وقاص احمد

جن لوگوں نے 80-90 کی دہائی میں سلطان راہی اور مصطفیٰ قریشی کی فلمیں دیکھی ہوئی ہیں وہ ان بڑھکوں، نعروں اور دھمکیوں کی مختلف اقسام سے بخوبی واقف ہیں۔ مشہور زمانہ فلم مولا جٹ کے دو کردار مولا جٹ اور نوری نت کی بڑھکیں اس زمانہ میں لوگوں کے دل و دماغ پر راج کرتی تھیں۔ اس فلم کے بعد تو وہ بڑھکیں ہمارے گلی محلوں اور تھڑوں کی زندگی میں بھی سرایت کر گئیں۔

بڑھک بنیادی طور پر حد سے بڑھی احساس برتری اور ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی کے اظہار کا ذریعہ ہوتی ہے۔ بڑھک مارنے والے کو بھی پتہ ہوتا ہے کہ جو وہ کہہ رہا ہے وہ عملی طور پر ممکن نہیں اور جس کو بڑھک لگائی جا رہی ہوتی ہے سمیت آس پاس کے تماش بینوں کو بھی پتہ ہوتا ہے کہ یہ خالی گیدڑ بھبھکیاں ہیں۔ اس لئے سنجیدہ مزاج لوگ اس قسم کی فالتو بک بک کو نظر انداز کر دیتے ہیں لیکن کچھ حضرات ایسے بچگانہ ذہن کے مالک ہوتے ہیں جو ان بڑھکوں سے متاثر بھی ہوتے ہیں اور ان فضولیات کو عزت و شان کا مظہر بھی سمجھتے ہیں۔

اس دفعہ جب قلم اٹھایا تو اس وقت سوچا یہ تھا کہ کسی طرح اپنے اہل اختیار و اقتدار کی توجہ اس طرف مبذول کروائی جائے کہ آپ کی کہی گئی باتیں، آپ کے لیے گئے فیصلے اور آپ کے اٹھائے گئے اقدامات کی اس ملک اور اس ملک کے باہر ایک وقعت ہے۔ اب آپ اپوزیشن کے کنٹینر لیڈر نہیں بلکہ پاکستان کے وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہیں۔ ان باتوں، ان اقدامات اور ان فیصلوں پر گومگو کی کیفیت یا بار بار کے یوٹرن نا صرف آپکی بلکہ اہل پاکستان کی سبکی کا باعث بھی بنتی ہے۔ لوگ ہیجان کی کیفیت میں رہتے ہیں، تذبذب کی حالت میں رہتے ہیں اور اس بے یقینی کے عالم میں کہ آج لیا گیا آپ کا فیصلہ کل صبح کا سورج دیکھ بھی پائے گا یا نہیں۔

اس دنیا میں ہر بندے کو اپنے الفاظ اور اپنے فیصلوں کے وقار کا خیال ہوتا ہے لیکن اہل اقتدار سے تو اس کی شدید پابندی کی توقع ہوتی ہے۔ مگر یہ افسوسناک ہے کہ کے پی کے میں پانچ سال حکومت کرنے کے بعد آپ پر جو یوٹرن کا ٹھپہ لگ چکا ہے آپ اس سے جان چھڑانے میں نا تو سنجیدہ ہیں نا اس روش کو چھوڑنے پر آمادہ۔

خیر یہ تو وہ موضوع تھا جس پر گفتگو کرنا تھی لیکن درمیان میں وہ ہسٹیریائی صورتحال آگئی جس کی وجہ سے مجھے موضوع تبدیل کر کے مولا جٹوں اور نوری نتوں پر بات کرنا پڑ گئی۔

کہانی شروع ہوئی خاں صاحب کے ایک سفارتی آداب سے گرے ہوئے ٹویٹ سے اور پھر اس میں انڈین نوری نت آرمی چیف کے بیان کا تڑکہ شامل ہوا اور پھر ہمارے مولا جٹ بھی درمیان میں کود پڑے۔ پھر آئے شامل باجوں کی طرح دونوں اطراف کے وہ اجڈ لوگ جو مولا جٹ اور نوری نت کے سنگ بڑھک بازی اور بکرے بلانے میں مصروف ہیں۔

اب ذرا ترتیب سے ہی ان پر گفتگو کر لیتے ہیں۔
سب سے پہلے، خاں صاحب، خاں صاحب! یہ ہاتھ جڑے ہیں ہمارے۔ نا آپ کرکٹ ٹیم کے کپتان ہیں نا ہی اپوزیشن لیڈر جن کے کہے جملوں کو غیر متعلق سمجھتے ہوئے لوگ صرف نظر کر جائیں۔ پہلے آپ نے امریکہ کے سیکٹری خارجہ سے گفتگو کے معاملے میں غلط بیانی کی- پکڑے گئے، پھر آپ کے کسی چاہنے والے نے آپ کی فرانس کے صدر کی کال سے بے نیازی کا ذکر پھیلایا- تردید کرنا پڑی، پھر آپ نے انڈیا کو مذاکرات کی دعوت خود دے ڈالی اور پھر ان مذاکرات کے انکار پر ایسا بیہودہ ٹویٹ کر دیا۔ یہ درست ہے کہ آپ نے تو کبھی اپنے ملک کے وزیراعظم سے بھی مناسب الفاظ میں گفتگو نہیں کی لیکن وہ گھر کی بات تھی۔ باہر والوں کو اپنی تہذیب دکھانے کی کیا ضرورت تھی؟ میں ایک عام آدمی ہوں، میرا کوئی سیاسی و سفارتی تجربہ نہیں لیکن اتنی بات بخوبی سمجھتا ہوں کہ دو ملکوں کے مابین گفت و شنید، خصوصاً اس ملک کے ساتھ جس کے ساتھ آپ کے تعلقات انتہائی نازک ہوں، براہ راست وزرائے اعظم کے لیول پر نہیں کی جاتی۔

یہ آپ کے نیچے وزارت خارجہ کی جو فوج ظفر موج ہے اس کو کس لئے رکھا ہے ہم نے؟ آپ وزیراعظم پاکستان ہیں۔ آپ کے عہدے کے شایان شان نہیں کہ آپ براہ راست ایسی جگہ خط و کتابت کرتے پھریں جہاں سے انکار کا خدشہ 80-90٪ سے بھی زیادہ ہو۔ یہ کام آپ کے وزیر خارجہ کا تھا کہ آپ کی ہدایات کے مطابق سیکریٹری خارجہ کے لیول پر خاموشی سے، بنا ڈھول بجائے گفتگو شروع کرتے اور اگر اس میں مثبت اشارے ملتے تو گفتگو کا لیول بڑھتا بڑھتا آپ تک پہنچ جاتا۔ آپ نے بس اپنے ایمپائرز کا حکم وصول کیا اور جھٹ سے حکم کی تعمیل میں ایسے بے تاب ہوئے کہ یہ بھی بھول گئے کہ آپ کے ایمپائرز یہاں کی سیاست، یہاں کی صحافت، یہاں کی رائے عامہ کو تو کنٹرول کرتے ہیں مگر انڈیا کو کنٹرول نہیں کرتے۔ انڈیا میں بھی پاکستان سے گفت و شنید کی خبر پر ایسی ہی ہاہاکار مچتی ہے جیسے یہاں۔ وہاں کا حوالدار میڈیا بھی ایسے ہی گلے کی رگیں پھلا پھلا کر حب الوطنی کے موضوع پر چنگاڑتا ہے جیسے یہاں۔

اسی لیے آج تک جب بھی دونوں ملکوں میں کوئی بھی مثبت پیشرفت ہوئی ہے وہ مہینوں کی خفیہ اور خاموش سفارتی حرکیات کے بعد ممکن ہوئی۔ خیر پوائنٹ سکورنگ کے چکر میں آپ نے گرم گرم روٹی کھاتے ہوئے اپنا منہ جلا لیا۔ ورنہ آج جو نابغے آپ کو مذاکرات سے انکار کی وجہ انڈین الیکشنز بتاتے ہیں کیا یہ نابغے آپ کو پہلے نہیں بتا سکتے تھے کہ ابھی مناسب وقت نہیں؟

اب آئیے اس سے آگے۔ ٹویٹ۔۔۔واقعی؟؟ واقعی یہ آپ نے کی؟ کیوں ناں ایسا کیا جائے کہ آپ کو حکومت پاکستان کی طرف سے ایک اضافی ملازم فراہم کیا جائے جو دن میں تین بار آپ کو یاد دہانی کروائے کہ آپ وزیراعظم ہیں کوئی گلی محلے کے کن ٹٹے نہیں۔ جب آپ منہ کھولنے لگیں، جب آپ کی انگلیاں ٹوئٹر کی سکرین پر حرکت میں آئیں تو وہ آپ کے کان میں سرگوشی کرے کہ “حضور، گستاخی معاف، آپ وزیراعظم پاکستان ہیں۔ اس عہدے کی مرتبت کا خیال رکھیے”۔

آپ نے اپنے ایک ہم منصب پر ذاتی حملہ کر دیا؟ کیا سوچ رہے تھے آپ؟ کوئی خدا کا نام لیں۔ کچھ بنیادی اخلاقیات کے لیے تو کسی قسم کے حکومتی اور سفارتی تجربے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی جو ہم آپ کو نا تجربہ کاری کی چھتری تلے چھپا لیں۔ آپ ذاتیات پر اتر آئے اور یہ “خصوصیت” گلی محلے کے غنڈوں کی طرح آپ کی اپنی تربیت یافتہ لیڈر شپ بمعہ فالور شپ میں تو کوٹ کوٹ کر بھری ہے لیکن کم از کم آپ خود تو اس عہدے کے وقار کا خیال رکھ لیتے جس پر آپ بٹھائے گئے ہیں۔ دشمنی بھی وقار کے ساتھ کی جاسکتی ہے۔ ضروری تو نہیں کہ آپ اوچھی باتوں پر اتر آئیں۔ زیادہ غصہ تھا تو وزارت خارجہ یا وزیر اطلاعات کے ذریعے ایک مضبوط بیان دلوا دیتے۔ عالمی برادری میں واہ واہ ہوتی کہ کیا پرخلوص کوشش تھی پاکستان کی لیکن انڈیا دغا دے گیا۔ لیکن آپ کے ٹوئٹ کے بعد ساری گفتگو ٹوئٹ پر ہے، انکار پر نہیں۔
اب آتے ہیں اس مولا جٹ فلم پر جو اس وقت انڈو پاک میں چل رہی ہے۔
“ہم ایٹم بم پھوڑ دیں گے”
“ہم سرجیکل سٹرائیک کر دیں گے”
“ہم نے ایٹمی میزائل سنبھال رکھنے کے لیے نہیں بنائے تھے”
“ہم ان کو سبق سکھا دیں گے”.
“ہم ان کو صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے” وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔

یہ پہلی دفعہ نہیں کہ دو طرف کا یہ ہذیانی کیفیت ہم دیکھ رہے ہیں۔ یہی ہسٹیریا دیکھتے دیکھتے ہم بڑے ہوئے ہیں اور ہمارے بڑے بھی اسی ماحول میں ہی بڑے ہوئے تھے۔ اب تو ان بڑھکوں کی اتنی عادت ہوگئی ہے کہ ایک معمولی سوجھ بوجھ والا بندہ بھی پیش گوئی کر سکتا ہے کہ کب انڈیا کی طرف سے بڑھک بازی کا آغاز ہو سکتا ہے اور کب پاکستان کو اس کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ پاکستان کیا بڑھک مارے گا اور انڈیا اس بڑھک کا جواب کیا دے گا۔

ادھر کا میڈیا کیسے ہذیان بکتا پھرے گا اور ادھر کے حوالدار میڈیا کو کیسے غصے میں تشنج کے دورے پڑیں گے۔ ایک معمولی سمجھ بوجھ کے بندے کو بھی پتہ ہے کہ یہ دو طرفہ گیدڑ بھبھکیاں ہیں جس کا مقصد حب الوطنی کے جذبات کو سستے طریقے سے ابھارنا اور ان کو کیش کروانا ہے۔ بھارت میں اس بہادری اور حب الوطنی کے ڈرامے کا کیش سیاستدانوں کے اکاؤنٹ میں کریڈٹ ہوتا ہے اور پاکستان میں اس دو نمبر فلم کا کیش فوج کے اکاؤنٹ میں کریڈٹ ہوتا ہے۔ دونوں اطراف میں مقصد سانجھا ہوتا ہے اور وہ مقصد یہ ہے کہ عوام کی توجہ اصل، اہم اور ناگزیر مسائل سے ہٹا کر اس سستی بڑھک بازی کی طرف مبذول کروائی جائے اور پھر اس کی آڑ میں کوئی الیکشن جیتتا ہے اور کوئی اپنی نالائقیوں پر پردے ڈالتا ہے۔ کل میں ایک ریستوران میں بیٹھا تھا جب ٹی وی پر ہمارے کسی جذباتی نیوز کاسٹر نے کسی کا بیان بڑے جذباتی انداز میں سنایا کہ ہم نے ایٹمی مزائیل چلانے کے لیے ہی بنائے تو ساتھ والی ٹیبل سے برجستہ کسی خاتون کی آواز آئی تو آپ کے خیال میں اگلے خاموش بیٹھے رہیں گے آپ کے مزائیلوں کے جواب میں؟ ہمیں ہی مروانا ہے؟

یہ ہے وہ شعور جس کا ہمارے ہاں شدید قحط ہے، یہ شعور جاگنا شروع ہو رہا ہے۔ لوگ ان باتوں کو سمجھ رہے ہیں۔ سرحد کے پار سے بھی ایسی عقلمند آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ مذاق سمجھا ہوا ہے آپ نے جنگ کو؟ خصوصاً ایٹمی جنگ کو؟ آپ کو بہت اچھے سے پتہ ہے کہ دو ایٹمی ممالک کے درمیان جنگ نہیں ہو سکتی تو کیوں دھکیلتے ہیں اپنی اپنی عوام کو اس سستی ڈرامہ بازی میں۔ آپ کو احساس ہی نہیں کہ ہر کچھ عرصہ بعد چلنے والی اس مولا جٹ ٹائپ فلم سے اصل نقصان کیا ہو رہا ہے۔ دونوں اطراف کے اہل اقتدار اور اہل ہتھیار تو بخوبی سمجھتے ہیں کہ یہ ہوائی فائرنگ اور بڑھک بازی کا مقابلہ ہے مگر اس دوران آپ کو سنجیدہ سمجھنے والی سادی اور معصوم عوام کے دلوں میں آپ کتنی نفرت انڈیل چکے ہوتے ہیں؟ یہ عوام جو اس جنگ کے خطرے کو حقیقی سمجھ رہی ہوتی ہے وہ کتنی بے چینی، کتنے اضطراب کتنی تکلیف سے گزرتی ہے؟ خالی اس بڑھک بازی سے کاروبار اور معیشت پر کتنے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں؟ بد اعتمادی کا فضا کتنی گہری ہوتی ہے؟ دونوں ملکوں کے درمیان جتنے حل طلب مسائل ہیں وہ اس بڑھک بازی کی وجہ سے اور کتنے گنجلک ہو جاتے ہیں؟ یہی بڑھک بازیاں دونوں طرف کی عوام میں نفرت کے وہ جذبات پیدا کرتی ہیں کہ بعد میں جب اطراف کے حکومتیں نیک نیتی اور پر خلوص طریقے سے بھی کوئی مثبت قدم اٹھانا چاہیں تو یہ نفرت کی آگ پیروں کی بیڑیاں بن جاتی ہیں۔ یہ بات تو طے ہے کہ پاکستان اور انڈیا کے تمام مسائل بات چیت سے ہی حل ہوں گے، یہ بھی طے ہے کہ بات چیت میں دونوں ملکوں کو اپنے اپنے موقف سے چند قدم پیچھے ہٹنا پڑے گا تو جناب کم از کم لوگوں کے دلوں میں اتنی گنجائش تو رہنے دیں کہ کل کلاں دونوں اطراف کی قیادت کو مشکل اور غیر مقبول فیصلے لینے پڑیں تو زیادہ مشکل نا ہو۔

یاد رکھیے کہ لیڈران کے کام قوم کو بے چینی، اضطراب اور ہیجان سے نکالنا ہوتا ہے۔ بد قسمتی سے اس خطے میں نواز و واجپائی کے بعد ایسی جوڑی سامنے نہیں آسکی جو ان معاملات کو سلجھا کر اس ازلی بے چینی کو ختم کرسکتی۔ دونوں اطراف کی قیادت سے دست بدستہ گزارش ہے کہ لیڈر بنئیے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ کل ہی تمام مسائل حل کر دیں، ایسا ہو نہیں سکتا لیکن مہربانی کر کے اس خطے کے عوام کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے گنجائش پیدا ہونے دیں، انہیں جنگی جنون اور ہیجان میں مت ڈالیں۔ اس میں فائدہ سراسر آپ کا ہے۔ کل کلاں جب آپ اپنے مسائل حل کرنے پر مجبور ہو جائیں گے تو اعتماد اور اعتبار کی یہی فضا آپ کا ساتھ دے گی۔