عبدالرؤف خاں

ہائے میری ماں، تیرے حاسدوں نے بغیرسوچے سمجھے تجھے ہندوستان کے بال ٹھاکرے کا ایجنٹ بنا دیا تو نےاف تک نہ کی۔ میری ماں، چند ناعاقبت اندیشوں نے فوٹو شاپ کےذریعے تیرے ہونٹوں میں سلگتا سگریٹ لگا دیا تو نے نظر انداز کیا۔

میری ماں، تیری دھرتی کے بیٹوں نے کبھی تجھے یہودی اور سیکولر لابی کا ایجنٹ کہا، کبھی تجھ پر ملحد اور غیر مسلم ہونے کے فتوے لگائے گئے،  تونے سب فیصلے اللہ پر چھوڑ دیے۔ میری ماں، تونے کیسی قسمت پائی کہ جس دھرتی میں تو انصاف کا پرچم سربلند دیکھنا چاہتی تھی اسی دھرتی کے بیٹوں نے تجھے ننگی گالیاں دیں۔

میری ماں، ہاں یہ تم ہی تھیں کہ جس نے طالبان کی بربریت کو للکارا۔ جب اسی دھرتی کے سپہ سالار طالبان کو پھولوں کے ہار پہنا رہے تھے تو تیری ایک کمزور آواز تھی، جو سب کو خبردار کررہی تھی کہ بچو ان سے، ان سانپوں کو دودھ مت پلاؤ یہ تمہیں ہی ڈسیں گے اور ماں تیرا ہرلفظ تیری ہردہائی سچ ثابت ہوئی۔

اور میری ماں، جن موضوعات پر ایک عورت ہوتے ہوئے جس جرآت و بہادری سے تو لب کشائی کرتی تھی، ان موضوعات کو دیکھتے ہی اس دیس کے مردوں کی گھگھی بندھ جاتی تھی۔ زبانیں گنگ ہوجاتی تھیں۔

میری ماں، افسوس یہ زرخیز زمین تیرے جیسا ایک بھی مرد پیدا نہیں کرسکی۔ مجھے یاد ہے کہ جب ملک میں مارشل لا تھا اورحق گوئی کی پاداش میں جب آپ کے والد کو گرفتار کیا گیا تو آپ نے اپنی پرامن قانونی جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا تو ٹھیک ایک سال بعد آپ نے لاہور ہائی کورٹ سے ایک آمر کو غاصب قرار دلوایا۔

میری ماں، تو نے آمروں کو تب تب للکارا جب وہ طاقت کے نشےمیں بدمست ہوئے۔ وہ ایوب ہو یا ضیاء کی آمریت ہو آپ کے جسم پر برستی پولیس کی لاٹھیاں آج بھی شاہد ہیں کہ آپ نے اپنے نام کی لاج رکھی۔ میری ماں، آج تو اس دنیا میں نہیں رہی لیکن پھر بھی تو اپنے مخالفوں اورچاہنے والوں کے دل میں زندہ ہے۔

تیرے مخالف آج ایڑیاں اٹھا کے بشریت سے بالا ہو کر خالص خدائی اختیار استعمال کرتے ہوئے تیرے ایمان کو اپنی بے ایمان تکڑیوں سے تول رہے ہیں۔ کچھ تجھ پر ابھی سے جہنمی ہونے کے فتوے لگا رہے ہیں۔ لیکن ماں تو گھبرانا نہیں ہمیں فخر ہے کہ تم بے زبانوں کی آواز بنی، بے سہاروں کا سہارا بنی، تو نے مظلوموں کے رستے زخموں پہ مرہم رکھا، ہر اس ظالم کو للکارا چاہے وہ خاکی وردی میں ملبوس تھا یاعدل کی سب سے بڑی کرسی پر براجمان تھا۔ ماں تو سچ بولتی رہی اور سچ کے ساتھ ہی بامراد ہوئی۔ تجھ پر کروڑوں رحمتیں میری ماں، الوداع، الوداع ماں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here