عاطف توقیر

کئی مواقع پر مجھے فیس بک پر مختلف افراد کے درمیان یہ مکالمہ دکھائی دیتا ہے، جس میں ایک طرف وہ افراد ہیں جو یہ بات ماننے پر تیار نہیں کہ بندروں یا انسانوں کے درمیان کوئی تعلق ہے اور دوسری طرف وہ افراد ہیں، جو ہمیں بندروں کے بھائی بند بنانے پر مصر نظر آتے ہیں۔

ایک طرف وہ ہیں، جو ڈارون کے نظریہء ارتقا کو فقط ایک عمومی نظریہ گردان کو چیخ پڑتے ہیں کہ کیا انسان بندر سے بنا ہے؟ پھر اگلا سوال یہ بھی ہوتا ہے کہ اگر بندر سے بنا ہے، تو بعد میں بندر کیوں انسان نہیں بن گئے۔

ظاہر ہے ایسی بات کرنے والا اصل میں یہ اظہار کر رہا ہوتا ہے کہ اس کا سائنس سے کوئی تعلق نہیں، یا وہ ڈاورن کے نظریہء ارتقا سے بالکل بھی آگاہ نہیں اور اس کا بیانیہ فقط چند روایتی جملوں پر قائم ہے۔

ڈاورن کے نظریے پر سائنسی حلقے میں فقط تب تک بحث ہوتی رہی، جب تک سائنس دان انسانی کھوپڑیاں اور پنجر جمع کر کے انسانی ارتقائی منازل اور ڈارون کے نظریے کی تشریح کے تحت اس ارتقا کی کڑیاں ملانے کی کوشش کرتے رہے۔ مگر پچھلی صدی میں ڈی این اے کی دریافت اور پھر اس پر تحقیق کے بعد یہ بحث ختم ہو چکی۔ دنیا کے تمام جانوروں کے ڈی این اے کا ایک سا ہونا اور پھر ڈارون کے نظریے کے مطابق تناسب کے اعتبار سے ایک جیسی اسپیشیز کے جانوروں کے جینوم میں مماثلت کے ثبوت سامنے آنے کے بعد سائنسی دنیا میں ڈارون کا نظریہ سائنسی حقیقت بن چکا ہے۔ بدقسمتی سے دیگر شعبوں کی طرح چوں کہ ہمارے معاشرے میں سائنس کو فقط رسمی انداز سے لیا جاتا ہے، اس لیے ہمارے بچوں کو اب تک ماضی کے قصے سنائے اور پڑھائے جا رہے ہیں۔

بندر اور انسان کا ڈی این اے قریب 99 فیصد ملتا ہے۔ یہ فرق بڑے چوہے یعنی ریٹ اور چھوٹے چوہے یعنی ماؤس کے درمیان جینیاتی فرق سے دس گنا کم ہے۔ اس سے خود ہی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ یہ فرق کس حد تک کم ہے۔

یہ سوال کہ کیا انسان بندر سے بنا ہے؟ ایک نہایت فضول سوال ہے، کیوں کہ ڈارون کا نظریہ کہیں نہیں کہتا کہ انسان بندر سے پیدا ہوا ہے۔ سائنسی حقائق بتاتے ہیں کہ انسان اور بندر کے جدِ ابجد ایک سے تھے، یعنی وہاں سے ارتقا پر کر انسان انسان بنا اور بندر بندر۔

کروموسومز کی تعداد کے معمولی فرق کو ایک طرف رکھ دیں اور جین کو بھی ایک طرف کر دیں، تو سوال یہ ہے کہ ہمیں کیا شے بندروں یا دیگر جانوروں سے الگ کرتی ہے۔

بندر اور جین کا یہ درمیانی فرق اصل میں انسانی دماغ کو ریشنل بناتا ہے۔ وہ افراد جو ریشنل کی تعریف سے واقف نہیں، سمجھ لیں کہ ریشنل سے مراد ہے ایک وقت میں دو یا دو سے زائد آئیڈیاز یا خیالیوں کو پراسس کرنے یا فکر سے گزارنے کی صلاحیت۔ یہ صلاحیت صرف اور صرف انسانی دماغ کے پاس ہے۔ یعنی دیگر جانوروں کے پاس بھی دماغ تو ہے، مگر وہ دماغ فقط ایک خیالیے ہی سے جڑا ہے۔ ایک فطری خیالیہ جو اسے فقط اپنے افعال انجام دینے اور زندہ رہنے کی سعی میں مصروف رہنے سے عبارت رکھتا ہے۔

انسانی ذہن کی طبعی طاقت اپنی جگہ مگر اس کی عملی طاقت کا واحد اظہار فقط اس وقت ممکن ہے کہ اگر کسی انسان کے پاس پراسس کرنے کے لیے مختلف خیالیے موجود ہوں۔

ایک جمود پزیر یک جہتی خیال یا نظریے کی بجائے غیرمطلق اور متحرک خیالات، جن میں غلط ہو جانے کی صورت میں نئے خیالیوں کے لیے جگہ موجود ہوں، دماغ کے حوالے کیے جائیں اور پھر اسے کام کرنے دیا جائے۔

مختلف انسانی معاشروں میں ایک خاص طبقہ پوری کوشش کر کے انسانوں سے کثیرالجہتی خیالات چھین کر ان کے خیالیوں کو محدود بنانے کی کوشش کرتا ہے اور اس کے لیے مختلف طرز کے پیمانے اور آلے استعمال کیے جاتے ہیں، جن میں خوف بھی ہے، لالچ بھی، حرص و متاع بھی اور جانے کیا کیا۔ اس طبقہ کا واحد مقصد یہ ہوتا ہے کہ زبردست طاقت کے حامل انسانی دماغ کو پراسس کرنے کے لیے فقط ایک خیالیہ دیا جائے اور یہ طے کر دیا جائے کہ یہی جامد اظہاریہ ہی واحد درست خیالیہ ہے اور اس سے باہر کی ہر شے ناصرف نادرست ہے بلکہ اس کی طرف ہاتھ بڑھانا بھی ناقابل برداشت ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ پورا معاشرہ رفتہ رفتہ جمود کا شکار ہو جاتا ہے اور سماج میں علم و مکالمت کی بجائے، جہالت و تاریکی راج کرنے لگتے ہیں۔

ایسے معاشرے میں آپ بندر اور انسان کے درمیان اس ایک فیصد کے فرق کو سمجھنے نکلیں، تو شاید آپ واقعی فرق نہ کر سکیں کہ کس بنیاد پر ایسے کسی جمود زدہ زہن کو ’ریشنل دماغ‘ قرار دیا جا سکے گا۔

یہ بات تو صد فیصد درست ہے کہ انسان بندر سے پیدا نہیں ہوا، مگر مختلف معاشروں اور خصوصاﹰ غیرعلمی اور جمود زدہ روایتوں اور نظریات کے معاشروں میں جا کر تفصیلی اور علمی نگاہ ڈالی جائے، تو یہ بات واضح دکھائی دے گی کہ یہ معاشرے ’فکری طور پر انسانی‘ معاشرے نہیں۔ یعنی بندر سے تو انسان نہیں بنا مگر علم اور خیالات کے بغیر کوئی انسان ایک بندر ضرور بن سکتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here