جواد احمد بھٹی

میرا گزر ایک بستی سےہوا۔ وہاں ایک نہایت ہی خستہ حال سا بورڈ لگا ہوا دیکھا جس پر لکھے ہوئے حروف تقریباﹰ مٹ چکے تھے سبز رنگ کی جگہ زنگ نے لے رکھی تھی۔اور کہیں کہیں رنگ کے آثار دکھائ دیتے تھے۔میں بورڈ کو گھور کر دیکھ ہی رہا تھا کہ پاس سے ایک بابا جی گزرے اور بولے۔ بیٹا کیا پڑھ رہے ہو۔کس کے گھر جانا ہے۔

میں نے بابا جی کو بتایا کہ بابا جی میں اس بورڈ پر لکھے حروف پڑھنا چاہتا ہوں۔۔بابا بولے۔ ویکھ پتر یہ اب کسی سے نہیں پڑھے جاتے۔ میں نے اضطراب میں آ کر پوچھا۔۔تو آپ کو معلوم ہے کہ اس بورڈ پہ پہلے کیا لکھا ہوتا تھا۔بابا جی بولے ہاں پتر۔

کسی انقلابی نے لکھوایا تھا بستی جہموریت۔۔۔ڈاکخانہ خاص۔ میں نے حیرت زدہ ہو کر پوچھا کہ بابا جی یہ کب کی بات ہے۔بابا بولے اللہ بخشے اس کو سن ستر کی۔ میں نے بورڈ پر ہاتھ رکھا اور سہارا لیتے ہوئے بولا بابا۔جی پھر اس بورڈ کو دوبارہ کسی نے رنگ کیوں نہیں کرایا۔۔بابا بولے بیٹا رنگ کون کراتا۔ سب ہی کرائے دار تھے۔ بستی کے نمبردار چل بسے۔کچھ قتل ہو گے کچھ جیلوں میں ہیں۔ میں نے پوچھا بابا جی انقلابی سے پہلے کوئ اس بستی کی طرف آیا۔

بابا قدرے توقف سے بولے ہاں۔ ایک عورت تھی۔ ضعیف سی۔ میں نے جھٹ سے پوچھا۔پھر۔ بابا بولے اس کا ساتھ بستی کے کمیوں نے نہیں دیا تبھی وہ آئی ہی نہیں اور پھر انقلابی آیا۔۔۔۔۔آہ کیا دن تھے۔ ہم سمجھے تھے کہ مسیحا آ گیا ہے۔ اور جب یہ بورڈ لگا تو اس کے کچھ عرصے بعد ہی اس بورڈ پھر سیاہی پھینک دی گئی۔ علاقے میں جو جرات کرتا اس سیاہی کو مٹانے کی اس کو کوڑے لگائے جاتے تھے۔ کوئ دلیر آیا ہی نہیں۔

میں نے بابا جی کو عرض کی بابا جی ہم اس کیکر کے درخت کہ نیچے بیٹھ نہ جائیں۔ تا کہ آرام سے بات ہو سکے۔ بابا بولے چل۔ بیٹھا بیٹھ جا۔ سن اس بڈھے سے داستان اس بستی کی۔ میں اور بابا جی اس کیکر کے نیچے بیٹھ گئے اور بابا جی نے بات کو وہاں سے پکڑا جہاں سے بات چھوٹی تھی۔ بولے آہ پتر۔ پھر ایک دن ایک۔ مدت کے بعد انقلابی کی بیٹی آئی اس نے بستی میں آتے ساتھ اعلان کیا کہ باپ کہ مشن کو آگے بڑھائے گی۔

ہم نے پھر کمر کس لی اور بورڈ کو رنگ کرنے کا سوچنے لگے۔ مگر ہوا یہ کہ کبھی ریگمار والا نہ ملتا رو کبھی رنگ والا اجرت زیادہ مانگ لیتا عجیب عجیب فرمائشیں کرتا۔ اس کے بھائی مر گئے تھے نا اسی چکر میں، یوں بے چاری وہ بھی تنگ آ گئی اور پھر کچھ نہ بن سکا۔ میں نے پوچھا بابا اب وہ کدھر ہے۔ بابا نم آنکھوں اے بولے۔ بیٹا وہ بھی قتل کر دی گئی تھی۔ میں نے بابا جی کا غم ان کے الفاظ میں محسوس کیا تھا۔ میں کچھ پوچھنے کی جسارت نہ کرسکا۔ بابا بولے توں بستی گھوم لے۔ سامنے میرا گھر ہے۔ ادھر دن کا کھانا میرے ساتھ کھانا اور پھر جہاں جانا ہے وہاں چلے جانا۔ میں نے بس جی کہا اور نکل گیا۔

بستی کے لوگ نہایت ہی سلیقہ مند تھے۔۔ ان کا لباس ان کی ڈیل ڈول اس بات کی غمازی ضرور کرتی تھی۔کچھ باسی ولایت سے تعلیم حاصل کر کے آئے ہوئے تھے۔ مگر میں یہ نہ جان سکا کہ اتنے پڑھے لکھے اور امیر ہونے کے باوجود بستی کا بورڈ کیوں نہ رنگ کرا سکے۔ ایک بازار میں چھوٹی چھوٹی آٹھ دس دکانیں تھی۔جن میں ہر کوئ اپنا سودا بیچ رہا تھا۔اصلی کو نقلی کہہ کر اپنے ہی پیٹی بھائ کے پیٹ پر لاتیں ہی نہیں ساتھ گھونسے بھی مار رہا تھا۔شریفوں کی کوٹھی شاندار تھی۔۔شریفوں کے حریف کی کوٹھی بھی کمال تھی۔پر حریف شریف نہ تھے۔سامنے ایک اونچے ٹیلے پر ایک اچھا گھر بنا ہوا تھا۔ بکروالوں سے معلوم ہوا یہ صاحب بھی بستی کہ کام کاج میں حصہ لیتے ہیں۔ مگر پل میں تولہ اور پل۔میں ماسہ ہوتے ہیں۔ لہذا ان سے نہ ملا جائے۔

میں نے ایک باڑ لگی دیکھی جس کے اندر خوبصورت ماحول تھا۔ سبزہ اگا ہوا تھا۔ ہر چیز نفیس اور ایک حد تک صاف۔۔ہر کوئ ایک لباس میں مجھے یہ طرِزِ زندگی اچھا لگا۔ باہر کھڑے پہرہ دار سے پوچھا کہ جناب کیا یہ علاقہ بھی اس بستی کا حصہ ہے۔ وہ بولا جی ہاں صاحب۔ میں نے پوچھا۔ یہ صاف کیوں ہے اتنا اور بستی اے زیادہ خوبصورت کیوں ہے۔ وہ آہستہ اے بولا صاحب یہاں کا قانون سخت ہے۔ میں متاثر ہوئے بغیر نہ راہ سکا۔ میں بابا جی کے بتائے ہوئے گھر کی طرف بڑھا۔ بابا جی کے خلوص کی وجہ سے میں نے جانا ضروری سمجھا۔ میں نے دروازہ کھٹکایا اور آواز آئی کون۔ میں نے جھجکتے ہوئےکہا، بابا نظر صاحب کا گھر یہی ہے۔ جواب آیا ہاں۔

پھر بابا جی دروازے پر آئے اور مجھے اندر بیٹھک تک لے گئے۔ نوار کی بنی چارپائی پہ مجھےبٹھایا اور ان کا پوتا پانی لے کہ آ گیا۔
اس نے اسلام علیکم بولا۔ میں بس واعلیکم ہی کہ کر اس کو دیکھنے لگا۔ بیس بائیس سال کا وہ لڑکا انداز سے پڑھا لکھا لگ رہا تھا۔ میں نے نام پوچھا تو بولا جناب میرا نام فرحت ہے۔ وہ بھی پانی رکھ کے ہمارے ساتھ بیٹھ گیا۔
وہ مجھ سے مخاطب ہوا اور کہنے لگا۔ دادا بتا رہے تھے آپ بورڈ کے بارے میں دلچسبی رکھتے ہیں میں نے بولا ہاں۔ بڑی انٹرسٹنگ سٹوری ہے، بورڈ کی۔ میں نے اس سے پوچھا، تم لوگ نئی نسل ہو کر اس کو دوبارہ رنگ کیوں نہیں کراتے کہ ہر آتے جاتے کو بستی کا نام معلوم ہو سکے۔
وہ مسکرایا اور بولا۔ جناب کیا کریں۔ شریف صاحب نے ٹھیک کرانے کا سوچا تھا مگر کچھ لوگ کہنے لگے کہ یہ نام نہیں ٹھیک۔ اس کا نام کچھ اور ہونا چاہیے۔
گاؤں کے سرپنچ تک بات پہنچی تو وہ بھی یہ کہنے لگے کہ جہموریت نام تو ٹھیک ہے مگر اس میں ہ ہل والی آتی ہے یا حلوے والی۔
کچھ نے کہا حلوے والی۔کچھ زبان دانوں نے اعتراض کیا تو معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا۔
میں نے پوچھا حلوے والی کس نے کہا، بچہ زور سے ہنسا اور بولا، باڑ والوں کی طرف جو پڑوسی ہیں انہوں نے۔ اور ہل والی شریف کے بچوں نے کہا۔
میری بات کاٹ کے بابا جی بولے۔ شریف کے منڈے اتنے دلیر نہیں تھے۔سرپنچ کی طرفداراریوں نے ان کو دلیر بنا دیا ہے۔
میں نے عرض کی بابا۔ تو حلوے والے کیوں ایسا کہتے ہیں۔ بابا بولے دراصل وہ بورڈ کو متنازعہ بنانا چاہتے ہیں، اس لیے۔
مگر اب شاید یہ معاملہ حل ہو جائے۔کیونکہ اس باری جو نئی درجہ بندی آئی ہے اس کے مطابق باڑ والے حصے کو علیحدہ یونین کونسل میں ڈال دیا گیا ہے۔
اب لے دے کہ سب سرپنچ کو منا رہے ہیں کہ بستی والوں کو تنگ نہ کرے وہ۔ وہ کبھی کسی گامے کو سزا سنا دیتا کبھی کسی ماجے کو۔ اس پر برابر طعن سب کرتے ہیں مگر دل پہ نہیں لیتا۔ مگر اب بستی والوں نے مسجد کے امام صاحب سے مل کر ایکا کر لیا ہے۔ اب شائد بورڈ رنگ ہو جائے۔ اب کی بار لگتا یہی ہے۔ پھر کھانا آ گیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here