عاطف توقیر

ایک رجحان ہے کہ ملک میں کسی بھی واقعے، کسی بھی سانحے، کسی بھی حادثے یا انسانی حقوق کی کسی بھی پامالی پر بات کیجیے یا کچھ لکھیے، تو آپ کے سامنے کچھ افراد کی جانب سے چند جملے پورے زور و شور سے بولے جاتے ہیں اور بولنے والوں کو سوفیصد یقین بھی ہوتا ہے کہ وہ درست کہہ رہے ہیں۔ وہ جملے کچھ یوں ہیں۔

کاش کے آپ اس واقعے کی مذمت کی طرح فلاں واقعے کی مذمت بھی کرتے یا آپ اِس وقت تو بات کر رہے ہیں، مگر آپ اُس وقت کہاں تھے، جب فلاں واقعہ ہوا تھا یا آپ کو پاکستان میں تو انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں نظر آتی ہیں، مگر فلسطین یا شام یا عراق پر بات کرتے آپ کے پر کیوں جلنے لگتے ہیں یا آپ پاکستانی فوج پر تو تنقید کرتے ہیں، مگر امریکا یا یورپ پر تنقید کیوں نہیں کرتے شاید آپ کو وہاں سے ڈالر ملتے ہیں۔

مزے کی بات یہ ہے کہ اب تک دیگر افراد پر ڈالر لینے کا الزام عائد کرنے والوں میں سب سے آگے وہی ہیں، جو پاکستانی کی پوری تاریخ میں ڈالر لے لے کر اپنے ملک اور قوم کی سالمیت خطرے میں ڈالتے رہے ہیں۔ لیکن اس موضوع کو آئیے کچھ تفصیل سے دیکھتے ہیں کہ آیا یہ سوالات یا جملے کس حد تک درست ہیں اور کیا ان جملوں کو سنجیدہ بھی لیا جا سکتا ہے؟

پہلی بات کہ آپ اس وقت کہاں تھے، جب فلاں واقعہ ہوا تھا، کاش کہ آپ تب بھی بولتے۔ اس جملے کے درپردہ ایک طرف تو ہماری خودساختہ کسی کی جعلی ’حب الوطنی‘ شامل ہے، دوسرا اسکولوں میں پڑھائی جانے والی مسخ شدہ تاریخ پر مبنی مطالعہ پاکستان، تیسرا فوج کے بھرتی کیے ہوئے ہزاروں نوجوانوں کی سائبر ٹیم، جس کا کام یہ ہے کہ وہ قوم کے وہ پیسے جو غریب عوام اپنا پیٹ کاٹ کے ملکی سلامتی اور دفاع کے لیے دیتے ہیں، انہیں استعمال کر کے ہزارہا جعلی اکاؤنٹس کے ساتھ سارا سارا دن رنگ برنگی تصویریں بنا کر، اپنی بڑائی کے لیے استعمال کرتے ہوئے، خود پر تنقید کرنے والے ہر شخص کو ملک دشمن، غدار، ایجنٹ یا جاسوس قرار دے، چوتھے وہ جو مسلکی بنیادوں پر ہمارے درمیان موجود تقسیم کے تناظر میں ظالم اور مظلوں کے درمیان فرق کے لیے صرف اور صرف عقیدے اور ایمان کا استعمال کرتے ہیں اور پانچویں وہ جو ان تمام یا ان میں سے کسی ایک عنصر سے مرعوب ہو کر خود ہی پیچھے پیچھے چلتے ہوئے نعرہ بلند کر دیتے ہیں۔

مجھے یاد پڑتا ہے، پاکستان میں ڈرون حملے بہتات سے ہو رہے تھے، میں نے ڈرون حملوں کی مذمت کی، تو جواب ملا، آپ کو ڈرون حملے تو نظر آتے ہیں مگر آپ کو خودکش بمبار نظر نہیں آتے، خودکش بمباروں کے بارے میں مذمتی مضمون لکھا، تو سننے کو ملا، آپ کو خودکش حملے تو نظر آتے ہیں مگر فوجی آپریشن نظر نہیں آتے۔ فوجی آپریشن پر کچھ لکھا، تو سنائی دیا کہ آپ کو پاکستانی فوج کے آپریشن پر تو بڑا دکھ ہوتا ہے، امریکا کی جانب سے بستیوں کی بستیاں تباہ کرنے پر ذرا رنج نہیں پہنچتا۔ مہاجروں کو زبان اور تعصب کی بنیاد پر نشانہ بنانے کے خلاف کچھ لکھا، تو جواب آیا، آپ کو مہاجروں سے تو ہم دردی ہے مگر عراقی بچوں کی آواز آپ کے کان میں نہیں پڑتی۔

میں نے عراق پر لکھا، تو جواب ملا آپ کو شام نظر نہیں آتا، شام پر لکھا تو نظر آیا آپ یمن پر خاموش ہیں، یمن پر لکھا تو کوئی بولا روہنگیا کے لیے آواز کیوں نہیں اٹھاتے، روہنگیا پر مضمون لکھا تو، آواز آئی کشمیر پر کون بات کرے گا؟ کشمیر میں بھارتی مظالم پر کچھ لکھا، تو سننے کو ملے اپنے ملک کا بیڑا غرق ہے اور آپ کشمیر پر بات کر رہے، اپنے ملک میں انسانی حقوق کی پامالی پر کچھ تحریر کیا، تو کوئی پکارا، فلسطین کے مسلمان بھی آپ کو پکار رہے ہیں۔

میرے خیال میں کسی ایک دہشت گردی، انسانی حقوق کی کسی ایک پامالی یا انسانی حرمت کی بربادی کے کسی ایک واقعے پر کسی مضمون یا تحریر یا نظم یا بلاگ پر گفت گو ہو، تو بات کو اسی تک محدود رکھنا زیادہ اہم ہے۔ کیوں کہ دوسری صورت میں فائدہ ظالم کو پہنچتا ہے۔

بات ہوتی ہے بلوچستان میں اپنے شہریوں کی مسخ شدہ لاشوں کی، سندھ، خیبرپختونخوا بلکہ ملک کے مختلف علاقوں سے لاپتا افراد کی اور سننے کو ملتا ہے کہ کاش کے آپ شام میں انسانوں کے قتل عام پر بھی لکھتے۔

ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ پھر شام اور فلسطین ہی کیوں؟ برونڈی میں انسانوں کی بربادی پر کیوں نہ لکھا جائے؟ جنوبی سوڈان میں نسل کی بنیاد پر جاری قتل و غارت گری پر کیوں نہ بات ہو؟ صومالیہ میں الشباب کے ہاتھوں پورے علاقے کی بربادی، ہزاروں ہلاکتوں اور اس علاقے میں پھیلے قحط کا ذکر کیوں نہ ہو؟ نائجیریا پر بات کیوں کہ جائے؟ اس طرح تو دنیا کے بے شمار خطے ہیں، جہاں ظلم اور بربادی کا بازار گرم ہے، ان سب پر کیوں نہ لکھا جائے؟ اور کیا کوئی ایک شخص دنیا کے ہر مسئلے پر بات کر سکتا ہے؟

ان سوالات سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ اگر اپنا گھر جل رہا ہو، اپنے لوگ مر رہے ہوں، تو آپ کے لیے اہم یہ ہو گا کہ آپ محلے کے دیگر گھروں کی آگ بجھانے کا شور مچانے لگیں یا پہلے اپنا گھر محفوظ بنا لیں، تاکہ آپ کے گھر کے دیگر افراد خود اس قابل ہو سکیں کہ وہ دیگر انسانوں کی مدد کر پائیں؟

جہاز میں پرواز سے قبل ایک اعلان کیا جاتا ہے اور وہ یہ کہ اگر آکسیجن کا پریشر کم ہو، تو پہلے آکسیجن ماسک خود پہنیے اور پھر اپنے ساتھ بیٹھے اپنے بچے یا کسی اور شخص کی مدد کا سوچیے، کیوں کہ اگر آپ خود محفوظ نہیں ہوں گے، تو آپ دوسروں کی مدد نہیں کر سکتے۔

جن لوگوں کو فلسطین، شام، عراق، برما اور لیبیا کے انسانوں کی دکھوں کی بہت تکلیف ہے، وہ کسی روز وزیرستان اور فاٹا کے دیگر علاقوں میں بھی جا نکلیں، آپ کو یہاں ہر گلی میں ایک عراق اور ہر گھر میں ایک شام نظر آئے گا۔

شام اور عراق میں تو امریکا اور دیگر عالمی طاقتوں نے اپنے مفادات، وسائل کے حصول اور خطے میں اپنے اثرورسوخ کے لیے انسانیت کا قتل کیا، مگر ہمارے ہاں ہمارے اپنے لوگوں کے ہر گھاؤ کے پیچھے خود ہماری اپنی انگلیوں کے نشان ملیں گے۔

فلسطین اور شام کا دکھ ضرور کیجیے، مگر گلگت بلتستان، فاٹا، خیبرپختونخوا، سندھ، بلوچستان، جنوبی پنجاب اور دیگر علاقوں میں ہزار ہا مظلوں کی آنسو سب سے پہلے پونچھیے جو دستور کے تحت آپ کے اپنے بھائی اور بہنیں ہیں۔ جب ہم سب خود مضبوط ہو جائیں گے، تو دنیا شام اور فلسطین کی بابت ہماری بات اور ہمارا دکھ سمجھنے لگے گی۔