احمد جمیل یوسفزئی

وجودی فلسفے کے ایک اہم دانشور اور فرانس کے نامور فلسفی، ژاں پال سارتر کا ایک قول ہے، “مجھے اُن مظلوموں سے نفرت ہے جو اپنے اوپر ظلم کرنے والوں کی تکریم کرتے ہیں.”

قبائلی علاقوں سے اپنے حقوق کے حصول کے لئے شروع ہونے والی پختون نوجوانوں کی تحریک PTM کو بہت سے لوگ پختونوں پر پچھلے پندرہ بیس سالوں سے ہوئے ظلم و ناانصافی کا حساب مانگنے کی اِن کی ایک پرامن کوشش گردانتے ہیں.

ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ پختونوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے. 12 اگست 1948 کا دن پختونوں کی جدید تاریخ میں ایک ایسا دردناک دن ہے جسے آج بھی ‘پختونوں کی کربلا’ کے نام سے پکارا جاتا ہے.

4 جولائی 1948 کو اس وقت کے صوبہ سرحد کے گورنر نے ایک آرڈیننس “دی نارتھ ویسٹ فرنٹیر پراونس پبلک سیفٹی آرڈیننس” کے نام سے نافذ کیا. اس آرڈیننس کے مطابق حکومتِ وقت کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ:

۱. بغیر کسی وجہ کے کسی بھی فرد کو گرفتار کر کے غیر معینہ مدت کے لئے حراست میں رکھ سکتی ہے.

۲. اس کی جائیداد ضبط کر سکتی ہے… اور

۳. حراست میں لئے گئے کسی بھی ایسے شخص کو یہ اختیار نہیں ہوگا کہ وہ ایسی گرفتاری کو عدالت میں چیلنج کر سکے.

اس طرح صوبے کے نامور لوگوں میں سرفہرست خدائی خدمت گار تحریک کے بانی خان عبداغفار خان المعروف باچا خان سمیت ان کے بھائی خان عبدلجبار خان المعروف ڈاکٹر خان صاحب اور کئی اور لوگوں کو حراست میں لیا گیا. حکومت کے اس غیر انسانی روئے اور ظالمانہ آرڈیننس کی نفی کرتے ہوئے خدائی خدمت گار تحریک کے اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ اس حکومتی اقدام کے خلاف چارسدہ کے بابڑہ میدان تک پرامن مارچ کیا جائے گا اور تحریک کے بانی اور ساتھیوں کی آزادی کا مطالبہ کیا جائے گا.

اس پر سردار عبدلقیوم خان کی صوبائی حکومت (جو ڈاکٹر خان صاحب کی حکومت کو گورنر کے ذریعے 22 اگست 1947 کو ختم کرنے کے بعد وجود میں آئی تھی) نے چاسدہ میں دفعہ 144 نافذ کر کے ہر قسم کے جلسے جلوسوں پر پابندی لگا دی. مگر اس کے باوجود لوگوں کی ایک بڑی تعداد 12 اگست کی صبح چارسدہ کے بابڑہ گراونڈ میں پہنچنا شروع ہوئی تھی. اور جلوس کی شکل میں پرامن خدائی خدمتگاران، جن میں بچے، بوڑھے اور خواتین شامل تھے تمام تر مشکلات کے باوجود میدان میں پہنچ گئے.

سردار عبدلقیوم خان کے حکم پر پولیس بھی وہاں پہنچی اور پوزشنز سنبھال لی. لوگوں کو منتشر ہونے کا کہا گیا مگر انھوں نے انکار کر دیا. قیوم خان نے حکم دیا اور پولیس نے نہتے اور پرامن مردوں، عورتوں اور بچوں پر فائر کھول دیا. عینی شاہدین کے مطابق پینتالیس منٹ تک پولیس کی بندوقیں آگ برساتی رہی اور اس دوران خواتین نے کلام پاک سروں پر رکھ کر فائر بندی کی التجائیں کی مگر اس بربریت نے قرآن کی حرمت کا بھی پاس نہ رکھا اور گولیاں برستی رہی.

بالاآخر جب گولہ بارود ختم ہونے کے ساتھ فائرنگ رُک گئی تو پتہ چلا کہ تقریباً 637 لوگ شہید جب کہ 1300 سے ذیادہ زخمی ہوئے تھے. یہ ظلم یہاں پہ ختم نہیں ہوا. حکومت نے اعلان کیا کہ زخمیوں کا علاج سرکاری ہسپتالوں میں نہیں کیا جائے گا. اس کے ساتھ لواحقین کو اپنے پیاروں کی لاشیں تب حوالیں کی گئی جب ان پر صرف کی گئی گولیوں کی قیمت وصول کی گئی.

بعد میں صوبائی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے سردار قیوم خان کے الفاظ پختونوں کے رستے زخموں پر نمک پاشی کے سوا اور کیا ہو سکتے تھے. وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ” میں نے بابڑہ میں دفعہ 144 نافذ کیا تھا. جب لوگ منتشر نہیں ہوئے تو اُن پر فائرنگ کی گئی. وہ خوش قسمت تھے کیوں کہ پولیس کے پاس اسلحہ ختم ہوگیا تھا. ورنہ ایک بندہ بھی زندہ نہ بچتا”.

اس ظلم و بربریت کا ذکر کرتے ہوئے دو سال بعد ڈھاکہ میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے حسین شہید سہروردی ( پاکستان کے پانچویں وزیر اعظم- ستمبر 1956 تا اکتوبر1957) نے کہا تھا، ” 1948ءچارسدہ میں سرخ پوشوں (خدائی خدمتگاروں) کے وحشیانہ قتل عام نے 1919ء میں جلیانوالہ باغ میں برطانوی حکومت کی جانب سے کئے جانے والے قتل عام کو بھی پیچھے چھوڑ دیا تھا۔‘

باچا خان نے چھ سال بعد مارچ 1954 میں پاکستان کی پہلی آئین ساز اسمبلی میں کہا کہ کئی لوگوں کو اب بھی ہماری وفاداری پر شک ہے. میں یہ کہتا ہوں کہ ایک خصوصی عدالت قائم کی جائے جس میں نہ صرف میری وفاداری اور غداری پر تحقیقات ہوں بلکہ 1948ء میں چارسدہ کے مقام ’’بابڑہ‘‘ پر خدائی خدمتگار تحریک کے سیکڑوں کارکنان (مردوں، عورتوں اور بچوں) کے قتل عام، لوٹ مار اور آتش زنی کا بھی جواب دیا جائے۔

اس خون آشام دن کو چھپن سال گزر چکے تھے جب سال 2004 کے مارچ کے مہینے کی 16 تایخ ایک بار پھر پختونوں کے وطن پر ایک اور خونریز تاریخ کے طور پر نمودار ہوا. امریکہ کی “وار اَن ٹیرر” میں ایک نان نیٹو ایلائے کی حیثیت سے اس وقت کی مشرف حکومت نے پہلی بار 2004 میں فوج وزیرستان بھیجی. چودہ سال میں اب تک قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں پے درپے گیارہ فوجی آپریشنز کئے گئے. اس پورے عرصے میں ان آپریشنز کے بارے میں ذیادہ تر معلومات قوم تک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ذریعے پہنچتی رہی. اس لئے پہلے المیزان آپریشن سے لیکر موجودہ آپریشن ردالفساد تک کئی ایسی باتوں پر کھل کر قوم کو آگاہ نہیں کیا جا سکا اور یہ پتہ نہیں چل سکا کہ ان سب آپریشنز میں:

1. کتنے دہشتگرد مارے گئے اور ان کی ڈیٹیلز کیا کیا ہیں؟

2. عام آبادی کس حد تک متاثر ہوئی؟

3. بے گناہ اور معصوم لوگ کتنے شہید ہوئے؟

4. کتنی آبادی کو کتی بار نقل مکانی کرنی پڑی؟

5. دوسرے علاقوں میں اِن آئی ڈی پیز (انٹرنلی ڈسپلیسڈ پیپل) کو کن کن مشکلات سے گزرنا پڑا؟

6. کتنے لوگ واپس اپنے گھروں کو جا چکے ہیں؟

7. لوگوں کے تباہ شدہ کاروبار اور گھروں کے بارے میں حکومت نے اب تک کیا اقدامات کئے ہیں؟

اس سال کے جنوری کی تیرہ تاریخ کو ایک جعلی پولیس مقابلے میں کراچی میں قتل ہونے والے وزیرستان کے نوجوان نقیب اللّہ کے انصاف کے لئے احتجاج سے شہرت پانے والی پختون تحفظ موومنٹ نے ایسے سوالات اُٹھائے کہ اوپر بیان کئے گئے سوالات معصومانہ لگنے لگے. مثلاً

1. ان آپریشنز کے دوران ہزاروں پختون نوجوانوں اور کئی سو خواتین کو اٹھایا گیا. یہ کہاں ہیں اور اگر ان پہ کوئی الزام ہے تو ان کو اب تک عدالت میں کیوں پیش نہیں کیا گیا؟

2. ہر فوجی آپریشن کی کامیابی کے دعوؤں کے باوجود دھشتگرد کیسے واپس طاقتور ہوئے کہ ایک کے بعد دوسرے آپریشن کی ضرورت محسوس ہوئی اور اب گیارواں آپریشن چل رہا ہے؟

3. راو انوار کو JIT کی رپورٹ میں 444 لوگوں کے قتل میں ملوث ٹھرایا گیا اس کے باوجود اس کو عدالت سے پہلے ضمانت کیسے ملی اور اب اس کو پھر سے پوسٹنگ دینے کی باتیں کون زبان زد عام کر رہا ہے؟

پختون تحفظ تحریک نے اپنا اگلا جلسہ بابڑہ کے سانحے کی مناسبت سے 12 اگست کو صوابی میں منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے لئے ٹویٹر پر ابھی سے #PashtunLongMarch2Swabi ٹرینڈ کر رہا ہے. اس جلسے میں تحریک کے رہنماء منظور پختون کے مطابق ملک کے آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے PTM چودہ سال سے جاری جنگ کے خاتمے، پختونوں پر ہوئے ظلم کے حساب، پختونوں کو اپنے وسائل پر اختیار، غیر آئنی اور ماورائے عدالت قتل کئے گئے پختونوں کے بارے میں تحقیقات، تحریک کے گرفتار پرامن کارکنان ( حیات پریغال، مولانا روئداللّہ ودیگر) کی رہائی، زبردستی لاپتہ کئے گئے ہزاروں پختونوں کی عدالت میں پیشی اور بے گناہ ہونے کی صورت میں آذاد کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا.

پختونوں کے ساتھ دہائیوں سے جاری ظلم و بربریت سے شعراء بھی متاثر ہوئے. پروفیسر بخت زادہ دانش کی ایک نظم ایسے ہی حالات کی عکاسی کرتی ہے. پشتو کے ساتھ اردو ترجمہ دیا جا رہا ہے. اردو اچھی نہ ہونے کے سبب ترجمے میں متوقع غلطیوں کے لئے پختون دوستوں سے پیشگی معذرت چاہتا ہوں.

1. له مُدو نه په عذاب یم ته وے واه واه
ځه ویم غرق یمه خراب یم ته وے واه واه

(میں مدتوں سے عذاب میں ہوں اور تم کہتے ہو واہ واہ
میں کہتا ہوں غرق ہو چکا ہوں، خراب ہوں، اور تم کہتے ہو واہ واہ)

2. ځه ویم کور د پښتون ړنګ شو ته وے ډیر خه
ځه ویم سوے یم کباب یم ته وے واه واه

(میں کہتا ہوں پختونوں کے گھر تباہ ہو چکے ہیں اور تم کہتے ہو بہت اچھا…
میں کہتا ہوں جل کر کباب ہو گیا ہوں اور تم کہتے ہو واہ واہ)

3. ځه ویم ورک شومه ورکیګم ته وے حد دے
ځه ویم وتے د نصاب ته وے واه واه

( میں کہتا ہوں فنا ہو گیا ہوں، فنا ہو رہا ہوں اور تم کہتے ہو حد ہے..
میں کہتا ہوں نصاب سے نکل چکا ہوں اور تم کہتے ہو واہ واہ)

4. ځه ویم ځه لیونے کیګم ته خوشحال شۍ
ځه ویم رجمه ګلاب یم ته وے واه واه

(میں کہتا ہوں پاگل ہو رہا ہوں اور تم خوش ہو جاتے ہو…
میں کہتا ہوں جھڑ رہا ہوں گلاب ہوں اور تم کہتے ہو واہ واہ)