حمزہ سلیم

دیپ جس کا محلات میں ہی جلے، چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے، وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے، ایسے دستور کو صبح بے نور کو، میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا۔

آج ہم عظیم شاعر اور انقلابی حبیب جالب کی بات کر لیتے ہیں۔ جالب ایک حقیقی انقلابی آواز تھے، ایک بہادر للکار تھے، اس انسان نے ساری زندگی مظلوموں، مزدوروں اور محنت کشوں کی ترجمانی کی۔ جالب کائنات کی ایک ایسی آواز تھے، جنہیں دبایا نہیں جاسکا، جنہیں خریدا نہ جاسکا۔ پاکستان کا ہر آمر، ہر جابر اور ہر ظالم یہی چاہتا تھا اور اس کی یہی خواہش تھی کہ کسی طرح جالب کو خرید لیا جائے لیکن ایسا ہو نہ سکا۔ جالب کی انقلابی شاعری اس لئے زندہ و تابندہ ہے کہ وہ عام انسان کے لئے لکھتے تھے، عام انسان کے لئے سوچتے تھے اور ایک غریب عام انسان تھے۔

کیا کمال انسان تھا، وہ اس وقت بولتا تھا، جب لاکھوں بزدل انسان جابر اور ظالم آمر کے سامنے کانپ رہے ہوتے تھے، جب چاروں اطراف منافقت ہوتی تھی، خاموشی ہوتی تھی اور جابر کے قصیدے پڑھے جارہے ہوتے تھے، جب تمام منافق زبانیں بند ہوتی تھی، جالب کی انقلابی آواز ہر طرف گونج رہی ہوتی تھی۔ جالب ایک ایسی بغاوت کا نام تھا، جس کا کام محرومیوں کے باوجود روشن خیال لبرل جمہوریت کا نعرہ بلند کرنا تھا۔

یہ عظیم انسان انیس سو اٹھائیس کو ضلع ہوشیار پور میں پیدا ہوا۔ اصل نام حبیب احمد تھا ۔ پھر اس نے کئی مسافتیں جھیلیں،کئی ہجرتیں برداشت کیں،کروڑوں مشکلات کا مقابلہ کیا اور پھر کہیں جاکر حبیب جالب کا روپ پایا۔ بچن کی یادوں سے انہیں محبت تھی۔ وہ کہا کرتے تھے، محبت کی رنگینییاں چھوڑ آئے، تیرے شہر میں اک جہاں چھوڑ آئے۔

وہ ہمیشہ ترنم میں شعر پڑھا کرتے تھے۔ فراق گورکھپوری نے ان کے خوبصورت اور دلکش ترنم کے انداز کے بارے میں کہا تھا کہ میرابائی کا سوز، سرداس کا نغمہ جب یکجا ہو جائے تو اسے حبیب جالب کہتے ہیں۔ انیس سو اٹھاون میں فوجی آمر جنرل ایوب کا مارشل لا آیا، جسے وہ ایوبی آمریت کا نام دیتے تھے۔ یہ مارشل لا اس انداز میں لایا گیا کہ پورے ملک میں ہلکی سی مزاحمت بھی نہ ہوئی۔ جاگیردار،سرمایہ دار،صنعتکار ،سب خاموش تھے ۔ اہلِ فکر و نظر اور دانشور بھی خاموش تھے ۔ ایسے میں صرف ایک آواز اٹھی۔ وہ آواز تھی، حبیب جالب کی۔ جالب نے ایوبی آمریت کے بارے میں کہا تھا، ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا۔ اسی پاداش میں کوڑے کھائے، جیل کی سختیاں برداشت کیں، ایوب کے سامنے بولنے کی کسی کی مجال نہ تھی، مگر جالب ڈٹے رہے۔

ایسا انسان جس نے اپنی ذات اور اعزازات کی پروا نہ کی، وہ تھا حبیب جالب۔ اس طرح جالب نے لبرل اور روشن خیال جمہوریت کے نظریے کی آبیاری کی۔ ایک پیچیدہ مسئلے کو جو کہ پورے سماج کا مسئلہ تھا، ایک نظم کے ایک بند میں بیان کر دینے کا نام جالب تھا۔ پیچیدہ مسئلے کو ایک مصرعے میں ایسے آسانی سے بیان کرتے تھے کہ وہ نعرہ بن جاتا تھا اور پھر وہ نعرہ عوام کی زبان بن جاتا۔

جالب کا جزبہ اور جنون زمینی نہیں فضائی تھا۔ وہ آسمان کی بلندیوں سے طاقت اظہار حاصل کرتے تھے۔ ’ایوبی مارشل لا‘ کے خلاف جالب کی نظم دستور آئی۔ اور یہ نظم ایسا نعرہ بنی کہ تخت و تاج کانپنے لگے۔ اقتدار کے مکینوں کی نیندیں حرام ہو گئیں۔ انہیں گر آتا تھا کہ وہ کسی مشاعرے کو عوامی جلسے میں بدل کر رکھ دیتے تھے اور مشاعرہ جلسہ گاہ بن جاتا تھا۔ ان کی نظمیں ریڈیو، اخبارات اور ٹی وی پر نہیں چلتی تھی، لیکن ساری دنیا پھر بھی سن لیتی تھی۔ تم نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا سکوں،اب نہ ہم پہ چلے گا تمہارا فسوں،چارہ گر درد مندوں کے بنتے ہو کیوں،تم نہیں چارہ گر ،کوئی مانے مگر،میں نہیں جانتا ،میں نہیں مانتا۔

 

(حبیب جالب 24 مارچ 1928 کو پنجاب کے علاقے ہوشیار پور میں پیدا ہوئے جب کہ ان کا انتقال بارہ مارچ 1993 کو چونسٹھ برس کی عمر میں ہوا۔)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here