وقاص احمد

فرض کریں کہ آپ ایک پبلک آفس ہولڈر ہیں۔
فرض کریں کہ آپ ایک امیر انسان ہیں اور خاندانی امارت کی وجہ سے آپ میں نودولتیوں والا لالچ اور بھوک نہیں۔
فرض کریں کہ آپ نے اپنی اولاد کو ملک سے باہر اپنا کام دھندہ کرنے پر اس لیے لگایا ہوا ہے کہ کل کلاں آپ پر کوئی یہ انگلی نا اٹھائے کہ یہ اپنے باپ کے عہدے کا فائدہ اٹھاتے ہیں
اور فرض کریں کہ آپ بوجوہ ملک کی اصل “بدمعاشیہ” کے پسندیدہ بندے نہیں اور وہ آپ کو سبق سکھانا چاہتی ہے۔
فرض کریں بدمعاشیہ اپنے آزمودہ ترین کارندے عدلیہ کی مدد سے آپ کو رگڑا لگانے کا فیصلہ کرتی ہے۔
اور فرض کریں کہ آپ ایک ایماندار انسان ہیں اور آپ کو یہ زعم ہے کہ آپ کی دیانت پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا۔
اب یہ سب فرض کر لینے کے بعد بتائیں کہ کیا آپ کو لگتا ہے کہ بدمعاشیہ، عدلیہ اور میڈیا کی مدد سے آپ کو رگڑا نہیں لگا سکتی اور آپ کو چور، ڈاکو، جھوٹا اور خائن ثابت نہیں کرسکتی؟ اگر آپ کو ایسا لگتا ہے تو غلط لگتا ہے۔
جب قانون ہاتھ کی موم اور جج طاقتوروں کی رکھیل بنے ہوں تو آپ پر جان ایف کینیڈی کے قتل کا مقدمہ بھی چل سکتا ہے چاہے آپ اس وقت پیدا بھی نا ہوئے ہوں۔ ہوسکتا ہے کہ آپ پر سرکاری زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ کا مقدمہ چلے مگر یہ ضروری نہیں کہ مقدمے کا فیصلہ بھی اسی موضوع پر ہو کیونکہ اگر آپ کو سزا دینا مقصود ہو تو اس مقدمے کا فیصلہ کسی بالکل مختلف الزام پر بھی آسکتا ہے۔ جب آپ کو رگڑا دینا مقصود ہو تو آپ گرفتار پہلے بھی ہوسکتے ہیں اور الزام بعد میں بھی ڈھونڈے جا سکتے ہیں۔ جب آپ کو سبق سکھانا مقصود ہو تو بھینس چوری کا مقدمہ درج کرکے ٹامک ٹوئیاں مارتے مارتے آپ کو انڈا توڑنے پر سزا بھی سنائی جاسکتی ہے۔ جب آپ بدمعاشیہ کی ہٹ لسٹ پر ہوں تو آپ سے اس جائیداد کی منی ٹریل بھی مانگی جاسکتی ہے جو آپ کی ہے ہی نہیں۔ غرض کچھ بھی ہوسکتا ہے۔
چہار سمت غدر مچا ہوا ہے۔ ایک جیسے مقدموں میں متضاد فیصلوں اور ایک ہی مقدمے میں کئی بار فیصلوں کی ایسی ڈرامہ بازیاں چل رہی ہیں جس نے آدھے لوگوں کو حیران اور بقیہ کو پریشان کر رکھا ہے۔ ان کے درمیان ایک اقلیتی مخلوق ایسی ہے جو سب جانتے بوجھتے بھی اس کو عین انصاف قرار دینے پر مصر ہے۔ سوال پوچھو کہ اگر زید یا بکر نے کرپشن کی ہے تو اس کا ثبوت کیا ہے؟ جواب ملتا ہے اچھا تو آپ سرے سے ہی انکاری ہیں کہ پاکستان میں کرپشن ہوئی ہی نہیں؟ اس سوال نما جواب پر اب بندہ کس دیوار میں ٹکر مارے؟ کرپشن کی جو تعریف ان کے بھوسے نما دماغوں میں ٹھونس دی گئی ہے وہ بھی عقل سے ماورا ہے۔ علامہ منگو اعظم کی یکے از دیگرے بونگیوں میں سے ایک یہ ہے کہ کہ “ترقیاتی منصوبے کرپشن کے لیے ہی بنائے جاتے ہیں”. اب اس بونگی پر نیب سے لیکر سپریم کورٹ کے مخصوص 5-6 ججوں تک سب نے ایسا آمنا و صدقنا کہا ہے کہ ہر قسم کے منصوبے کے نام کے آخر میں “سکینڈل” کا لفظ جوڑ کر میڈیا میں پھیلا دیا جاتا ہے۔ مثلاً جو آشیانہ ہاؤسنگ سکیم تھی اب اسے عرف عام آشیانہ ہاؤسنگ سکیم “سکینڈل” کہا جاتا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ان “کرپشن سکینڈلز” کی فائلیں خالی ہیں۔ اور اس میں کاغذی میٹیریل بھرنے کا کام چیپ جسٹس کے ریمارکس سے لیکر، صابر شاکر کی چیخ و پکار اور فواد چوہدری کی فضولیات سے لیکر بابے کوڈے جیسے بیہودہ لوگوں کی ذمہ داری ہے۔ نیب پر اتنا اچھا دور کبھی نہیں گزرا۔ اتنی ٹھنڈی نوکری کہ کچھ کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔ کیس کا نام پچھلی حکومت کا کوئی بھی منصوبہ ہے، کیس کی “ہوش ربا” تفصیلات کو پبلک کرنے کا کام مندرجہ بالا حضرات کے ذمہ، کیس میں ماری گئی قانونی ٹامک ٹوئیاں کسی انڈر میٹرک حوالدار کے ذمہ اور کیس کے دو تین ممکنہ فیصلے تو بی اے پاس جرنیل شاہی سرینا ہوٹل میں بیٹھے لکھ ہی رہی ہے۔ نیب والوں کو صبح آنا ہے اور شام کو مکھیاں مارنے کی تنخواہ وصول کر کے گھر چلے جانا ہے۔
پریکٹیکل انجنئیرنگ میں ایک لفظ ہوتا ہے جسے “ریورس انجینئرنگ” کہا جاتا ہے۔ کسی پیچیدہ مسئلے کے فوری حل کے لیے ریورس انجینئرنگ سے بہتر فارمولا آج تک ایجاد نہیں ہوا۔ عمومی طور پر مسئلہ کو بیان کے بعد حساب کتاب کے ایک پیچیدہ پراسس سے گزر کر رزلٹ نکالا جاتا ہے۔ مگر ریورس انجینئرنگ میں رزلٹ سب سے پہلے بورڈ پر لکھا جاتا ہے اور اس کے بعد الٹا چلتے ہوئے پراسس کے variables کو ایسے ترتیب دیا جاتا ہے کہ آپ مطلوبہ رزلٹ تک واپس پہنچ سکیں۔ شومئی قسمت اس وقت پاکستان میں کل نظام انصاف ریورس انجینئرنگ کا شاہکار بن کر چل رہا ہے۔ پہلے سے ہی ایک رزلٹ نکال لیا جاتا ہے کہ فلاں منصوبہ تو بنایا ہی کرپشن کے لیے گیا ہے اور فلاں بندہ تو شکل سے ہی کرپٹ لگتا ہے۔ اس کے بعد میڈیائی پروپیگنڈا کے بینڈ باجوں کی گونج میں منصوبہ بند اور بندہ گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ پھر اس کے بعد متفرق قانونی شقوں کی بے سروپا تشریحات کے سانچے اس گرفتار بندے کے سر پر فٹ کرنے کی کوشش کی جاتی۔ اگر ایک طرح کی قانونی تشریح سے مطلوبہ رزلٹ نا نکلے تو دوسری طرح یا تیسری طرح کی تشریح کا سانچہ اس “ملزم” کے اردگرد فٹ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تاآنکہ طے شدہ نتیجے کے مطابق وہ ملزم “مجرم ثابت” کیا جا سکے۔ اس پراسس میں کسی قانونی پیچیدگی کا احتمال نہیں کیونکہ بقول چیپ جسٹس “قانون وہی ہوگا جو ہم کہیں گے”. گویا عدالت نا ہوگئی رنگیلے شاہ یا نظام سقے کا دربار ہوگیا۔ اپنے ملکی قوانین سے مطلوبہ رزلٹ نا نکلے تو کسی غیر ملکی متروک ڈکشنری کا حوالہ دیکر بھی مطلوبہ “اہداف” حاصل کئے جاسکتے ہیں کیونکہ مقصد انصاف تک پہنچنا نہیں بلکہ ریورس انجینئرنگ کے ذریعے پہلے سے طے شدہ رزلٹ تک پہنچنا ہے۔ اس لیے وہ تمام پٹواری حضرات جو ججوں کے انصافی ٹولے کے ایک جیسے مقدمات میں متضاد فیصلوں کو سوشل میڈیا پر اچھال کر اپنے تئیں فنکار بننے کی کوشش کرتے ہیں ان سے گزارش ہے کہ آپ اپنے وقت کا ضیاع کر رہے ہیں کیونکہ سب کو پتہ ہے کہ یہ کیا چل رہا ہے اور کیوں چل رہا ہے۔ انصاف کے اس بول براز کی سرانڈ سے سپریم کورٹ کا وقار تباہ ہوتا تو ہوئے، پارلیمنٹ اور جمہوریت دفن ہوتی ہے تو ہوئے، وفاق کمزور ہوتا ہے تو ہوئے، لوگ ملکی حالات سے متنفر ہوتے ہیں تو ہوئیں، ملک معیشت تباہ ہوتی ہے تو ہوئے یہاں تک کہ خاکم بدہن ملک کے ٹکڑے ٹکڑے بھی ہوتے ہیں تو ہوئیں بس ایک ادارے کا “مطلوبہ رزلٹ” پورا ہونا چاہیے اور بس۔ اے کاش اس “مطلوبہ رزلٹ” میں ایک چھوڑ آدھ فی صد بھی پاکستان کی بہتری کا کوئی شائبہ ہوتا تو میں جی جان سے اس ناانصافی کا بھی دفاع کرلیتا مگر جب مطلوبہ رزلٹ کا مقصد ادارہ جاتی تسلط، اسی ادارے کے معاشی مفادات، اسی ادارے کی پالیسیوں کے نفاذ اور عوام کی جگہ اسی ادارے کی حاکمیت ہو تو معذرت۔۔۔یہ انصافی بول براز آپ کو ہی مبارک ہو، میرے لیے اول آخر پاکستان اہم ہے، آپ نہیں۔ پاکستان ہے تو ہم سب ہیں، میں اور آپ ہوں یا نا ہوں کوئی فرق نہیں پڑتا۔