وقاص احمد

انا کیا ہوتی ہے۔ انا کے دو مطالب ہیں، ایک مثبت اور ایک منفی۔ مثبت مطلب میں انا کا قریب ترین مترادف لفظ خوداری ہے۔ مثلاً کوئی شخص یہ کہے کہ میری انا گوارا نہیں کرتی کہ میں کسی سے مدد کی بھیک مانگوں۔ اسی طرح انا کا منفی قریب ترین مترادف ڈھٹائی ہے۔ مطلب یہ کہ آپ کسی موقف، کسی سوچ، کسی نظریے، کسی تاویل پر یہ جانتے بوجھتے بھی اڑ جائیں کہ آپ غلط پر کھڑے ہیں۔
پاکستان میں سیاسی سوچ ہمیشہ سے دو قطبین میں بٹی رہی ہے۔ پہلے بھٹو اور اینٹی بھٹو ووٹ ہوتا تھا اب نواز اور اینٹی نواز ووٹ ہے۔ اینٹی نواز ووٹ کیسے پیدا کیا گیا اور کیسے پروان چڑھایا گیا اس کی تفصیلات اب بچے بچے کو ازبر ہیں اس لیے ہم اس پر بحث نہیں کرتے۔ ہم آج صرف اس ذہنیت پر بات کرتے ہیں جن کے مطابق پاکستان کی بقا کے لیے خاں صاحب کو “ایک چانس” ملنا اشد ضروری تھا۔ یہ ایک چانس والی سوچ وطن عزیز میں 2010 میں پروان چڑھانا شروع کی گئی۔ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کی گھن گھرج اور ریٹائرڈ سازشی جرنیلوں کی ریشہ دوانیوں میں یہ سوچ 2013 تک اپنے بام عروج تک پہنچائی گئی مگر باوجود تمام کوشش یہ سوچ قومی اسمبلی میں 30 نشستوں سے زیادہ جگہ نا پا سکی۔ الیکشن کے ایک سال بعد اسی سوچ کو دھاندلی کا تڑکا لگا کر دوبارہ مارکیٹ میں لانچ کیا گیا مگر الٹا جب 126 دن کے دوران پی ٹی آئی کے ہمدرد پڑھے لکھے، سلجھے ہوئے اور دور اندیش لوگوں کو خاں صاحب کی ڈوریں کہیں اور سے ہلتی نظر آئیں تو وہ بھی ساتھ چھوڑتے گئے۔ مگر ابھی بھی اکثریت یہی سمجھتی تھی کہ خاں صاحب کو چانس لازماً ملنا چاہیے۔ خاں صاحب کو اگلے چار سال میں یہ چانس ملا تھا کہ وہ اپنی صوبائی حکومت میں اپنے ہی پیش کردہ خیالی گڈ گورننس ماڈل کو لانچ کر کے اپنا “حقیقی ووٹ بنک” قائم کرتے مگر بوجہ نااہلی و نالائقی اس میں ناکام رہے۔ ان چار سال کے دوران پی ٹی آئی کے پڑھے لکھے سلجھے ہوئے طبقے کے چند مذید لوگ کے پی کے کی حالت زار اور خاں صاحب کی لاابالی طبیعت دیکھ کر اس پارٹی کا ساتھ چھوڑ گئے۔ مگر ابھی بھی غالب اکثریت کوئی نا کوئی تاویل گھڑ کر خاں صاحب کے “چانس” کا حق محفوظ سمجھتی تھی۔ “پانامہ، اقامہ، کرپشن اور کھا گئے پی گئے” والے شور میں الیکشن کی طرف بڑھتی پارٹی کا حال یہ تھا کہ ملکی و غیر ملکی جریدوں چھوڑ، یہاں تک کہ پرویز مشرف جیسے informed لوگوں اور خود خاں صاحب نے بھی جب شور ڈالا کہ ن لیگ کو روکو ورنہ یہ اگلا الیکشن بھی جیتنے جارہی ہیں تو ان کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے جوڈیشو ملٹری الائنس نے جو گھناؤنا کردار 2018 کے الیکشن میں ادا کیا وہ پاکستان کی تاریخ میں ایک سیاہ باب ہے مگر مثبت بات یہ ہوئی کہ پی ٹی آئی کے ووٹرز، خود کو عقل کل سمجھنے والے جرنیلوں اور ججوں کے ٹولے کی تاش کے سارے پتے ایک ہی باری میں ٹیبل پر آگئے۔ مطلب وہ “چانس” جس کا اہتمام گزشتہ دس سال سے کیا جارہا تھا وہ آخر کار خاں صاحب کو دے ہی دیا گیا۔ ہم اس الیکشن کی اخلاقی حیثیت پر سوال نہیں کریں گے مگر خوش کن حیرانی یہ ہوئی کہ اپوزیشن جماعتوں کی غالب اکثریت نے خاں صاحب کے “چانس” کو فری ہینڈ دینے کا فیصلہ کر لیا۔
خاں صاحب کی حکومت اپنی نوعیت کی منفرد ترین اور خوش قسمت ترین حکومت ہے۔
یہ وہ حکومت ہے جس کی کامیابی کی خوشیاں جی ایچ کیو میں منائی گئیں۔
یہ وہ حکومت ہے جس کے راستے ہموار کرنے کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان نے بلڈوزر کا کام کیا۔
یہ وہ حکومت ہے جس کے لیے سٹاک مارکیٹ کے بروکرز دعائیں کرتے تھے
یہ وہ حکومت ہے جس کو متوسط، امیر اور بیرون ملک پاکستانیوں کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔
یہ وہ حکومت ہے جس کو پاکستان کی کسی بھی نئے آنے والی حکومت سے بہتر معاشی حالات ملے۔ فارن کرنسی ریزروز اور جی ڈی پی کی ایسی شرح کسی کو آج تک ورثے میں نہیں ملی۔
یہ وہ حکومت ہے جس کو اپوزیشن جماعتیں ایسی ملیں جو آگے بڑھ بڑھ کر کہتی ہیں کہ جناب ہمارے لائق کوئی خدمت ہو تو بتائیں۔
اور یہ وہ حکومت ہے جس کا دفاع کرنے کے لیے اینکروں اور سوشل میڈیا کارکنان کی ایسی فوج ظفر موج موجود تھی جن کو یہ ملکہ حاصل تھا کہ وہ موجودہ حکومت کی ناکامی کو پچھلی حکومت پر اور پچھلی حکومت کے منصوبوں کو موجودہ حکومت کے کارنامے ثابت کر سکتے تھے۔
مگر اس سب کے باوجود اس حکومت کی کارکردگی آپ کے سامنے ہے، ڈاکٹر فرخ سے لیکر حسن نثار، ارشاد بھٹی سے لیکر ہارون رشید، ایاز میر سے لیکر دیگر وہ تمام نامی گرامی تجزیہ نگاروں کی فوج جنہوں نے پی ٹی آئی کہ ہوا باندھنے میں بنیادی ترین کردار ادا کیے وہ آج کیا کہہ رہے ہیں یہ سننے لائق ہے۔ حکومت کی بے سمت بھاگ دوڑ، معاشی محاذ پر مکمل ناکامی، سفارتی محاذ پر سبکی اور حکومت میں ہونے کے باوجود اپوزیشن والی پھوکی الزام تراشیوں کے علاوہ ان چھے مہینوں میں کچھ برآمد نہیں ہوا۔ مگر ڈھٹائی ابھی باقی ہے۔ کبھی کسی ادارے کی طرف سے زبردستی کی مثبت رپورٹنگ کی فرمائش نازل ہوتی ہے، کبھی حکومتی پالیسیوں پر نکتہ چینی کرنے والے صحافیوں کے روزگار بند کیے جاتے ہیں مگر نااہلی اتنی شدید ہے کہ چھپائے نہیں چھپ رہی۔ شروع کے دو تین مہینے سوشل میڈیا پر خوب فنکاری کی گئی کہ ہم نے خاں صاحب کو ڈالر سستا کرنے نہیں بلکہ چور پکڑنے بھیجا ہے۔ آج حالت یہ ہے کہ ناں کسی کو چور ثابت کر پا رہے ہیں ناں ہی ڈالر قابو میں ہے۔ پی ٹی آئی کے حمایتی عناصر کے تمام پتے اس وقت گیم ٹیبل پر موجود ہیں۔ اب “ویزنری خاں صاحب” وزیراعظم بھی بن گئے اور “جینیس” اسد عمر وزیر خزانہ بھی۔ علامہ اقبال کی اولاد بھی “پاکستان بچانے” آ چکی ہے اور “پڑھی لکھی کرپشن فری قیادت” بھی میدان میں ہے۔ جنوبی پنجاب اور بلوچستان کی “محرومیاں” دور کرنے کے اسباب بھی ہوچکے ہیں اور ہر طرح کی انتظامی تبدیلیاں کرنے کے اختیارات بھی مل گئے ہیں، “کرپٹ” نواز شریف بھی جیل میں ہے اور “ڈیزاسٹر” منشی اسحاق ڈار بھی جلاوطن، ملک کے اتنے ادارے “ایک پیج” پر آ چکے ہیں کہ “پیج” ہی چھوٹا پڑ گیا ہے مگر ڈھلوان کا سفر ایسا ہے کہ تیز سے تیز تر ہوتا چلا جارہا ہے۔ تحریک انصاف سے رفتہ رفتہ نکل جانے والے باشعور اور پڑھے لکھے لوگوں کے بعد رہ جانے والے لوگوں کے پاس خاں صاحب کو بچانے کا آخری حل اب ایک ہی رہ گیا ہے اور وہ حل ہے “الزام تراشی” کا۔ ناکامی کا مدعا پچھلی حکومت پر ڈالنا مشکل ہوتا جارہا ہے اور اب قربانی کے بکرے بیوروکریسی اور حکومتی وزراء ہوں گے۔ یہ ڈھٹائی اور الزام تراشی مذید خوفناک نتائج لائے گی۔ عمران نیازی صاحب کے دیرینہ ساتھی اکبر ایس بابر صاحب بہت پہلے ہی یہ کہہ چکے ہیں کہ عمران خوفناک حد تک سفاک، خود غرض، خود پسند انسان ہے، جب بھی کوئی ناکامی آئی یہ اپنے کندھے جھاڑ کر کھڑا ہوجائے گا اور الزام اپنے ہی اردگرد والوں پر لگا دے گا۔ بیوروکریسی کو پہلے ہی عدالتی تلوار سے تہہ تیغ کرکے بے دست و پا کردیا گیا ہے، رہی سہی کسر موجودہ حکومت کے شوخے وزیر بڑھکیں لگا لگا کر پوری کر رہے ہیں۔ وفاق کی ڈرائیونگ سیٹ پر خاں صاحب اور پنجاب کی ڈرائیونگ سیٹ پر عثمان بزدار جیسے مہان “ویژنری” نابغے بیٹھے ہیں۔ لوگوں کو یہ بات سمجھنا ہوگی کہ اسی بیوروکریسی کے ساتھ اگر ن لیگ کی حکومت نے معاشی معجزے کر دکھائے تھے تو اب مسئلہ کیا ہے۔ مسئلہ ہے لیڈر شپ کا۔ خاں صاحب درست کہتے تھے کہ اگر اوپر لیڈر ٹھیک ہو تو نیچے کام خودبخود ٹھیک ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر اوپر لیڈر گھامڑ بیٹھا ہو تو ادارے لامحالہ بے سمتی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اب بھی وقت ہے، سمجھ جائیں کہ مسئلہ اسد عمر میں نہیں بلکہ مسئلہ عمران خاں اور اس جھوٹے بیانیے میں ہے جو خاں صاحب کی مدد سے پھیلایا گیا۔ جب آپ کا حکمران ہی ملک میں انارکی پھیلانا چاہتا ہو تو دنیا کا کوئی طاقت اس ملک کو بچا نہیں سکتی۔ آپ کے ملک کا حکمران ہی ہر طرف آگ لگانا چاہتا ہو تو آپ کے ملک میں کوئی گدھا انوسٹمنٹ نہیں کرسکتا۔ جب آپ کا لیڈر ہی پر اعتماد نا ہو تو دوسروں کو اعتماد نہیں دیا جاسکتا۔ خدارا اب بھی وقت ہے۔ اس ڈھٹائی سے نکلیں۔