی کو سانپ سونگھ گیا تھا بابا رحمت کو نظر نہ آیا۔

پورے سوسائٹی نے دیکھا کہ کس طرح سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی گی عورتوں کی عزت تک بھی خیال نہ رکھا گیا۔

یہ اس ریاست اور اس سرمایا دارانہ نظام کی ناکام ہوتی ہوئی پالیسی ہے جو اس نظام کو مزید نہیں چلا سکتے ان کی پالیسی محنت کش طبقے کے سامنے ظاہر ہو رہی ہے کہ یہ کس ترح سے اپنے حق کے لیے اٹھنے والے طبقے کو کس طرح سے دباتے ہیں یہ نظام گل چکا ہے اگر اس طرح یہ محنت کش طبقے کو دباتے رہے تو سوشلسٹ انقلاب کو نہیں روک سکے گے
وہ انقلاب یہی پرولتاریہ اور محنت کش طبقہ لے کر آے گا۔

محنت کش طبقے میں اس سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف ایک لاوا پنپ رہا ہے جب یہ لاوا نکلے گا تو اس بوسیدہ نظام کو جلا کے راکھ کر دے گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here