عثمان علی خان

پختون تحفظ مومنٹ کے 8 اپریل کے پشاور جلسے میں شریک آفریدی قبیلے سے تعلق رکھنے والی برقعے میں ملبوس اس خاتون (بسرو بی بی) کی تقریر میں روانی، ربط، جذبات، جملوں کی ترتیب، الفاظ کی جوڑ اور حسن کو ملاحظہ کیجئے۔ یہ ایک غریب، ان پڑھ، گھریلو اور بدّو خاتون ہے۔

اس کے خاوند کو انٹلجنس اداروں نے پشاور کے بلور نامِ ایک مل سے اٹھایا ہے جہاں پر وہ اپنے بچوں کے پیٹ پالنے کے لئے مزدوری کر رہا تھا۔

بسرو بی بی کہتی ہے کہ میرے شوہر کو غائب کئے ہوئے بہت عرصہ ہو گیا اور اب تک اس پر کوئی جرم ثابت نہ ہو سکا۔اسکی پانچ بچے ہیں جن میں سے دو بچوں کو بلڈ کینسر ہے اور انہیں ہر ہفتے تازہ خون کی ضرورت ہوتی ہے۔ تنگدستی کیوجہ سے پانچوں بچوں نے سکول چھوڑ دیا ہے اور بھوک مٹانے کے لئے ایک وقت کی روٹی کو ترستے ہیں۔

موصوفہ ریاست پاکستان کے اداروں سے سوال کرتی ہے کہ میرا شوہر اپنے بچوں کا واحد کفیل تھا۔جب اس کو جرم کے الزام میں اٹھا کر غائب کیا گیا، تو کیا ان میں سے کوئی ہے کہ میرے بے آسرا بچوں کی تعلیم کا بندوبست کرے، ان کی خون اور باقی علاج کا غور کرے اور ان کی دو وقت کی روٹی کا انتظام کرے؟ وہ ریاستی اداروں میں براجمان ظالم مافیا سے یہ بھی سوال کرتی ہے کہ وہ خود اپنے بچوں سے کتنا پیار کرتے ہیں؟ کیا انہوں نے کھبی سوچا ہے کہ میرے بچوں کو ایک وقت کی روٹی بھی نہیں ملتی اور وہ تعلیم چھوڑ کر بے شعور رہ گئے؟

اپنے بے بسی کو بیان کرتے ہوئے وہ کہتی ہے کہ جب میں اپنے بچوں کے پیٹ پالنے کے لئے مزدوری کرتی ہوں اور کینسر کے بچوں کے خون کے لئے یونیورسٹیوں او بازاروں میں گھومتی ہوں تو لوگ مجھے عجیب عجیب نظروں سے دیکھتی ہے جس سے میری خودی او عزت نفس داو پر لگ گئ ہے۔

یہ عظیم عورت ایک ذمہ دار شہری کا مظاہرہ کرتی ہوئی کہتی ہے کہ میرے شوہر پر مقدمہ چلایا جائے۔ اگر واقعی میں وہ مجرم ثابت ہوگیا تو اس کو بیشک سزا دی جائے، میں فوج کو سلام کرونگی اور پاک فوج زندہ آباد کا نعرہ بھی لگاونگی لیکن اگر اُسے بے قصور غائب کیا گیا ہو، اس پر مقدمہ نہیں چلایا جاتا ہو اور مجھے اور میرے بچوں کو بے آسرا رکھ کر ذلیل کیا جارہا ہو تو میں پاک فوج سے نفرت کروں گی۔

بسروں بی بی مزید کہتی ہے کہ میں چھوٹی عمر میں جب کسی فوجی کے پاس سے گزرتی تو میں اپنے آپ کو مضبوط اور محفوظ سمجھتی اور اب جب کسی فوجی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو میں اپنے آپ کو غیر محفوظ اور بے عزت سمجتی ہوں۔

حالات سے دلبرداشتہ بسرو بی بی آخر میں جلسے میں موجود عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہتی ہے کہ شہید نقیب اللہ کا خون ناحق اُٹھ ہوچکا ہے اور ایک مخصوص مظلوم قوم میں بیداری آچکی ہے۔لہٰذا اب وقت ہے، میرے جیسے اپنے بے آسرا بہنوں، بھائیوں اور جلسے میں شامل میرے جیسے دوسرے سینکڑوں ہزاروں مرد و عورت متاثرین کی مدد کرکے ان کی آواز بن جائیے اور ریاست سے پوچھ لے کہ کیوں ایک مخصوص قوم کے ساتھ ظلم و جبر کیا جا رہا ہے۔ پشتو سمجھنے والے جس بندے نے بھی بسرو بی بی کا یہ تقریر سنا ہے یقین کیجیئے وہ آنسوں بہائے بغیر نہیں رہ سکا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here