مہناز اختر

فقہ یعنی فہمِ دین کے بنیادی ماخذ قرآن , سنت, اجماع , اجتہاد,قیاس/عقل اور استحسان وغیرہ ہیں( یہاں میں نے فقہ خمسہ کے حوالے سے ماخذوں کی عمومی ترتیب درج کی ہے انفرادی طور پر ان کی تعداد کم یا زیادہ بھی ہوسکتی ہے)۔ مشہور اماموں کے درمیان فہمِ دین اور آراء کے اختلاف نے فقہ کو جنم دیا جو دین اسلام میں مسلک یا مذہب کی تقسیم کا بنیادی سبب ہے . واضح رہے کہ علم فقہ میں مسلک یا مذہب کی اصطلاح مترادف معنوں میں لی جاتی ہے دونوں الفاظ بمعنی “راستہ” کے طور پر لیے گئے ہیں. اسلام کے لیئے لفظ “دین” کا استعمال ہوتا ہے اور تصوف میں لفظ مسلک “سلوک” کے طور پر دکھائی دیتا ہے.

عمومی طور پر ہر انسان کا فہم , تحقیق,علمی و فکری مرتبہ اس قدر بلند نہیں ہوتا کہ وہ دینی یا سیاسی معاملات میں کسی مسئلے پر کوئی ٹھوس رائے قائم کرسکے اس لیئے عوام الناس تقلید کا راستہ اختیار کرتی ہے .تقلید کے معنی گلے کا پٹہ/ہار اور پیروی کے ہیں. تقلید عین فطرت انسانی ہے اس لیئے لوگ دین کے علاوہ بھی سیاسی و سماجی معاملات میں تقلید کی راہ اپناتے ہیں. مطالعہ حیوانی نفسیات میں بھی تقلید کی بہترین مثالیں دکھائی دیتی ہیں اور انہی حیوانوں میں اندھی تقلید کی واضح مثال بھیڑوں کی نفسیات میں نظرآتی ہے جسے Sheep behavior کہا جاتا ہے.

قرون اولیٰ سے لے کر آج تک مسلمان آپس کے نظریاتی اختلاف اور فقہی مسائل کو لے کر ایک دوسرے کے خون کی ندّیاں بہاتے آئے ہیں.آپ کو ہر صدی اورعشرے میں اندھی تقلید کی بھیانک مثالیں دکھائی دیتی ہیں. تاریخ قدیم سے قطع نظر جدید تاریخ میں صرف گزشتہ صدی میں دارالعلوم دیوبند اور دارالعلوم بریلی کے آپس کے فقہی اختلاف نے مسلمانوں کو کس نہج پر ڈال دیا ہے اسکا اندازہ ان گروہوں کےمناظروں اور مجادلوں کے احوال سے لگایا جاسکتا ہے. تعجب کی بات ہے کہ فکری اختلاف پر قائم ہونے والے مسالک نے آج امت مسلمہ پر فکر و فہم یعنی فقہ کے دو انتہائی اہم ماخذوں (اجتہاد اور قیاس/عقل) کے دروازوں کو آپ پربند کرکے اسکا ٹھیکہ خود لے لیا ہے کیونکہ اگر ایک مرتبہ یہ دروازہ آپ پر کھل گیا تو بہت سے مذہبی ٹھیکے داروں کی دکانیں بند ہوجائیں گی. یہ مذہبی ٹھیکے دار جان بوجھ کر عوام کو دو ابتدائی ماخذوں سے دور رکھتے ہیں اور انہیں مسلکی پرچار پر مبنی تشریحات و تاویلات کی طرف لے جاتے ہیں حتٰی کہ رفتہ رفتہ عوام اندھے مقلّدین کی بھیڑ میں شامل ہوکر Sheep Behavior کا مظاہرہ کرنے لگتی ہے.

آپ نے اکثر جوشیلے مقرروں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہوگا کہ ہم مسلمان دنیا کی آبادی کا دوسرا بڑا حصّہ ہیں. حقیقت تو یہ ہے کہ دنیا کی آبادی کا 24 فیصد مسلمان حصہ آپس میں اتنا تقسیم ہے کہ ایک دوسرے کو مسلمان تسلیم کرنے کو تیار نہیں. مسلمان سنّی, شیعہ, اسماعیلی, آغا خانی ,سلفی, وہابی, اہل حدیث, دیوبندی, بریلوی و دیگر خانوں میں تو پہلے سے ہی منقسم تھے مگر فی زمانہ اسلام برانڈڈ بھی ہوگیا ہے مثال کے طور پر القائدہ, طالبان,داعش مارکہ اسلام یا امام خمینی اور آل سعود کا سلام . پاکستان میں جماعت اسلامی , جماعت الدعوۃ, فضل الرحمٰن, ملا فضل اللہ, صوفی محمد, طاہرالقادری, مولانا طارق جمیل, زید حامد, اوریا مقبول جان,عامر لیاقت حسین, خادم حسین رضوی برانڈز کے اسلام زیادہ مشہور ہیں اور اپنی اپنی مارکیٹ بھی رکھتے ہیں انکے علاوہ روحانی سلسلوں کے پیری مریدی والے برانڈز کی بھی ایک طویل فہرست ہے.

برانڈڈ اسلام والے گروہوں میں اندھی تقلید کی مثالیں روز ہی دیکھنے کو ملتی ہیں حالیہ دنوں میں ایک مخصوص رنگ کی اسلامی تنظیم نے اپنے قیام کے کئی سالوں بعد یہ محسوس کیا کہ عمامہ کا رنگ سبز کے بجائے سرخ یا سفید بھی ہوسکتا ہے اورمقلدوں کی جانثاری کا اندازہ لگائیں کہ سب نے اس طرز فکر کو بلا چوں چراں قبول کرکے پورے برصغیر میں اسلام کو سبز رنگ میں رنگ دیا تھا. اسی طرح جماعت اسلامی نے CIA اسپونسرڈ سعودی برانڈ جہاد کو عین اسلام قرار دے کر پوری نسل کو گمراہ کیا . دوسری جانب جنرل ضیاء الحق ,حافظ سعید , زید حامد اور اوریا مقبول جان جیسی ہستیوں نے ایک نئے برانڈ کے اسلام کو پاکستان میں متعارف کروایا جسکا نام “پاکستانی مارکہ اسلام ” ہے, اسمیں غزوہ ہند تھیوری کا پرچار کیا جاتا ہے اسکی رو سے دو قومی نظریہ الہامی ہے, پاکستان دارالسلام جبکہ ہندوستان دارالحرب ہے اور ہندوستانی مسلمانوں کا ایمان پاکستانی مسلمانوں کے ایمان سے کم ہے. قربان جائیے اندھی تقلید کی روش پر کہ اس جانب کوئی توجہ نہیں دیتا کہ پاکستان سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں وجود میں آیا تھا اور اس دور کی سیاسی جنگ میں مذہبی طبقہ پرے پرے تھا. اور برانڈڈ اسلام کی سب سے تازہ مثال سعودی عرب کے “شاہ سلیمان برانڈ اسلام” کی ہے. ان مثالوں کا مقصد دراصل یہ ہے کہ اندھی تقلید اور برانڈڈ اسلام کی مثالیں آپ کو جا بجا بکھری نظر آئیں گی اور کیونکہ بحیثیت قوم تحقیق سے ہمارا دور پرے کا بھی واسطہ نہیں ہے اسلیئے ہم جنت کمانے کے شارٹ کٹ کی تلاش میں رہتے ہیں اور نتیجتاً انہیں برانڈڈ اسلام کی کسی ایک فرنچائز سے وابستہ ہوجاتے ہیں.

مذہبی نظریات وعقائد ایک ادارے کی مانند ہوتے ہیں جو فرد اور سماج کی فکری بنیادوں کو مظبوط کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں. بدقسمتی سے دین کے اسی ادارے کو مذہبی ٹھیکے داروں نے صنعت میں تبدیل کردیا ہے جہاں مقلّدوں کا ویسے ہی استحصال ہوتا ہے جیسے کارخانوں میں مزدورں کا کیونکہ بحیثیت مقلّد آپ فکری آزادی کا حق محفوظ نہیں رکھتے اور آپکی جان آپ کے عقیدے کے بدلے ان کارخانوں میں گروی رکھ لی جاتی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here