آصف خان بنگش

21 سال قبل سن 1997 انتخابات کی دھوم دھام تھی، میں اس وقت پانچویں جماعت کا طالبعلم تھا۔ ہر طرف شیر کا چرچا تھا، ایک بزرگ نے از راہ مزاح پوچھا آپ کس کو ووٹ دو گے؟ عمران خان میں نے جھٹ سے جواب دیا۔ اس پر بزرگ کا چہرہ کھل اٹھا اور کہا شاباش بیٹا عمران خان ہی اصل شیر ہے۔ میں نے کبھی عمران کو کرکٹ کھیلتے نہیں دیکھا تھا نہ ہی مجھے 92 کا ورلڈکپ یاد پڑتا ہے لیکن مجھے عمران کا 97 میں بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی پر چلنے والا وہ اشتہار یاد ہے جس میں وہ کہتا ہے کہ ہمارے پاس نہ بسیں ہیں نہ گاڑیاں، آپ لوگ پیدل چل کر پولنگ سٹیشن جائیں اور”چراغ” پر مہر لگائیں۔ پارٹی نے 3 لاکھ ووٹ تو لئے مگر کوئی سیٹ ہاتھ نہ آئی۔

2002 میں پارٹی کو “کرکٹ بیٹ” کا نشان ملا لیکن بلا بھی صرف خان صاحب ہی اپنی سیٹ نکال سکے۔ 2008 میں پہلی بار جب میں ووٹ کاسٹ کرسکتا تھا خان صاحب نے الیکشن کا بائیکاٹ کر دیا اور میں اگلے الیکشن کا انتظار کرنے لگا۔

بیچلرز کے بعد ماسٹرز کی ڈگری لینے اسلام آباد کا رخ کیا تو سیاسی سرگرمیوں میں بھی حصہ لینے لگا۔ عمران خان ہر دوسرے جمعہ کے دن آبپارہ چوک میں شہزور گاڑی میں میگافون میں خطاب کرتے حکومت اور بین الاقوامی قوتوں کو آڑے ہاتھوں لیتے۔ سبز اور لال جھنڈا لئے ہم وہاں موجود ہوتے۔ جب بھی جہاں بھی موقع ملتا تحریک انصاف کا منشور لوگوں کو بتاتے جاتے۔ ایک سوال جو سب کرتے کے خان صاحب تو بہت اچھا بولتے ہیں لیکن خان کے پاس لوگ نہیں ہیں تو ہم سینہ تان کر کہتے اگر لوگوں سے مراد آپکی کرپٹ جاگیردار اور وڈیرے ہیں یا یہ روائتی سیاستدان تو ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہمارے پاس لوگ نہیں ہیں۔

نوجوان جوق درجوق تحریک انصاف کا حصہ بنتے جارہے تھے، خاندان، برادری سے ماورا تمام تبدیلی کے خواہاں تحریک انصاف کے جھنڈے تلے جمع ہو رہے تھے۔
مجھے یاد ہے جب ایک عزیز جو سلیم سیف اللہ خان کے دوست تھے نے ان سے پوچھا یار آپ عمران خان کے ساتھ کیوں نہیں جاتے تو بولے یار عجیب بندہ ہے کہتا ہے کہ تم لوگوں کے خلاف تو میں میدان میں آیا ہوں تمیں کیسے پارٹی میں لے لوں؟ ایسے بیشمار سیاستدانوں کو سامنے عمران خان نے یہی جواب دیا۔ عمران کی قیادت پر تو بھروسہ تھا لیکن جو چیز مجھے اور میرے جیسے لوگوں کو سیاست کی طرف مائل کر رہی تھی وہ تحریک انصاف بحیثیت ایک ادارہ تھی جو اپنے آئین کے تحت تمام فیصلے کرتی اور مرکزی کمیٹی اپنے فیصلوں میں بااختیار ہوتی تھی۔ ہمیں اس ادارے میں پاکستان کا مستقبل دکھتا تھا کہ ایک ایسا ادارہ جو اپنا منشور رکھتا ہے اپنا آئین رکھتا ہے اور موروثی سیاست سے پاک اس کا چیرمین اپنے کارکنان کے سامنے جوابدہ ہے۔

اکتوبر 2011 کسی بھی تبدیلی کے خواہاں کے لئے ایک یادگار دن رہیگا، جب الیکٹیبلز کی سیاست کو دفن کرنے کیلئے لاکھوں کی تعداد میں الیکٹوریٹ مینار پاکستان پر اکٹھا ہوا۔ جس دن کیلئے ہم سالوں سے محنت کر رہے تھے رنگ لائی اور گھٹن کی فضاء اور مایوسی کے عالم میں امید کی ایک کرن روشن ہوئی۔ ہر طرف تحریک انصاف کا طوطی بولنے لگا۔ عوامی طاقت کا یہ مظاہرہ اس قدر شاندار تھا کہ ایوان اقتدار سمیت ملکی سیاست میں ایک زلزلے سے کم نہ تھا۔ لوگ جوق در جوق تحریک انصاف میں آنے لگے۔ ورکرز نے اعتراض کیا کہ ہم موسمی لوٹوں کو کبھی برداشت نہیں کریں گے لیکن جواب ملا کہ آنے کی سب کو اجازت ہے لیکن ٹکٹ کسی کو نہیں ملے گا۔ کاش اسی موقع پر اس روایت کا راستہ روکا جاتا لیکن ایسا نہ ہوا۔ 2013 کے انتخابات میں جو توقع تھی وہ فیصلہ تو نہ آسکا لیکن ایک صوبہ کی حکومت مل گئی جسے مثال بنا کر اگلے الیکشن میں اترنا تھا۔

2013 کے بعد تحریک انصاف جس ڈگر پر چلی، ایک ورکر اور تبدیلی رضا کار ہونے کے ناطے ہر روز ایک نئی کہانی سننے کو ملتی، جس تبدیلی کا علم لے کر ہم چلے تھے اس میں ہر نئے دن کے ساتھ تبدیلی ہی دیکھنے کو ملی۔

ان سالوں میں جو کچھ ہوا سب کے سامنے ہے لیکن جن وجوہات سے میں دلبرداشتہ ہوا وہ کسی بھی نظریاتی کارکن کے لئے قابل قبول نہیں ہونگے۔ 13 کے انتخابات میں کئی حلقوں سے ایسے لوگوں کو ٹکٹ ملا جو پارٹی سے مطابقت ہی نہیں رکھتے تھے۔ ان کی وجہ سے سیاست میں آنے کے خواہشمند صاف ستھرے امیدوار پارٹی کو خیرباد کہہ گئے۔ دل پر خنجر چلے لیکن امید تھی یہ ایک سبق ہوگا اس سے سیکھنے کو ملے گا۔ پارٹی میں الیکشنز ہوئے تو اس پر شور اٹھا کہ بااختیار لوگوں نے دھاندلی کی۔ کمیشن بیٹھا ہمیں یقین تھا کہ پارٹی میں اختیار کمیٹی کے پاس ہے جو روایت تھی لیکن جب کمیشن نے جہانگیر خان ترین اور علیم خان جیسے لوگوں پر سوال اٹھائے جو پارٹی کو فنڈ کرتے ہیں تو نہایت بھونڈے انداز میں پارٹی کے الیکشن کمشنر نہایت ہی محترم جسٹس وجیح الدین کو پارٹی سے نکال دیا گیا۔ جاوید ہاشمی جیسے قدآور سیاستدان کو اختلاف کی بنیاد پر جس انداز میں پارٹی سے نکالا گیا وہ بھی ایک افسوسناک امر تھا۔

2014 میں تمام تر توانائی دھرنوں میں لگا کر حکومت کو گرانے کا منصوبہ تو ناکام ہو یا کر دیا گیا لیکن میرے ذہن پر کافی نقوش چھوڑ گیا۔ اگر تو ایک منصوبے کے تحت امپائز نے یہ سب کیا تو وہ اپنی چال میں کامیاب ہوا ایسے حالات پیدا ہوئے کہ امپائر حکومت سے خارجہ اور داخلہ پالیسی ہتھیانے کی پوزیشن میں آگیا اور اگلے ہی ہفتے امپائر کے غیر ملکی دورے شروع ہوگئے۔ یہ سب میرے لئے کسی بھی ڈراونے خواب سے کم نہیں تھا۔ الیکٹوریٹ نے ایک ایسے شخص کا ساتھ دیا تھا جو تمام اداروں کو سول حکومت کے تابع کرے لیکن جس پھرتی سے میرا لیڈر ایک ٹیلی فون کال پر راولپنڈی روانہ ہوا، اس سے بچی کچی امیدیں بھی دم توڑنے لگیں۔

بلدیاتی الیشنز کا وعدہ ہوا تھا 90 دن میں لیکن حالات کی وجہ سے 2 اڑھائی سال لگ گئے۔ عوام سے کہا گیا ایم پی اے کا کام قانون سازی کرنا ہے کام تو بلدیاتی نمائندے کریں گے۔ ایلٹوریٹ نے ایک بار پھر الیٹیبلز کو کانٹے کی ٹکر دی گو کہ ٹکٹوں کی تقسیم ایسے نہ ہوئی جیسے ہونی چاہئے تھی لیکن کافی اضلاع میں تحریک انصاف کی حکومت بن گئی اور کچھ اور اضلاع جہاں تحریک انصاف حکومت بنا سکتی تھی آپسی اختلافات کی وجہ سے نہ بنا سکی۔ سب پر امید تھے کہ یہ نمائندے با اختیار ہونگے لیکن جناب پرویز خٹک نے انہیں 2 سال تک گھاس نہ ڈالی، وفاق سے ملے فنڈز واپس ہوتے رہے لیکن بلدیاتی نمائندوں کو نہ ملے۔ پرویز خٹک نے جس طرز سے حکومت کی صوبہ میں پارٹی کا جنازہ نکالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ خان صاحب نے صوبہ میں احتساب کا نعرہ لگایا تو اپنے ہی اتحادی اور وزراء پکڑے گئے۔ فارورڈ بلاک بنا اور حکومت گرانے کی دھمکی ملی تو خٹک صاحب اپنے ہی دھتکارے ہوئے وزراء اور اتحادیوں سے معافی مانگتے نظر آئے۔ جس قسم کی کرپشن کا بازار جنوبی اضلاع میں گرم رہا اس پر کسی کے کان میں جوں تک نہیں رینگی۔ وزراء بلیک میل کرتے رہے اور حکومت ہوتی رہی۔ ہاں الیکشن کمشنر کو لولہ لنگڑا کر دیا گیا اور انھیں گھر جانا پڑا۔ خان صاحب نے اس صوبے سے سوتیلوں جیسا سلوک کیا جس نے ان پر بھروسہ کیا لیکن لیڈر وزیراعظم کی دم پکڑے رہے 5 سال اور صوبہ بدستور پرویز خٹک کی بادشاہی میں وقت گزارتا گیا۔
عوام سے ہزاروں وعدے کئے گئے لیکن نہ تو گورنر ہاوس میں لائبریری بنی اور نہ ہی وزیراعلی ہاوس میں کالج۔ ہاں البتہ جو پچھلے وزرائے اعلی نے نہیں کیا وہ خٹک صاحب نے کر دکھایا اور وزیراعلی ہاوس میں کروڑوں کی لاگت سے سومنگ پول بنوا لیا۔ جس تبدیلی کا وعدہ کیا گیا اس کا 10 فیصد تو شائد پرائمری سکول اور اکا دکا ہسپتال میں نظر آجائے لیکن بالعموم جس لگن سے الیکٹوریٹ نے اقتدار سونپا ویسا کچھ بھی پارٹی نہیں کر سکی۔ دھرنے میں استعفی کے معاملے پر اراکین کھل کر سامنے آئے اور استعفی دینے سے انکاری ہوئے۔ نظریہ کو دفن وہاں ہوتے دیکھا۔ جس کا عملی نمونہ حالیہ سینٹ الیکشنز میں سامنے آیا جب پارٹی کے آدھے اراکین نے پیسے لیکر اپنا ووٹ بیچ دیا۔

اس سے بھی کچھ سبق نہیں سیکھا گیا اور حالیہ ٹکٹوں کی تقسیم نے تو تبدیلی کا بھانڈا ہی پھوڑ دیا۔ جب 21 سالوں سے پارٹی سے وفادار رہنماوں پر ہفتہ پہلے آنے والے امیدواروں کو ترجیح دی گئے۔ جن الیکٹیبلز کے خلاف کارکن جدوجہد کرتے رہے آج انھی کو عمران کے سنگ دیکھتے ہیں تو دل سے آہ نکلتی ہے۔ آج عامر لیاقت، فواد چوہدری، نزر گوندل، ندیم افضل چن، فردوس عاشق، ساہی برادران اور وہی سلیم سیف اللہ جن کا زکر اوپر ہو چکا ہے کو پارٹی میں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ صاف شفاف امیدواروں پر انہی وڈیروں اور لٹیروں کو ترجیح دے کر نظریہ کو دفن ہوتے دیکھ کر بہت سوں کے حوصلے پست ہوئے ہیں۔ سرٹیفائیڈ کرپٹ سیاستدانوں کے ساتھ مل کر تبدیلی کا جنازہ ہی پڑھا جا سکتا ہی تبدیلی کی تو کوئی امید نہیں کی جاسکتی۔
جس طرح سندھ، بلوچستان اور پشتونخواہ کو نظر انداز کر کے پنجاب کے روئتی سیاستدانوں کو اکٹھا کیا گیا، چوہدری برادران جن کے خلاف آپ جلسے کرتے رہے، مشرف کے ساتھی اور بچوں کے قاتل کہتے رہے، انھی کے حق میں اپنے امیدوار دستبردار کرنا، سندھ کے جاگیرداروں اور بلوچستان میں اسٹیبلشمنٹ کے پروردا امیدواروں سے گٹھ جوڑ کرنا کس جمہوریت پسند کو بھاتا ہوگا؟ الیکشن سے قبل دو صوبوں کے نگران وزرائے اعلی کا تقرر الیکشن کمیشن کے ہاتھوں ہونا جمہوری عمل کے بارے میں کیا تاثر دیتا ہے۔ جو عمارت کھڑی کرتے نسلیں جوان ہو گئیں اقتدار کے ہوس میں کئے گئے فیصلوں سے ایسے زمین بوس ہوئی کہ دوبارہ اسے کھڑا کرنے میں شائد سالوں لگ جائیں۔ تبدیلی کا جو سفر اکیلے خان صاحب نے کچھ دوستوں کے ہمراہ شروع کیا تھا انتھک محنت کے بعد الیکٹوریٹ کی بھر پور حمایت سے آگے بڑھا اور بلندیوں کو چھوتا رہا بالآخر الیکٹیبلز کے مکروہ کردار کی وجہ سے ایسی پستی میں اختتام پزیر ہوا کہ جس سے نکلنا اب بہت مشکل ہے۔