ڈاکٹر سید انعام حسین

بارسلونا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی دو قسم کی ہے، آجر اور مزدور۔ ان میں مزدور طبقہ بہت زیادہ ہے، جسے نوکری پیشہ بھی کہا جا سکتا ہے۔ آجر طبقے کا تعلق سرمایہ داروں سے ہے، جن کے سرمایہ کو مزدور اپنی محنت سے بڑھاوا دیتا ہے۔

قارئین کرام، بارسلونا کا پاکستانی سرمایہ دار طبقے کے بارے میں خیر اندیش نے کچھ روز پہلے ایک آرٹیکل تحریر کیا تھا، جس میں بتایا گیا تھا کہ کس انداز میں یہ طبقہ مقامی ریاست کی آنکھوں میں دھول جھونک کر مزدور کی محنت کا استحصال کر کے امیر بنا ہوا ہے اور بے شرمی ایسی کہ ڈھٹائی کے ساتھ اپنے استحصالی ہتھکنڈوں کو “اسلامی طریقہ” کہتا ہے۔ اس طبقے کا اوّلین مقصد خود نمائی ہوتا ہے لہٰذا یہ ظہرانے، عصرانے، عشائیے وغیرہ پر سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ چند قلم فروش محرروں (جو شاید اپنے آپ کو صحافی کہتے ہیں) کو خرچہ دیتے ہیں تاکہ محفل کی تصاویر اور نوسر بازی پر مبنی بیانات کو سوشل میڈیا پر ڈالا جائے۔

اب یکم مئی کو ہی لے لیجیے، پاکستانی کمیونٹی کے مزدوروں کے پاس تو فنڈز ہیں نہیں کہ وہ کوئی ضیافت دیں لہٰذا اس موقع کو غنیمت جان کر پاکستانی سرمایہ دار طبقہ جو شاید خود کبھی مزدور رہا بھی ہو لیکن آج کل سرمایہ دار ہے اور اسی استحصالی ڈگر پر ہے، جس سے خود کبھی گزرا ہو۔ لیکن دور حاضر میں اس کا تمام تر مقصد خود نمائی اور نوسر بازی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ ثبوت یہ ہے کہ اس دن کو منانے کے لئے تقاریب منعقد کی جائیں گی۔ یہ تقاریب بہ مثل کنگ مارٹن لوتھر ہوں گی۔ تقاریر سننے کے لیے وہی روایتی چہرے نظر آئیں گے جو ہر بار ان کی محافل میں موجود ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ زر خرید قلم کار اور آج کل عکس باز موجود ہوں گے، جو اپنے اپنے چینلز پر اپنے اپنے مخصوس جتھوں کے بیانات چلوا کر ان سے داد کے پیسے بٹوریں گے۔ اور یکم مئی کی رپورٹیں چنیلز کی زینت بنیں گی۔ حاصل وصول کچھ نہیں ہوگا، بس چہروں کی نمائش ہو گی اور پھر اگلے کسی موقع کی تاڑ میں بیٹھ جائیں گے۔

حضور اگر آپ کی مزدور سے اتنی ہی محبّت ہے تو آپ اس دن کے موقع پر اپنے ہاں مزدوری کرنے والوں کی تنخواہ بڑھا کیوں نہیں دیتے؟ کوئی بونس ہی دے دیں۔ ان کے کنٹریکٹ پورے آٹھ گھنٹے کیوں نہیں چلانا شروع کر دیتے؟ ان کو اپنی کمپنی کے کھاتے سے میڈیکل انشورنس اور ریٹائرمنٹ پالیسی کیوں نہیں خرید دیتے؟ ان کے اوقات کار میں نرمی کیوں نہیں کر دیتے؟ کچھ تو ایسا کیجئے کہ آپ کی سنجیدگی نظر آئے۔

یہ سرمایہ دار ایسا نہیں کریں گے کیونکہ اس سے بہت کم سرمایہ لگانے سے اپنی ذات کی بہت زیادہ مشہوری کی جا سکتی ہے اور حاصل مقصد بھی ان کا یہی ہوتا ہے۔ مزید حیرت اس بندہ عاجز کو اس وقت ہوتی ہے کہ جب قلم کار خود مزدور ہوتے ہوئے بھی سرمایہ دار کا چمچہ بنا ہوا نظر آتا ہے اور سچ لکھنے سے یکسر کنی کترا جاتا ہے۔ اسے بے شرمی کہہ لیجیے، ہٹ دھرمی، بے غیرتی یا پھر اس کے گھر چلانے کی ضرورت جو مناسب ہو سمجھ لیں۔
.
مزدور کا استحصال سرمایہ دار کے ہاتھوں ہونا آج کا رواج ہے کیونکہ ہم سب اس سرمایہ دارانہ نظام میں جی رہے ہیں. سرمایہ دار کا مذہب، دین ایمان سب منافع ہے لہٰذا وہ کتنے ہی لبادے اوڑھ اوڑھ کر دکھا دے، وہ مزدور کا استحصال کرنے سے باز نہیں آئے گا،  یہاں تک کہ مزدور کا استحصال روکنے میں دین عدل بھی جیسے کچھ نہیں کر پا رہا کیونکہ پاکستانی سرمایہ دار اسلام کے نام پر ہی مزدور کا استحصال کرنے میں جتا ہوا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here