صادق صبا

گھر کے سامنے منڈیر پر علی الصبح تمام مورومگس جمح تھے، ایک بہت بڑا ہجوم تھا۔مور، مکھی، مچھر کے علاوہ بھی بہت سے اور حشرات الارض تھے اور ہجوم کے آگے ایک پتھر پر ایک بہت بڑا مکھڑا ایستادہ تھا، جو اس علاقے کا سردار تھا۔۔۔پیران عنکبوت ربِ کائینات کے حمد و ثناء کے بعد گویا ہوا ” میرے عزیز و محترم بھائیوں! آج میں آپ سب کی یہاں موجودگی پر تہہ دل سے شکر گزار ہوں،آج میں آپ سے کہنا چاہتا ہوں کہ اگر اس مرتبہ بھی آپ نے سرداری کیلئے اپنے اس ناچیز و حقیر بھائی کو چنّا تو اللہ کی فضل و کرم سے میں آپ لوگوں کی تمام شکایتیں اور محرومیاں دور کرونگا، باورچی خانوں اور دکانوں پہ مکھڑیوں کی اجارہ داری کو ختم کرونگا، گٹر کے نالوں سے گندی پانی کے بجائے دودھ اور شہد بہے گا۔ قانون مکھڑی مکھڑوں اور تمام مورومگس کیلئے ایک ہوگا۔مال کے بدلے مال جان کے بدلے جان لیا جائے گا۔ یہی کہنا تھا کہ ہجوم میں سے مکھڑی کے چاپلوسوں اورہمنواؤں نے ”پیرانِ عنکبوت زندہ باد“ کے فلک شگاف نعروں سے چرخِ بریں کو سر پر اٹھا لیا۔

پیرانِ عنکبوت مزید جوش و ولؤلہ سے گویا ہوا کہ کچھ آوارہ گرد مکھڑیوں کی وجہ سے ہم سب مکھڑیوں کی عزت و ناموس غارت ہوئی ہے، انشاءاللہ اس کا بھی سدباب کیا جائے گا۔

ہجوم میں سے ایک بوڑھا کٹمل پیران عنکبوت کی بات کاٹ کر گلا پھاڑ کے چلانے لگا ” ہر پانچ سال بعد آپ یہی کہتے ہو آپ کے دور میں میرا پورا خاندان تار عنکبوت کی ہتھے چڑھ گیا۔آپ کچھ نہیں کریں گے“ بوڑھے کٹمل کی آواز آنسؤوں سے رندھ گئی۔ جانِ من قربان آپ پر، میں تمہاری تکلیف سمجھ سکتا ہو انشاءاللہ تمہارے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔تو تبھی اس نے اشارہ کیا اور کچھ مشٹنڈے ٹاٹپ مکھڑیاں اس بوڑھے کو ہجوم سےپرے دور لے گے۔

تقریر پھر روان تھی کہ ایک اور بزرگ مکھی گویا ہوا کہ آپ سردار میر و معتبر قانون کی بات کرتے ہیں ہم پوچھتے کیا ہوا اس فریبی مکھڑی کا جس نے میری ہونے والی بیوی کو فریب سے اپنی پیٹ کی تنور میں اتارا اور جس پر علامہ اقبال نے نظم خامہ ذد کیا تھا ”ایک مکھڑا اور مکھی“ پیران عنکبوت اس پر گویاہوا کہ انشاءاللہ اس پر بھی جے آئی ٹی تشکیل دینگے مجرم جلد قانون کی گرفت میں ہوں گے۔

پیرانِ عنکبوت جوش خطابت میں ایک مرتبہ پھر اچھل کود کرنے لگا تھا کہ بزرگ بعدِ از سوال گم ہوگیا۔۔آس پاس کے مورومگس کہتے ہیں یہ بھی کسی تارِ عنکبوت کا شکار ہوگیا۔

پیران عنکبوت اب بھی بات کرتا تو درمیان میں کوئی نہ کوئی بات کاٹتا۔ایک خوف نے پیران عنکبوت اور اسکی ٹولی کو ورتہ حیرت میں ڈال رکھا تھا۔تبھی اہلیان عنکبوت میں سے ایک دانا بزرگ، جو چال و قال میں موت کی دہلیز پرقدم رکھ چکا تھا۔ لرزتے ہوئے اسٹیج پر چڑھا اور پیران عنکبوت کی کان میں کسر پسر کی تو پیران عنکبوت نے کارندوں کو اشارہ کیا چند لمحوں میں لڑوؤں، گلاب جامنوں اور شہد کی چمکتے ہوئے قطروں سے بھرے سبز پتوں اور رنگ برنگی پھولوں کی ڈھیر کی ڈھیر مورومگس کے سامنے سجنا شروع ہوگیا اورتمام منظر یکدم بدل گیا۔ تمام نظریات و اصول گلاب جامنوں میں ڈوب گئے، تمام شکایتوں کی کڑواہٹیں شہد کی چمکتے قطروں میں رچ کر قند بن گئی اور تمام آسمان پیران عنکبوت زندہ بعد کے نعروں سے گونجنے لگا مورومگس انواعِ شیریں کا صفایا کرنےمیں مشغول تھے کہ اسی اثنا میں پیچے سے اہلیان عنکبوت بے رحم قہقوں سے ننھے مننھے مکھیوں کے گرد تاریں لپیٹنے میں مستعدی سے مصروف تھے۔