حمزہ سلیم

گزشتہ روز جی ایچ کیو میں سابق آئی ایس آئی چیف جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کو طلب کیا گیا اور ان سے ان کی نئی کتاب اسپائی کرانیکلز کے بارے میں پوچھ گچھ کی گئی۔اس کتاب کے آجکل پاکستانی اور بھارتی میڈیا پر خوب چرچے ہیں ۔ٹی وی ٹاک شوز میں اس کتاب پر پہلوانی قسم کے تجزیئے اور تبصرے کئے جارہے ہیں ۔جی ایچ کیو کی جانب سے اس کتاب کے حوالے سے جنرل اسد درانی پر کورٹ آف انکوائری بھی بٹھادی گئی ہے ۔اس کورٹ آف انکوائری کا سربراہ ایک سرونگ لیفٹینینٹ جنرل ہوگا۔ساتھ جی ایچ کیو سے یہ بھی حکم صادر کیا گیا ہے کہ اسد درانی کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا جائے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اسد درانی کو ملک چھوڑنے نہ دیا جائے۔اس کتاب کو بھارتی صحافی ادیتیہ سنہا نے مرتب کیا ہے۔بنیادی طور پر اسد درانی اور را کے سابق سربراہ اجیت سنگھ دولت نے یہ کتاب لکھی نہیں ہے ،بلکہ ان دونوں نے آپس میں چند ملاقاتیں کی ہیں ،ان مقالموں میں جو بات چیت کی گئی ہے ،اسے مرتب کرکے کتاب کی شکل دی گئی ہے۔یہ ملاقاتیں دبئی ،استنبول ،کھٹمنڈو اور بنکاک میں ہوئی تھی ۔اسد درانی اور دولت کے درمیان یہ مقالمے دو ہزار سولہ سے دو ہزار سترہ کے درمیان ہوئے ۔بنیادی طور پر یہ کتاب دو ریٹائرڈ خفیہ ایجنسیوں کے سربراہوں کے درمیان گپ شپ اور بات چیت پر مبنی ہے ۔بھارت کے صحافی ادیتیہ سنہا نے اس گپ شپ کو کتابی شکل دیدی۔لیکن پاکستانی اور بھارتی میڈیا پر ایسے پروپگنڈہ کیا جارہا ہے جیسے اسد درانی اور اے ایس دولت نے ملکر یہ کتاب لکھی ہے۔اس لئے پاکستانی اور بھارتی عوام کے ساتھ ساتھ پاکستان اور بھارت کی مقتدر قوتوں سے میری اپیل ہے کہ وہ میڈیا کی باتوں میں نہ آئیں ،کورٹ آف انکوائری والوں کی بھی زمہ داری ہے کہ وہ اس کتاب کو پڑھیں اور عوام بھی ضرور اس کتاب کا مطالعہ کریں۔255 صفحوں پر مبنی اس کتاب کو ٹی وی اینکرز ،سیاسی و دفاعی تجزیہ کاروں نے ابھی تک پڑھا نہیں ہے ،لیکن تجزیہ ایسے دے رہے کہ خدا کی پناہ،درانی غدار ہے ،ملک کا دشمن ہے ،اسے جیل میں ڈالا جائے ،پھانسی دیدی جائے۔

کیا کمال ٹی وی اینکرز اور تجزیہ کار ہیں جنہوں نے لمحوں میں 255 صفحوں پر مبنی کتاب چاٹ ڈالی ،اس کے بعد فتوے صادر کرنا بھی شروع کردیئے اور درانی کو غداری کے درجے پر فائز کردیا ۔رضا ربانی کو میں آج بھی ایک پڑھا لکھا انسان سمجھتا ہوں لیکن جس طرح انہوں نے سینیٹ میں کھڑے ہو کر تجزیہ کیا ،اس سے لگا وہ بھی پاکستانی اینکرز جیسے ہیں ،آپ سویلین کردار پر بات کریں ،لیکن بغض سے کام مت لیں۔میرا رضا ربانی کو مشورہ ہے کہ وہ ایک مرتبہ پھر یہ کتاب پڑھیں اور دوبارہ سینیٹ میں اپنے بیان کی تجدید کریں ،اگر مناسب سمجھتے ہیں تو؟نوازشریف کو جس طرح زچ کیا گیا ،ان کا حق تو بنتا تھا کہ وہ یہ مطالبہ کریں کہ اس پر بھی نیشنل سیکیورٹی کونسل کا اجلاس بلایا جائے

امید ہے نوازشریف صاحب نے کتاب پڑھ کر یہ مطالبہ کیا ہوگا ؟سوال یہ ہے کہ اسد درانی اور دولت نے وہ کونسی ایسی بات کہہ دی جو کبھی کسی اور نے کسی اور انداز میں نہیں کہی؟کونسا نیا انکشاف کر ڈالا؟اسامہ کے بارے میں کہا گیا کہ شاید یہ ممکن ہو کہ کسی ریٹائرڈ افیسر نے مخبری کی تھی ؟پاکستان کو اسامہ کے بارے میں پتہ تھا یا یہ ہوسکتا ہے کہ ردعمل کے ڈر کی وجہ سے امریکہ کو کہا گیا کہ آپ لوگ یہ آپریشن کر لو۔اس طرح کی خبریں سنی گئی۔اسد درانی نے کہا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ پاکستان نے کہا کہ ہم اسامہ کے خلاف براہ راست ایکشن نہیں کرسکتے ۔درانی نے یہاں تک کہا کہ آج تک انہوں نے جو لکھا اور کہا کبھی آئی ایس آئی اور کسی اور ادارے نے انہیں نہیں روکا۔

اسد درانی نے کتاب میں لکھا کہ اب وہ سروس میں نہیں ہیں ،اس سے پہلے وہ سابق را چیف کے ساتھ ملکر 2013 میں پیپرز بھی لکھ چکے ہیں ۔جب را کے سابق چیف سے کہا گیا کہ وہ آئی ایس آئی کے بارے میں کیا سوچتے ہیں تو لطیف پیرائے میں انہوں نے کہا کہ یہ ایک بہت زبردست خفیہ ایجنسی ہے ،اس میں بہت پروفیشنل لوگ ہیں ،گپ شپ ہنستے مسکراتے دولت نے یہ بھی کہہ دیا کہ اگر انہیں ڈی جی آئی ایس آئی بنایا جائے تو وہ انکار نہیں کریں گے ۔دولت کے اس بیان پر بھارت کے اینکرز انہیں غدار اور آئی ایس آئی کا ایجنٹ کہہ رہے ہیں اور ساتھ انہیں غدار کا خطاب بھی دے رہے ہیں۔ممبئی حملوں کے حوالے سے درانی نے کہا کہ بھارت ابھی تک ڈیوڈ ہیڈلے کے بیان سے چپکا ہوا ہے۔

دولت نے بلوچستان میں بھارت کے ملوث ہونے کے حوالے سے کہا کہ یہ ممکن ہے کہ بھارت بلوچستان میں ملوث ہو ،یہ سب بات چیت اور ڈائیلاگز ہیں۔اسد درانی نے بات چیت میں کہا کہ کارگل مشرف کا پیشن تھا ،لیکن اسے یہ اندازہ نہیں تھا کہ اس قدر شدید ردعمل آئے گا۔اگر درانی کے خلاف کورٹ لگانا ضروری ہے تو پھر مشرف نے تو ان دا لائن آف فائر میں بہت سی باتیں کہی ہیں،کیا انہوں نے نہیں کہا کہ انہوں نے بہت سے افراد امریکہ کے حوالے کئے اور اس کے بدلے پیسے لئے ؟کیا مشرف کے خلاف انکوائری نہیں ہونی چاہیئے ؟کیا مشرف نے انٹرویو کے دوران یہ نہیں کہا تھا کہ حافظ سعید ،اسامہ ،ایمن الظواہری اور طالبان ہمارے ہیرو تھے؟دو سابق خفیہ ایجنسیوں کے سربراہوں کے درمیان پروفیشنل بات چیت کو جو رنگ میڈیا اور اینکرز و تجزیہ کار دے رہے ہیں ،یہ تصویر کا ایک رخ ہے ،عوام اور اسٹیبشلمنٹ کی زمہ داری ہے کہ وہ معاملات کو پروفیشنل انداز میں دیکھیں۔اسد درانی نے مقالمے میں ایک دلچسپ بات یہ بیان کی کہ جب انہیں جرمنی میں ملٹری اتاشی لگایا جارہا تھا تو لاہور میں خفیہ ایجنسی کے لوگ ان کے سسرال کے گھر کا معلوم کرنے گئے ،گھر پر تالا لگا تھا تو انہوں نے چوکیدار سے پوچھا یہ کیسے لوگ ہیں ،تو اس نے کہا بڑے شریف لوگ ہیں ،اس پر انہیں کلئیرنس مل گئی اور وہ جرمنی میں اتاشی لگ گئے۔

اسی طرح درانی نے کشمیر کے بارے میں تھرڈ آپشن کی بات کی ،کہ کشمیریوں سے پوچھا جائے وہ کس کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں بھارت کے ساتھ ،پاکستان کے ساتھ یا اپنا آزاد ملک چاہتے ہیں ،اس میں کونسی نئی بات ہے ،مشرف بھی بہت آپشنز پر بات کرچکے ہیں۔کتاب میں دونوں نے امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی ائے پر بہت تنقید کی اور اسے تھرڈ گریڈ کی خفیہ ایجنسی قرار دیا ۔دونوں کا کتاب میں افغانستان میں بھارتی کردار پر یہ موقف متفقہ طور پر نظر آتا ہے کہ افغانستان میں بھارت کا کردار نہیں بنتا ۔اصل مسئلہ جسے سمجھنے کی ضرورت ہے وہ یہ کہ ملکوں اور ریاستوں کے درمیان دوستی یا دشمنی کا انحصار مفادات پر ہوتا ہے ۔درانی اور اے ایس دولت تھنک ٹینک ہیں ،یہ بیک ڈور ڈپلومیسی کے چینلز ہیں ،یہ تھرڈ پارٹی ہیں اور ٹریک ٹو ڈپلومیسی کا کام کرتے ہیں ،ان جیسے لوگوں کی بات چیت سے ریاستیں ایک دوسرے کے تازہ ترین موڈ کو واچ کرتی ہیں۔ایسے لوگ ریاستوں اور ملکوں کے لئے مفید ہوتے ہیں ،کیونکہ ان کے زریعے ہی ریاستیں بحران کے وقت ایک دوسرے کو پیغامات بھیجتی ہیں ۔،ریاستوں کے درمیان بیک ڈور ڈپلومیسی کا چینل کبھی منقطع نہیں ہوتا ۔اس کتاب کو اس انداز میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔درانی نے اس کتاب میں درست کہا کہ امن کا سب سے بڑا دشمن میڈیا ہوتا ہے ۔ایک جملہ پکڑ لیتا ہے اور اس پر پروپگنڈہ شروع کردیا جاتا ہے ۔پاکستان اور بھارت میں بیک ڈور ڈپلومیسی میڈیا کی وجہ سے آگے نہیں بڑھ رہی ۔پاکستان اور بھارت کی اسٹیبلشمنٹ ریٹائرڈ افسروں کی رائے کی محتاج نہیں ہے ،کتاب بحث و مباحثہ ہے ،کیوں اس کو اتنا سنجیدہ لے لیا گیا ہے؟بحث و مباحثہ مسائل کا حل ہے ،جس پر سوچنا کوئی بری بات نہیں۔بھائی تھنک ٹینک اس طرح کی باتیں کرتے ہیں ،ہزار قسم کی باتیں ہوتی ہیں ،کیا اسٹبلشمنٹ کو ان کی تجاویز کو سنجیدہ لینا چاہیئے ؟ایسے لوگ ریاستوں کے درمیان دوستی کا سبب بنتے ہیں ،اس طرح کی ورکنگ ریلیشن شپ دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک کے درمیان ہے ۔ورکنگ ریلیشن شپ بھی جاری رہتی ہے اور دشمنی یا دوستی کا کاروبار بھی جاری رہتا ہے۔اسد درانی پر اعتراض یہ اٹھایا جارہا ہے کہ انہیں کتاب لکھنے سے پہلے اجازت لینی چاہیئے تھی؟

یہ کتاب دونوں ریٹائرڈ جرنیلوں نے لکھی ہی نہیں ہے ،یہ تو ان کے مقالمے اور گپ شپ ہے جسے ایک صحافی نے کتاب کی شکل دے دی ۔اسد درانی قانونی طور پر گفتگو کرسکتے ہیں ،اپنا مافی الضمیر بیان کرسکتے ہیں،اس طرح کے لوگ سیمینارز میں بھی جاسکتے ہیں اور اگر مگر میں باتیں کرنے اور خیالات کا اظہار کرنے کا بھی حق رکھتے ہیں اور ایسا دنیا کے تمام ریٹارڈ آفیشلز کرتے ہیں۔المیہ تو یہ ہے کہ ٹی وی اینکرز جس پر بحث و مباحثہ کررہے ہیں خود انہوں نے وہ کتاب نہیں پڑھی ۔وہ صرف تجزیوں پر تجزیہ فرمارہے ہیں ۔ہیڈ لائنز کو دیکھ کر پروگرام کرتے ہیں ۔کاش اس کتاب کو پڑھ کر تجزیہ کیا جاتا اور اس طرح غداری کے فتوے جاری نہ ہوتے ۔