ولید بابر ایڈووکیٹ

انسان کیا سوچتا ہے؟ اس فکر کے آتے ہی لاتعداد خیالات انسانی ذہن کو اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں۔ انسان خود کو طرح طرح کے اندیشوں’پشیمانیوں’ حسرتوں،خوشیوں’ ناکامیوں اور کامرانیوں میں جکڑا محسوس کرتا ہے۔ ویسے تو انسانی ذہن بوقت ہوش’ مصروف بہ عمل ہوتا ہے مگر ہمارا موضوع بے وقت متفرق خیالات نہیں’ بلکہ وہ عمومی میلان ہے جو بحثیت مجموعی انسانی کردار پر حاوی ہوتا ہے۔ یوں سمجھئے وہ انسانی اہداف جن کے لیے انسان تگ و دو کرتا ہے اور جن کا حصول اس کا مقصد حیات ہوتا ہے۔ انسانی سوچ کو اس کے رحجانات پر پرکھیں تو حسب ذیل اقسام کی سوچیں سامنے آتی ہیں۔
1- انفرادی سوچ۔
اس سے مراد وہ سوچ ہے جو فرد واحد اپنی ذات’ اہل وعیال اور خاندان کے لیے رکھتا ہے۔اچھی نوکری، تعلیم و تربیت ‘ علاج معالجہ’ پر آسائش زندگی وغیرہ۔اس سوچ کا دائرہ کار محض ایک فرد کی ذات کے گرد معکوس ہوتا ہے۔سماجی حالات’ سیاسی ہلچل’ معاشی پالیسیاں’ ثقافتی تبدیلیاں ایسا کوئی موضوع اس سوچ کے حامل افراد کا متمع نظر نہیں ہوتا۔ سماج اور انسان کے درمیان کیا ربط ہے؟کیا سماجی ترقی کے بغیر انفرادی خوشحالی ممکن ہے؟ ایسا فرد سماج سے الگ تن تنہا کوشش کر کے اپنے مسائل کے حل اور مثالی زندگی کے حصول کے لیے کوشاں رہتا ہے۔اور زندگی میں کامیاب انسان اس کی مثالی شخصیت (رول ماڈل) ہوتے ہیں اور اسی کی مثال ہر موقع پر دی جاتی ہے۔ قدیم یونانی اسی سوچ رکھنے والے کو “احمق” (idiot ) کہتے تھے۔ احمق سے مراد ذہنی ناپختگی یا بیماری نہیں بلکہ شخصی زندگی ہے۔
2-گروہی/قبائلی سوچ۔
ایسی سوچ جو کسی مخصوص گروہ (گروپ) کے متعلق ہو۔ اس سے مراد انسان کی سیاسی’ معاشی’ ثقافتی’نسلی’ لسانی’ علاقائی’پیشہ وارنہ’ مذہبی و دیگر گروپ بندی ہے جس کے مفادات مشترک ہوتے ہیں۔افراد کا مخصوص گروہ’ گروہی مفادات کے حصول کے لیے انجمن بھی تشکیل دیتے ہیں جس کا مقصد اپنے گروہ/ گروپ کے مفادات کا حصول و تحفظ ہوتا ہے۔ ایسا گروہ دوسرے کسی گروہ کے لیے کوئی پروگرام نہیں رکھتا مگر بوقت ضرورت اگر ایک گروہ کے مفادات دوسرے گروہ کے ساتھ موافق یا مشترک ہوں تو باہمی تعاون و اشتراک عمل میں آتا ہے۔ (طلباء کی کال پر ٹرانسپورٹر کی پہیہ جام ہڑتال یا ڈاکٹرز کے ساتھ پیرا میڈیکل سٹاف کا کام بند کرنا اس کی چند مثالیں ہیں)۔ اسی طرح ایک گروہ کے دوسرے گروہ کے ساتھ متضاد مفادات بھی ہو سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں دونوں گروہ باہمی چپقلش کا شکار ہونگے اور پرتشدد کارروائیاں بھی دیکھنے کو ملیں گی ( تاجران کا ٹرانسپورٹر کے ساتھ تضاد اس کی مثال ہے)۔ انجمن تاجران’وکلاء’ ڈاکٹرز’ٹرانسپورٹرز’ طلباء’سول ملازمین’استاتذہ’مذہبی فرقے‘ نسلی و لسانی تنظیمیں و پریشر گروپ سب اسی سوچ کی عکاس ہیں۔عمومی طور پر ایسی سوچ کا تعلق اجتماعی مفادات کے ساتھ بہت خفیف ہوتا ہے۔ مگر’ اگر اس گروہ کو اجتماعی سوچ کے ساتھ اس بات پر قائل کیا جائے کہ ان کے مفادات اجتماعی تبدیلی( سماجی تبدیلی/انقلاب) کے ذریعے ہی ممکن ہیں تو یہ گروہ سماجی تبدیلی کے لیے مصروف عمل تنظیم کا بخوشی حصہ بن جاتا ہے۔دنیا بھر کے انقلابات میں مزدور یونین’ کسانوں’ طلباء و دیگر انجمنوں کی سرگرم شمولیت اسی اصول کے تحت روبہ عمل ہوئی ہے۔(قبائلی سے مراد کسی خاص قبیلہ سے تعلق نہیں بلکہ مخصوص گروپ کے مفادات کی بناہ پر اس کو قبائلی سوچ کہا جاتا ہے۔ اس سوچ کو تین ذیلی اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
۱-مثبت گروہی سوچ۔
جو پرامن طریقے سے اپنے مفادات کے حصول و تحفظ کے لیے روبہ عمل ہوتی ہے مثبت گروہی سوچ کہلاتی ہے۔نئی سوچوں’خیالات و نظریات کو خوش آمدید کہا جاتا ہے۔ مثبت مکالمہ اور تعمیری تنقید کے سبب دوسرے گروہوں کے لیے ہمدردی روا رکھی جاتی ہے۔یہی سوچ ترقی پسندی کے زینہ سے چڑھ کر انقلابی تنظیم کا دست و بازو بنتی ہے۔
۲- منفی گروہی سوچ۔
ایسی سوچ جو اپنے اہداف کے لیے پرتشدد کاروائیاں اختیار کرے منفی گروہی سوچ کہلاتی ہے۔ اپنے مفادات کے حصول کے لیے یہ کسی بھی حد تک جا کر کوئی بھی راستہ اختیار کر سکتے ہیں۔ ایسی سوچ جامد ہوتی ہے اور تخریب کاری کو جہنم دیتی ہے۔ اپنی محرومیوں کے لیے یہ ہر اس فرد کو جو اس کا حامی نہ ہو اپنا دشمن تصور کرتی ہے اور قابل قتل گردنتی ہے۔ فاشزم’ مذہبی دہشت گردی’نسلی و لسانی گروہ اسی سوچ کی پیداوار ہیں۔
۳-پیشہ وارانہ سوچ۔
ایسے افراد جو اپنے پیشہ کے ساتھ جنون کی حد تک منسلک ہوتے ہیں۔ سخت محنت’ علمی مہارت اور ولولہ انگیز ریاضت کے سبب یہ خود کو اپنے پیشہ کے کمال کی انتہاہتک پہنچانا چاہتے ہیں۔صنعت وحرفت’ فن’کھیل’موسیقی’ علم و ادب’ایجادات کی بنا پر اپنا نام روشن کرنا اور ملک و قوم کی نمائندگی اس سوچ کا ہدف ہوتا ہے۔ اس کا سبب انفرادی مالی مفادات اور اجتماعی ترقی دونوں ہو سکتے ہیں۔ سائنسدان’ بین القوالامی صنعت کار’ مشہور وکلاء’ کھلاڑی وغیرہ اس کی مثال ہیں۔
3- اجتماعی سوچ۔ اس سوچ کو قدیم یونانی شہری( citizenry) سوچ کہتے تھے۔ اس سے مراد ایسی سوچ جو مجموعی طور پر سماج کے ساتھ جڑی ہو۔معاشرے کا معروضی و سائنسی تجزیہ کرکے اس کے اچھے بُرے عوامل کو سامنے رکھتے ہوئے اچھے عوامل کو ترقی اور بُرے عوامل کا قلع قمع اس سوچ کا موضوعِ بحث ہے۔ سماجی ناہمواری’ طبقاتی اونچ نیچ،علاقائی و قومی محکومی’ وسائل کی منصفانہ تقسیم’ مسائل کا حل۔ اس سب کے لیے انسانی سرگرمی اور درست سمت میں راہنمائی اس سوچ کے اہداف ہیں۔یہ سماج میں انفرادی مسائل’ گروہی پسماندگی کو اجتماعی محرومی کا سبب خیال کرتے ہیں اور ان مسائل کے حل کے لیے سماجی تبدیلی کے خواں ہیں۔اس سوچ کے مطابق اجتماعی سماجی تبدیلی کے بغیر انفرادی مسائل ختم ہو سکتے ہیں نہ گروہی مفادات کا تحفظ ممکن ہے۔ اس لیے ایسے سماج کی تعمیر جو تمام انسانوں کو ترقی کے یکساں مواقع مہیا کر سکے کے ذریعے ہی آزاد’ پرامن’ خوشحال معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے جس کے لیے ہر فرد کو اس جدوجہد میں کردار ادا کرنا ہو گا۔ اس مقصد کے لیے سیاسی پارٹی کی تشکیل کی جاتی ہے اور اکثریت کو اپنے پروگرام سے آگاہ کر کے تنظیمی کالم میں ڈھالہ جاتا ہے تاکہ منظم انداز میں بااثر جدوجہد شروع کر کے اجتماعی امنگوں کے حامل سماج کی تعمیر کی جا سکے۔
عام مشاہدہ میں آتا ہے کے انسان کی سوچ جس نوعیت کی ہو گی اس کی صحبت اور شخصیت پر اس کی گہری چھاپ نظر آئے گئی مثلاً انفرادی سوچ کے حامل افراد محدود سنگت کے عادی ہوتے ہیں۔ چند دوست اور قریبی رشتے دارورں کا حلقہ اثر ہوتا ہے۔جبکہ گروہی سوچ والے افراد کی سنگت نسبتا زیادہ ہوتی ہے اور گروہی سیاست میں عملی سرگرمی بھی دیکھنے میں آتی ہے۔انجمن کی تشہیر و تنظیم کے لیے دورے بھی کیے جاتے ہیں۔ اجتماعی سوچ والے عموماً سیاسی تنظیم(پارٹی) سے وابسطہ ہوتےُہیں۔ پارٹی منشور کی ترویج کے لیے جدوجہد کرتے ہیں اور سیاسی سرگرمیوں کی ادائیگی کے لیے گھروں سے باہر وقت صرف کرنا پڑتا ہے۔ سیاسی قائدین کی زندگی ہی عمل سے عبارت ہوتی ہے۔نظریہ سے وابستگی و آگاہی جتنی گہری’ ٹھوس اور سائنسی ہو گی اسی قدر باعمل زندگی ہو گئی۔ اسی لیے اجتماعی سوچ میں ایک راہبر اور سپاہی کی زندگی میں فرق دیکھنے کو ملتا ہے۔ کارکن اجتماعی زندگی کے ساتھ نجی زندگی بھی بسر کرتا ہے جبکہ لیڈر اجتماعی زندگی پر نجی زندگی قربان کر دیتا ہے۔ (شائد اسی لیے لیڈروں کی انفرادی زندگی ذیادہ مثالی نہیں ہوتی)۔ اگر ہم تنقیدی نقطہ نظر سے اپنے خیالات کا محاسبہ کریں تو معلوم ہو جائے گا کہ ہم کس سوچ کیساتھ وابستہ ہیں اور انسان کیا سوچتا ہے؟