مجھے چند روز ہونے سوشل میڈیا پر علی احمد جان کی ایک ویڈیو دکھائی دی، جس میں وہ کیلاش وادی میں کھڑے وہاں کے ’غیرمسلموں‘ کے مذہب اور ثقافت پر شب خون کا دل دوز واقعہ بیان کر رہے تھے۔

محمد علی جناح اور آل انڈیا مسلم لیگ نے مسلم ووٹ حاصل کرنے کے لیے مذہب کا نعرہ ضرور لگایا تھا اور اس بابت مختلف مسلم برادریوں سے مختلف طرز کے ’سیاسی بیانیوں‘ کا استعمال بھی کیا گیا تھا، تاہم قیام پاکستان سے صرف تین روز قبل گیارہ اگست 1947 کو قانون ساز اسمبلی سے اپنے اولین خطاب میں محمد علی جناح نے ایک واضح لکیر کھینچ دی تھی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے ملکی قانون سازوں سے کہا تھا کہ آپ کا مذہب، مسلک، رنگ اور نسل کوئی بھی ہو، ریاست کا اس سے کوئی سروکار نہیں۔ ریاست کی نگاہ میں آپ سب پاکستانی ہیں، آپ کو اپنی مسجدوں، مندروں اور گرجا گھروں میں جانے کی مکمل آزادی ہے۔

مگر جناح کی وفات کے بعد ملک کی جہت کو ’قومی سلامتی‘، ’اسلام کا قلعہ‘، ’مملکت خداداد‘ اور جانے کون کون سے نعروں کا استعمال کر کے اپنے مفادات اور اختیارات پر قبضے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا اور رفتہ رفتہ ہم وہاں پہنچ گئے کہ اقلیتیوں کو مذہب کی بنا پر رفتہ رفتہ ایک طرز کی ’مذہبی تطہیر‘ کا شکار بنایا گیا۔ پاکستان کے قیام کے وقت ملک میں بسنے والے غیرمسلم شہریوں کی تعداد 23 فیصد تھی جب اب سکڑ کر چار فیصد سے بھی کم ہو چکی ہے۔

پاکستان دنیا کے شاید ان چند ملکوں میں سے ایک ہو، جہاں اکثریت کے مذہب کو اقلیتوں کے اعتقادات سے خطرہ ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اقلتیوں کے خلاف جبر، ظلم، تشدد، عقوبت، حق تلفی اور عدم مساوات بلکہ بدترین تفریق جیسے انسانیت سوز جرائم کو جائز قرار دینے کے لیے دلیل کے طور پر ایک جملہ سننے کو ملتا ہے، ’’فلاں ملک میں بھی تو اقلیتوں کے ساتھ ظلم ہوتا ہے۔‘‘ ذاتی طور پر مجھے اس دلیل جیسی گھٹیا شے کوئی دکھائی نہیں دیتی کہ فلاں جگہ چوں کے ظلم ہوتا ہے، اس لیے ہمارے ہاں بھی ویسا ہی ظلم ہونا چاہیے۔ اس دلیل کو استعمال کرنے والے کسی روز ایسے ظلم کرنے والے ممالک میں اقلیتوں کے اعداد و شمار پڑھیں، مثلاﹰ پچاس برس قبل وہاں اقلیتوں کی تعداد کتنی تھی اور اب کتنی ہے اور پھر اس کا پاکستان سے موازنہ کریں۔

قیام پاکستان کے وقت سندھ میں ہندوؤں کی ایک بڑی تعداد نے ہجرت سے انکار کرتے ہوئے، اپنی زمین سے صدیوں پرانے تعلق کو ختم کرنے سے انکار کیا تھا۔ لاکھوں لوگ سندھ چھوڑ کر ہندوستان کوچ کر گئے، مگر لاکھوں نے یہیں بستے رہنا پسند کی، مگر ان افراد کی اگلی نسلوں کی ہجرت بتاتی ہے کہ جیسے ان کے آباؤاجداد نے اپنی دھرتی کے سینے سے جڑے رہنے کا گناہ کیا تھا یا ان کا فیصلہ نادرست تھا۔ اب سندھ سے سرحد عبور کر کے ہندوستان میں عزت کی زندگی گزارنے کا خواب لے کر جانے والے، وہاں بھی عدم مساوات ہی کا نشانہ بنتے ہیں۔ یہ ہندو پاکستان میں ہوں تو انہیں بھارتی کہا جاتا ہے اور ان کے مذہب کو بہ طور ’گالی‘ استعمال کیا جاتا ہے۔ بعض اسٹیج ڈراموں میں علی العلان ہندو بھگوانوں کا تمسخر اڑایا جاتا ہے اور اس سلسلے میں تمام تر مذہبی حساسیت کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔ راجستھان کے صحراؤں میں پتھر کوٹنے والے درجنوں پاکستانی ہندو وہاں تیس تیس برس سے پھنسے ہوئے ہیں اور ان کے لیے نہ آگے کا راستہ ہے اور نہ واپسی کا۔

سندھ میں ہندو لڑکیوں کو زبردستی اٹھانا، ان کے ساتھ شادی اور پھر جبری طور پر انہیں مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کرنا ایک دلدوز عمل ہے۔ اس پر بے حسی کی حد تو یہ ہے کہ ایک بار ہمارے ایک قومی ٹی وی چینل پر ایک ہندو لڑکے کو اعلانیہ طور پر ’مسلمان‘ بنانے کا مظاہرہ بھی کیا گیا۔ اس سے بھی دیگر مذاہب اور عقائد سے متعلق ہمارے توہین آمیز رویے کا پتا ملتا ہے۔ مندروں پر حملوں کے واقعات اس صورت حال میں سونے پر سہاگہ ہیں اور بدقسمتی یہ ہے کہ اقلتیوں پر ہونے والے حملوں میں ملوث افراد کے لیے نہ صرف ایک نرم گوشہ عوامی سطح پر پایا جاتا ہے، بلکہ ریاستی مشینری اور میڈیا بھی ایسے میں ان مظلوں کے خلاف اور ظلم کے والوں کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔

مسیحیوں کی بستیوں کی بستیاں جلائے جانے، ان کے گرجا گھروں کو تباہ کرنے اور اس جیسے دیگر معاملات تو تھے ہی مگر چند روز قبل ایک مسیحی دوست نے بتایا کہ کراچی میں ایک علاقے سے کچھ ہی عرصے میں کئی نوجوانوں کو لاپتا تک کر دیا گیا اور ان افراد کے لواحقین کی جانب سے تھانے کے درجنوں چکر کاٹنے کے باوجود کوئی رپورٹ تک درج نہ ہوئی۔

ستر کی دہائی میں غیرمسلم قرار دی گئی احمدی برادری کی حالت اس معاملے میں اور بھی زیادہ تباہ کن ہے، جن کے خلاف ہونے والے مظالم پر بولنا تک مذہب مخالف اور ریاستی دشمنی سمجھا جاتا ہے اور اس دوران اس برادری سے مذہب کا نہ سہی انسانیت تک کا تعلق رکھنے کا کوئی روادار دکھائی نہیں دیتا۔ لاہور میں اس عبادت میں مصروف احمدیوں پر دہشت گردانہ حملے میں سو سے زائد ہلاکتیں ہوں یا اس برادری کے پڑھے لکھے افراد کی ٹارگٹڈ کلنکز، احمدیوں کے ساتھ تفریق اور نفرت کا مظاہرہ ہر ہر جگہ دکھائی دیتا ہے۔ ابھی چند روز قبل سیالکوٹ میں اس برادری کی ایک ’مسجد‘ پر شرپسندوں کے مناظر اور وہاں اس بربادی کو روکنے کی بجائے بے بس ریاستی مشینری خود ملک میں اقلیتیوں کے تحفظ کی دستوری ضمانتوں کا مذاق اڑانے کے مترادف تھی۔ عقائد کے فرق اور نظریات کے اختلاف کی بنا پر انسان ہونے اور پاکستانی شہریت کے ناتے جائز اور مساوی حقوق تک ہی چھین لینے کی اس سے قریح مثال کہیں اور نہیں ملتی۔

علی احمد جان جب اپنی ویڈیو میں کیلاش وادی کے منفرد مذہب کا ذکر کر کے بتا رہے تھے کہ اس چھوٹی سی برادری کو بھی ریاست کی جانب سے تحفظ مہیا کرنے اور ان کی ثقافت کی حفاظت کرنے کی بجائے، ان کے ساتھ جس انداز کا رویہ اختیار کیا جا رہا ہے، وہ پاکستانی دستور بلکہ اسلامی قواعد کے بھی خلاف ہے۔

علی احمد جان کی اس ویڈیو کی بابت میں زیادہ بات اس لیے نہیں کروں گا کیوں کہ یہ ویڈیو آپ خود دیکھ سکتے ہیں۔ پاکستانی ہونے کے ناتے ہمیں خود سے یہ سوال کرنا ہے کہ کیا ہم اس ملک کے ان بیٹیوں کو اپنا بھائی سمجھ کر ان کے حقوق کا خیال نہیں رکھ سکتے، جن سے ہمارا اختلاف مذہب اور عقائد کا ہے۔ ہم بہترین اور مہذب معاشرہ تب بنیں گے، جب مذہب سمیت تمام تر سماجی، معاشرتی، فکری اور نظریاتی اختلافات کو ظلم، جبر، طاقت اور بربریت کی بجائے علمی، منطقی اور مکالمتی انداز سے گفت گو سے گزارا جائے۔ یاد رکھیے تشدد کا راستہ اور علم کی بجائے بازو کی طاقت کے ذریعے لوگوں کے جسم تو فتح کیے جا سکتے ہیں، دل اور دماغ نہیں۔

برصغیر کی تاریخ گواہ ہے کہ زمین کے سینے پر محبت کے بیج بونے والے صوفیا اور فقیروں نے محبتوں سے دل جیت کر عشق کی تاریخ رقم کی تھی۔ غالباﹰ معین الدین چشتی اجمیری کی بابت اقبال نے کہا تھا

نہیں فقر و سلطنت میں کوئی امتیاز ایسا

وہ سپاہ کی تیغ بازی، یہ نگاہ کی تیغ بازی

حقوق کی تحریکیں چل رہی ہیں، جو ایک نہایت خوش آئند بات ہے۔ سوال ہو رہا ہے، جو قابل مسرت ہے اور لوگوں میں شعور اور آگہی پیدا ہو رہی ہے، جہاں نہایت ضروری ہے۔ مگر پشتونو، جب دستوری سربلندی کے لیے بات کیا کرو، تو ان پشتون غیرمسلموں کو ہرگز مت بھولنا، کیلاش کے لوگ تمہیں دیکھتے ہوں گے۔ سندھیو، آپ لاپتا افراد کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں، مگر غیرمسلم سندھیوں کی آواز بھی بننا، پنجاب اور بلوچستان کے لوگو، دھرتی کی گود سے پیدا ہونے والی غیرمسلم آپ جتنے ہی پنجابی اور بلوچ ہیں، ان کو اپنائے رکھنا۔