وقاص احمد

بھوٹانیہ کے بارے میں پڑھ کر مجھے اس مملکت ناپرساں کو دیکھنے کا شوق چرایا۔ خیر ملک تو اب باقی نا رہا تھا مگر زمین تو موجود ہی تھی ناں۔ جو لوگ بھوٹانیہ سے فرار ہونے میں کامیاب نا ہوپائے تھے ان میں سے وہ خوش نصیب جو خانہ جنگی کی قتل و غارت سے محفوظ رہے وہ وہیں آباد ہیں۔ مملکت چھوٹے چھوٹے لشکروں اور مسلح گروہوں کے درمیان بٹی ہوئی ہے۔ فوج کے بچ جانے والے سپاہی آج انہی گروپوں، لشکروں اور جیشوں کی ملازمت کرنے پر مجبور ہیں جن کو خود بھوٹانیہ کے فوج نے پال پوس کر بڑا کیا تھا۔ عبرت۔۔عبرت۔

بہرحال ایک تباہ شدہ ائیرپورٹ پر طیارے نے لینڈ کیا اور جیسا کہ میرے ٹور آپریٹر نے مجھے سمجھایا اور بتایا تھا، میں جہاز کی سیڑھیوں سے لیکر ائیرپورٹ کے خارجی دروازے تک تین مختلف مسلح گروہوں کو بھتہ دیکر باہر نکلا۔

میرے آپریٹر نے میرے لیے ایک ٹور گائیڈ کا انتظام کر رکھا تھا۔ باہر نکلا تو بھیڑ میں اپنا گائیڈ ڈھونڈنے میں دشواری ہوئی۔ معلوم ہوا کہ بھوٹانیہ کے افراد کے ذریعہ روزگار کا سب سے بڑا وسیلہ ان غیر ملکی مہم جووں کی ٹور گائیڈنس ہی رہ گئی ہے جو ان کے تباہ ملک کی دکھ بھری داستانوں کی کوریج کرنے آتے ہیں۔ منتیں ترلے کرتے ہوئے ان مفلوک حال “ٹور گائیڈز” کو انکار کرتے ہوئے مجھے ایسے لگا کہ میرا کلیجہ غم سے پھٹ کر باہر آ جائے گا۔ یہ وہی ملک تھا جس کے بڑے آج سے چالیس سال پہلے اس کو “افریقن ٹائیگر” بنانے کے دعوےٰ کرتے تھے۔ بہرحال کچھ تردد کے بعد اپنے نام کا کتبہ کسی کے ہاتھ میں دیکھا تو ایک 15-16 سال کا بچہ دیکھ کر اور بھی مایوسی ہوئی۔ “یہ مجھے کیا دکھا سکے گا اور کیا بتا سکے گا؟” خیر بچے سے بات ہوئی تو پتہ چلا کہ اتنی سی عمر میں بہت پختہ باتیں کرتا ہے۔ ماں باپ جنگ کی نظر ہوگئے، تین چھوٹے بہن بھائیوں کا واحد کفیل اور زریعہ روزگار ٹور گائیڈ کا پیشہ۔ جنگ سے تباہ حال شہر میں رینگتے ہوئے فقیروں، بھتہ لیتے گروہوں اور سہمے گھبرائے ہوئے عام لوگوں کے درمیان سے نکالتا ہوا وہ مجھے شہر کے مرکزی حصہ میں لے گیا۔

“یہ گاڑی اگلے موڑ پر لٹ جائے گی” وہ بڑبڑایا۔ میں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا اور اس سے پہلے کہ میں کچھ پوچھتا اس گاڑی کو ڈاکوؤں نے روک لیا تھا۔ وہ اس سارے معاملے کو نظرانداز کرکے مجھے شہر کے مرکزی حصے کی چیدہ چیدہ عمارتوں کے بارے معلومات دے رہا تھا۔ اچانک اس نے خوفزہ ہوکر ایک جانب دیکھا اور میرا بازو کھینچ کر ایک اوٹ میں لے گیا۔ بولا “یہ سامنے والے دو بندوں کو دیکھ رہے ہو؟ ان کو ابھی ایک گینگ کے بندے اٹھا کر لے جائیں گے”۔ ابھی اس کی بات مکمل ہوئی تھی کہ چند پک اپ گاڑیاں مسلح افراد کے ساتھ نمودار ہوئیں۔ انہوں کے کچھ ہوائی فائرنگ کی اور ان دونوں بندوں کو اٹھا کر گاڑی میں ڈالا اور لے گئے۔ یہ میرے لیے حیرت کا دوسرا جھٹکا تھا۔ میں اس لڑکے کی رٹی رٹائی گائیڈ والی تقریر میں مخل نہیں ہونا چاہتا تھا اس لیے چپ رہا۔ اگلے دو گھنٹے میں اس نے ایسی ہی 6-7 درست پیشگوئیاں کرکے مجھے ششدر کر دیا۔ میں رہ نا پایا اور پوچھ ہی لیا کہ اسے یہ سب کچھ کیسے پتہ چل رہا ہے مگر اس نے میرے سوال کو نظر انداز دیا۔ اب ہم ایک سفید رنگ کی پرشکوہ عمارت کے کھنڈر کے سامنے کھڑے تھے۔ “یہ ہماری سب سے بڑی عدالت تھی”. یہ جملہ کہتے ہوئے اس کے لہجے میں طنز تھا، تلخی تھی، نفرت تھی یا پھر بیگانگی۔ میں سمجھ نہیں پایا۔ میں نے عمارت کا جائزہ لینا شروع کیا۔ صدر دروازے کے باہر شاید انصاف کی دیوی کا مجسمہ تھا۔ “شاید” میں نے اس لیے کہا کہ دیوی کا سر قلم تھا، تلوار ٹوٹی ہوئی تھی اور جسم مختلف طرح کے اشتہارات کے پوسٹرز
سے اٹا ہوا تھا۔

“اس عمارت میں اجکل ایک گینگ کے لوگ اپنا اسلحہ اور جانور رکھتے ہیں”. لڑکے کے لہجے کی تلخی ابھی تک برقرار تھی۔

میں نے کہا “تمہارے لہجے کی تلخی بتاتی ہے کہ تمہارے تاثرات اس عمارت کے پرانے مکینوں کے بارے میں اچھے نہیں لیکن تم ایک 15-16سال کے بچے ہو اور جو بھی واقعات ہوئے ہوں گے وہ تو تمہارے باپ دادا کے دور میں ہوں گے۔ پھر ایسی نفرت کیوں؟”
وہ بولا “تمہیں یہاں کوئی ایک بھی بچہ یا بوڑھا ایسا نہیں ملے گا جس کو یہ یقین نا ہو کہ بھوٹانیہ کی اس حالت کے ذمہ دار اس عمارت میں بیٹھے لوگ تھے”. بہت گہری بات کی تھی اس بچے نے۔ پھر وہ بولا “کہتے ہیں کہ آخری دنوں میں یہاں ایک بہت بڑا مقدمہ چلا تھا۔ سیانے لوگ کہتے تھے اس مقدمے نے ہی ملک کی قسمت کا فیصلہ کیا تھا”۔

میں نے پوچھا “کیا مقدمہ تھا وہ؟”
اس نے جواب دیا، “کوئی غیراہم مقدمہ تھا، کسی کو یاد بھی نہیں کہ کیا تھا۔ ہاں مگر اہم ترین بات تھی ججوں اور وکیلوں کی بحث، ججوں کے ریمارکس اور فیصلے۔ یہ سینہ بہ سینہ ہماری یادوں میں منتقل ہوتے آئے ہیں”.
میں نے کہا “چلو مثال کے طور پر کوئی ایسا جملہ یا کوئی ایسی بحث مجھے سناؤ”.
وہ بولا۔ مقدمہ چل رہا تھا، وکیل صفائی کے دھواں دھار دلائل چل رہے تھے کہ لاجواب ہوتے جانبدار ججوں میں سے ایک نے کہا کہ ہم اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ دیتے ہیں۔ بس یہ کہنا تھا کہ اپنی قابلیت اور منہ پھٹ ہونے میں مشہور وکیل صفائی تنک کر بولا “تمہارا دماغ ٹھیک ہے؟ جج قانون کے مطابق فیصلہ دیتا ہے یا ضمیر کے مطابق؟”
جج نے جواب دیا, “کیوں نا تم پر توہین عدالت کا مقدمہ چلایا جائے”

وکیل نے ترکی بہ ترکی جواب دیا، “ایسے نالائق اور جانبدار جج کی توہین کیسے ہوسکتی ہے جس کی تعلیم، تجربہ اور شعبہ اس سے قانون کے مطابق چلنے کا مطالبہ کرے اور وہ فیصلے ضمیر کے مطابق کرتا ہو”؟
ایک دوسرا جج جذباتی انداز میں بولا “ضمیر ہی کھرے اور کھوٹے کی پہچان بتاتا ہے”

وکیل بولا “تو یہ فیصلہ کون کرے گا کہ جناب کا ضمیر کھرے اور کھوٹے کی پہچان کر بھی پا رہا ہے یا نہیں؟ آپ کا ضمیر کچھ کہتا ہوگا اور کسی دوسرے کا ضمیر کچھ اور۔ اسی لیے تو پوری دنیا میں آئین، قانون اور ضابطے بنائے گئے ہیں تاکہ آپ کے اور میرے ضمیر کا جھگڑا نا رہے اور فیصلہ کتاب کے مطابق ہو”. مجھے یوں لگا کہ جیسے میرے منہ پر کسی نے طمانچہ مارا ہو۔ یوں لگا جیسے یہ کہانی پہلے بھی کہیں سنی ہے۔ خیر شرمندگی کے احساس کو کم کرنے کے لیے میں نے بات بدلی اور پوچھا “ویسے تمہیں ہر واقعے کا پہلے سے کیسے معلوم ہوجاتا ہے”

وہ بولا “معلوم نہیں کس طرح پتہ چلتا ہے۔ میں تو صرف سڑک پر ہونے والے واقعات کی پیش گوئی کر سکتا ہوں، ہماری پچھلی نسل کو تو مقدمہ شروع ہوتے ہی بڑی عدالت کے فیصلوں کا بھی پتہ ہوتا تھا، شاید یہ ایک عذاب ہے ہم پر۔”

پھر بولا، “میرا باپ کہتا تھا کہ ایماندار منصف وہ ہوتا ہے جس کو مقدمے کے دوران خود بھی معلوم نا ہو کہ وہ آخر میں کیا فیصلہ کرے گا، چہ جائیکہ مقدمات کے فیصلے گلی، بازاروں، تھڑوں، اخبارات اور ٹی وی پر پہلے سے ہی نشر ہونے لگ جائیں”.

مجھے اب یقین ہوگیا کہ یہ بچہ صرف مجھے ذلیل کر رہا ہے۔ میں اس کے ملک کی حالت زار دیکھنے آیا تھا اور وہ مجھے میری ہی کہانی سنا رہا ہے۔ شرمندگی کا احساس تو بڑھتا جارہا اور اب اندیشے بھی۔۔۔”کیا میرے ملک کا حال بھی یہی ہوگا؟” یہ سوچ کر بھی خوف سے کپکپاہٹ شروع ہوگئی۔

میں نے پھر بات بدلی۔ فٹ پاتھ پر ایک عمر رسیدہ بابا گلے میں ایک تختی ڈالے کھڑا تھا۔ تختی پر بھوٹانوی زبان میں کچھ لکھا تھا۔ میں نے بچے سے پوچھا کہ یہ بابا کون ہے؟ بچہ بولا۔ “پتہ نہیں، جب سے ہوش سنبھالا ہے اسکو یہیں کھڑے دیکھا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ یہ پچھلے 30-40 سال سے اسی فٹ پاتھ پر رہتا ہے”.

مجھے تھوڑی دلچسپی پیدا ہوئی۔ میں نے پوچھا، “اس کے گلے کی تختی پر کیا لکھا ہے؟”

بچہ نے جو جواب دیا اس سے میری رہی سہی ہمت بھی جواب دے گئی، میں نے بچے کو کچھ پیسے پکڑائے اور ائیرپورٹ کی طرف دوڑ پڑا۔ وہ تحریر میرے دماغ پر ہتھوڑے کی طرح برس رہی تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے میرا دم گھٹ جائے گا۔

تختی پر لکھا تھا، “انصاف۔۔۔زندہ بھاگ، زندہ بھاگ انصاف”۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here