وقاص احمد

کہا ’’یار! یہ صداقت اور امانت کے جو اصول نواز شریف کیس میں طے ہوئے ہیں یہ عام بشر کے لیے ناممکن ہیں‘‘۔ جواب، ’’ہوتے رہیں، کیا تمہیں چور اور خائن لیڈر چاہیں؟‘‘۔ کہا، ’’بات سمجھنے کی کوشش کرو، آرٹیکل 62-63 لگا تو پوری پارلیمنٹ فارغ ہو جائے گی۔‘‘ جواب، ’’ہوتی پھرے، کبھی نا کبھی تو ہمیں برائی کا راستہ روکنا ہے، اس پر کوئی دوسری رائے قبول نہیں‘‘۔

کہا، ’’بھائی آپ سمجھ نہیں رہے، یہ نیکی اور برائی کا فرق نہیں۔ یہ بندہ بشر اور کاملیت کا فرق ہے، کوئی بشر کامل نہیں، پورا پاکستان فارغ ہوجائے گا۔‘‘ جواب، ’’ہوتا پھرے، اب بس۔ یا تو صادق اور امین ہوں گے یا چاہے پھر کوئی بھی ناں ہو‘‘۔ کہا، ’’”سنا ہے کہ وہ صادق اور امین کا دائرہ ججز اور جرنیلوں تک بڑھا رہے ہیں”۔ جواب آیا، ’’یہ تو واقعی سنجیدہ اور غور طلب معاملہ ہے، تم شاید درست کہہ رہے ہو کہ صادق اور امین کی تعریف پر پورا اترنا ایک عام انسان کے بس کی بات نہیں، اس پر بحث ہونی چاہیے۔‘‘

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here