شیرنادر شاہی

کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ بشارت شفیع یوں پلک جپکتے فانی د نیا کو خیرباد کہہ کر چلے جائیں گے اور اپنے ہزاروں مداحوں کو اشکبار اور رنجیدہ کر دے گے لیکن اس حقیقت سے کون انکار کرسکتا ہے کہ زندگی نام کی یہ حسینہ بے وفائی میں تمام بے وفاؤں کو پیچھے چھوڑ دیتی ہے۔ دیکھنے میں یہ خوبصورت ہے لیکن خوبصورت لوگ کب کسی کے بس میں ہوتے ہیں، ان سے جتنا پیار کرو یہ اُتنا ہی بے وفائی کرتے ہیں، بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ دنیا بہت میٹھی اور بہت طویل مسافت ہے لیکن زندگی کے اس سفر میں کسی کو پتہ نہیں چلتا کہ کب اور کیسےان پرخار راستوں میں کس نے بچھڑنا ہے، ہمارے ارد گرد سینکڑوں کی تعداد میں ایسے لوگ موجود ہیں جو بستر مرگ پر ہیں،زندگی ان کے لئے وبال بن گئی ہے اور اللہ سے دعا مانگتے ہیں کہ جلد ہماری زندگی آسان کردے اور موت کی آغوش میں اتار دے تاکہ سکون کی نیند سو سکے لیکن زندگی اور موت کب کسی کے بس میں ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے بغیر کون موت کو گلے لگا سکتا ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ ہم سب نے ایک نہ ایک دن موت کا ذائقہ چکنا ہے البتہ یہ معلوم نہیں کہ کب اور کیسے۔

بشارت شفیع بھی زندگی کے دھوکے میں اتنی جلدی موت کی آغوش میں چلے گئے کہ یقین ہی نہیں آرہا، زندگی کی بے وفائی کی کہانیاں سنی ضرور تھی لیکن معلوم نہیں تھا کہ اس حدتک بے وفا بھی ہوتی ہے، زندگی کی حسین راہوں میں ہزاروں خواہشات، خیالات، جذبات ،بہتر مستقبل کی امیدیں، کچھ کرنے کا عزم لئے انسان یہ بھول جاتا ہے کہ آدمی کل تک زندہ رہے گا بھی یا نہیں، شاید اسی لئے بشارت شفیع نے خود کیا خوب کہا تھا۔

مینہ کَہ وَلاس اَپِی چِھیک مِیورچَن گُونز دِیاکَہ
غانِینگہ حِرصے شِیمے ٹیٹے نیا دَس دَمینی

یعنی کہ انسان حرص و حوس میں دنیاوی چیزوں (مال ودولت،زمین) کے حصول میں مشغول ہو چکا ہے ،یہ جاننے کے باوجود بھی کہ یہ دنیا فانی ہے اور سب نے اپنے وقت پہ کوچ کر جانا ہے۔

بچپن

خوبصورت لب ولہجے کے مالک بروشاسکی زبان کے اس عظیم شاعر بشارت شفیع کا جنم آج سے 31برس پہلے گلگت بلتستان کے دور افتادہ گاؤں ہندور یاسین میں ایک متوسط گھرانے میں ہوا، بچپن سے ہی نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ہم نصابی سرگرمیوں (Co-curricular activites) میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہیں، نوعمری میں اپنی شرارتوں اور شوخیوں کی وجہ سے مار بھی کھاتے تھے اور لوگ محظوظ بھی ہوجاتے تھے، طالب علمی کے زمانے سے ہی وطن اور دھرتی سے محبت کا جذبہ دل میں موجود تھا اور ننگ و غیرت، ظلم و جبر کے خلاف لڑنا، مٹی سے وفاداری وراثت میں ملی تھی۔ وہ باغی طبیعت کے مالک تھے۔

بشارت شفیع کی زندگی کے کئی پہلو نمایاں ہیں، وہ بہ یک وقت شاعر، مقرِر ، سوشل ورکر، قوم پرست، قلمکار اور ادیب تھے، انہوں نے زندگی کے جس شعبے میں بھی قدم رکھا اپنا لوہا منوایا ، طالب علمی کے ابتدائی دنوں میں گلگت بلتستان کے عوام کے بنیادی، انسانی، سیاسی اور جمہوری حقوق کے لئے جدوجہد کو اپنا شعار بنایا جس کی پاداش میں کم عمری میں اسےطویل قید وبند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑی۔ جیل سے رہائی ملنے کے بعد بشارت شفیع نہ صرف یاسین سطح پر بلکہ پورے گلگت بلتستان میں نوجوان طالب علم قوم پرست رہنما کی حیثیت سے تمام ترقی پسند اور قوم پرست حلقوں میں متعارف ہونے لگے، دوارن قید جب راقم اور دیگر دوست ان سے ملنے جاتے تو اس کے عزم و حوصلے کی داد دیئے بنانہیں رہ سکتےتھے، ان کا حوصلہ ہمالیہ سے بھی اونچا تھا اور عزم جواں تھا اور کم عمری میں ہی دھرتی ماں کے لئے ان کی قربانی ہمیشہ یاد رکھی جائیگی بقول شاعر افتخار عارف:
مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض اتارے ہے کہ واجب بھی نہیں تھا

مزاحمتی سیاست

قید سے رہائی کے بعد بشارت شفیع گلگت بلتستان کے طلباء کی ایک منظم آواز بن چکے تھے چنانچہ انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے لئےکراچی کی طرف رخت سفر باندھا، شہرکراچی کی زمین شروع سے ہی علم و ادب اورسیاسی شعور کی آگہی کے حوالے سے زرخیز مانی جاتی ہے، اس شہر نے پاکستان کے دیگر علاقوں کی طرح گلگت بلتستان کو بھی عظیم قوم پرست، وطن پرست اور ترقی پسند قیادت فراہم کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے ، بشارت شفیع بھی ان میں سے ایک تھا، انہوں نے کراچی میں باقاعدہ طلبہ سیاست کا آغاز اس وقت کی سب سے بڑی طلبہ تنظیم بالاورستان نیشنل سٹوڈنٹس ارگنائزیشن (بی این ایس او) کے پلیٹ فارم سے کیا اور یکے بعد دیگرے زونل اور مرکزی عہدوں پر فائز رہے اور اپنی تمام تر صلاحیتوں کو قومی جدوجہد میں صرف کردیا، اس دوران انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے کریمنالوجی (Criminalogy) میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی، تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے طلبہ سیاست کو خیرباد کہتے ہوئے قومی تنظیم بالاورستان نیشنل فرنٹ (بی این ایف) میں شامل ہوئے اور مرکزی ترجمان کی حیثیت سے عملاً قومی جدوجہد میں شریک ہوئے لیکن بدقسمتی سے مقامی قیادت سے تنظیمی اختلافات کی بنیاد پر عملی جدوجہد سے کنارہ کشی اختیار کی اور غم ِ روزگار کی تلاش میں سرگرداں رہے ، انہوں نے زندگی کے مختلف شعبوں کو ذریعہِ معاش بنایا لیکن جلد ہی سکالر شپ ملنے پر جیمس گرینڈ سکول آف پبلک ہیلتھ ڈھاکہ سے پبلک ہیلتھ میں ماسڑز کی ڈگری حاصل کی اور وطن واپس لوٹنے کے بعد روزگار کے ساتھ ساتھ سارا توجہ بروشاسکی شاعری اور ادب کی تعمیر و ترویج اور تحفظ پر مرکوز کر دیا اور گلگت بلتستان کے عوام بالخصوص اور بالعموم بروشاسکی زبان سمجھنے والوں کے دلوں میں اپنا مقام بنانے میں کامیاب ہوگئے۔

شعلہ بیاں مقرِر

زمانہِ طالب علمی سے ہی ہم نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی وجہ سے خود اعتمادی میں اضافہ ہوتا رہا اور طلبہ تنظیم میں شمولیت کے بعد اپنی صلاحیتوں کو منوانے کا موقع ملتا رہا، اکثر و بیشتر کراچی میں مقیم قوم پرست و ترقی پسند سوچ کے حامل گلگت بلتستان کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ علمی ، فکری اور شعوری نشستوں میں براجماں ہوتے اور ان سے سیکھنے کی کوششوں میں مگن رہتے تھے، گلگت بلتستان کے حوالے سے کراچی میں منعقدہ کوئی ایسا پروگرام نہ تھا جہاں نہ جاتے ہوں اور ابتدائی دنوں میں تنظیم کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینارز اور پروگرامات میں نظامت کے فرائض سر انجام دیتے رہتے تھے تا اہم بعد میں بڑے سیاسی سماجی اور ثقافتی تقاریب میں بحیثیتِ مہمان مقرِر مدعو ہونے لگے اور اپنے ولولہ انگیز ، جذبات بھری اور فکرانگیز تقاریر کی بدولت ہر محفل کی جان بن گئے، بحیثیت طالب علم راقم ان کی شعلہ بیانی کا معترف رہا ، وہ اپنی تقریر کا آغاز عظیم انقلابی شعراء کی انقلابی شاعری سے کرتے تھے ، الفاظ میں روانی، لہجے میں اتار چڑھاؤ ، تاریخی واقعات کا استعمال اور عنوان سے متعلق معلومات ان کے اندازِ بیاں کو اور بھی متاثر کن بناتا تھا، بحیثیتِ سیاسی ورکر انہوں نے اپنی آخری تقریر 2011میں بی این ایس او کے زیر اہتمام روالپنڈی میں منعقدہ پروگرام میں کی تھی جس کے بعد عملی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرکے بروشاسکی ادب کی طرف مائل ہوگئے۔

اردو شاعری

علامہ اقبال کے شعر کے اس مصرعے ”شمشیر و سناں اول ،طاؤس و رباب آخر“ کے مصداق یاسین کی سر زمین بروشاسکی اور اردو ادب کے حوالے سے زیادہ زرخیز نہیں اس کی ایک وجہ شاید یہ ہے کہ ہمارے اباواجداد نے شاعری، ادب اور محفلوں کے بجائے تیغ زنی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا اور جس کے گھر میں کتابوں کے بجائے تلوار رکھے جاتے ہوں وہاں ادب کہاں سے تخلیق ہوگی لیکن نوجوان نسل نے اپنے اجداد کی بہادری کی روایات کوزندہ رکھنےکے ساتھ ساتھ لکھنے پڑھنے کو بھی اپنا شعار بنایا اور ادب کی ترویج کے لئے بھی خاصاکام کیا۔ بشارت شفیع کا شمار بھی ان نوجوانوں میں ہوتا تھا جو ادبی محفلوں، شاعری لکھنے، پڑھنے، فکری نشستوں میں بیٹھنے، غور وفکر اور شعراء و ادباء کے ساتھ مل بیٹھنے

کا موقع تلاش کرتے رہتے ہیں اور ان سے متاثر ہوکر اپنی سی کوشش کر کے بے شک ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں بھی ہو اپنے جذبات کا بھرپور اظہار کرتے ہیں، بشارت شفیع کو ابتدائی دنوں میں اردو شاعری سے شغف تھا اور اپنے جذبات کے اظہار کے لئے وہ عموماً اردو شاعری کا سہارا لیتے تھے، وہ یاسین کے پہلے شاعر تھے جو گلگت بلتستان کی مشہور اردو ادبی تنظیم ” حلقہ اربابِ ذوق“ کےزیر اہتمام گلگت میں منعقد ہونے والے ماہوار طرحی اور غیر طرحی مشاعروں میں یاسین کی نمائندگی کرتے تھے اور گلگت بلتستان کے عظیم شعراء و قلمکار جمشید دکھی، عبدلخالق تاج، امین ضیاء، حفیظ شاکر، احمد سلیم سلیمی، عبدالکریم کریمی، غلام عباس نسیم، اشتیاق احمد یاد اور دیگر سے داد وصول کرتےتھے، اس موقعے پر غذ ر کا پہلا شاعر عبدالکریم کریمی ، دوسرا بشارت شفیع اور تیسرا شاعر راقم تھا۔ ہم نے کئی مرتبہ حلقہ اربابِ ذوق کی محفلوں میں غذر کی نمائندگی کی لیکن بعد میں راقم حصولِ علم کے سلسلےمیں اسلام آباد چلے گئے جبکہ بشارت شفیع حصولِ روزگار کی تلاش میں کراچی چلے گئے اور علم و ادب اور سیکھنے کا یہ سلسلہ بدقسمتی سے چھوٹ گیا۔

اہلِ زبان نہ ہونے کے باوجود بھی بشارت شفیع کی اردو شاعری نہایت عمدہ ہے، آسان الفاظ میں اپنی بات آگے پہنچانے کا ہنر خوب جانتے تھے، ابتدائی دور کی شاعری میں عشق و محبت اور بے وفائی کے پہلو نمایاں نظر آتے ہیں جیسا کہ لکھتے ہیں۔

مسکرا کر پیش وہ جب غیر کو پانی کریں
اشک یوں برسے بنا ساون کے ظغیانی کریں
آ رہا ہےوہ میری چاہت و وفا کو جانچنے.
عید سر پہ آچکی ہے خود کو قربانی کریں

عشق، محبت ، پیار ہر ذی شعور کی زندگی کی بنیادی حقیقت ہے اور دنیا کی ہر خوبصورت چیز جو دلوں کو، آنکھوں کو بھائے اس سے محبت لازم ہے اور تو اور، اللہ تعالیٰ نے انسان کو محبت کرنے کے لئے پیدا کیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ لفظ ”انسان“ کی ابتداء ” انس“ سے ہوتا ہے ۔ بشارت شفیع بھی عشق کے ذائقے سے لطف اندوز ہوئے اور لکھا۔

نثار یار کی دہلیز پہ جوانی ہے
عجیب عشق کی انساں پہ حکمرانی ہے

اسی غزل کے اگلے شعر میں لکھتے ہیں

تمہاری آنکھ سے سورج نکل کے ڈھلتا ہے
یہ میری صبح، میری شام سب تمہاری ہے

وہ اپنی زندگی میں دنیا کی خوبصورتی چاہے وہ جس صورت میں بھی کیوں نہ ہو، متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے، لکھتے ہیں :
پری ہے، حور ہے، دنیا کی ہر بشر سے الگ
جمالِ یار کا نقشہ تو آسمانی ہے

بشارت شفیع کی اردو اور بروشاسکی شاعری میں رنج وغم اور دکھ درد کا عنصر نمایاں ہے جس کی وجہ معاشی اور معاشرتی مشکلات کے ساتھ ساتھ عشق میں ناکامی اور سماجی ناہمواریوں سے بھی ہیں انہوں نے اس کا اظہار اپنی اردو شاعری میں خوب کیا ہے، وہ لکھتے ہیں۔

پالیا ہے میں نےغم کو اور کچھ پایا نہ تھا
میں یہاں تک خود ہی آیا ہوں کوئی لایا نہ تھا

ہر کوئی حیراں پرشان دیکھ کر حالات میری ہم نے ایسے غم کھایا جیسے کچھ کھایا نہ تھا

درد کی شدت تو ایسی تھی کہ دیواریں گری
یہ تو اچھا تھا کہ کوئی میرا ہمسایہ نہ تھا

اسی غزل کے مقطع میں وہ تمام دکھ درد پریشانیوں اور مصائب کا مداوا اپنی ماں کو قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں۔

تھک کے ہارے اس جہاں میں ہر کنارے پر شفیع
میں نے اس پل ماں کو ڈھونڈا جب کوئی سایہ نہ تھا

مٹی سے محبت ان کی زندگی کی بنیادی پہلوؤں میں سے ایک ہیں جس کی وجہ سے ان کو قیدوبند جیسے مصائب بھی برداشت کرنے پڑے، گلگت بلتستان سے محبت، حقوق کی پامالی، ستر سالہ محرومیوں کا رونا رونا، وطن کی خوبصورتی کی تعریف، رسم و رواج اور زبان کے تحفظ اور عوامی اتحادو اتفاق کی تلقین کا پہلو ان کی شاعر ی میں نمایا ہے ، گلگت بلتستان کے حالات پہ رونا وہ اس نظم ” اس شہر کا وارث ہے کہاں کون ولی ہے“ روتے ہوئے لکھتے ہیں؛

یہ میری زمین کس طرف کس سمت چلی ہے
صد حیف کہ یہ کتنی مصائب میں ڈھلی ہے
اوروں سے شکایت ہے نہ غیروں سے گلہ ہے
یہ میری خطاؤں کے عوض روز جلی ہے
اب کوئی بھی محفوظ ،سلامت نہیں یارو

کیا میری زمیں غیر کے دامن میں پلی ہے دشمن میری دھرتی کا ہے اس بات پہ معمور دیکھا تجھے برباد کیا جب بھی پھلی ہے

اپنوں نے تجھے غیر کے دامن میں دھکیلا
وہ بھی تو قیامت ہے وہ کیسے ٹلی ہے

جس جس نے بھی چاہا تری تاریخ مسخ کی اس شہر کا وارث ہے کہاں کون ولی ہے

اردو ادب و شاعری سے شغف اور محبت کی وجہ سے وہ گلگت بلتستان کے شعراء اور ادیبوں کو گلگت بلتستان میں امن و محبت کے سفیروں سے تشبیع دیتے تھے اور ان کا دل سے احترام کرتےتھے، اکثر و بیشتر گفتگو کے دوران گلگت بلتستان کے عظیم شعراء کا ذکر ضرور چھیڑتے تھے۔

بشارت شفیع اردو ادب کے صاحبِ دیوان شاعر تو نہیں تھے البتہ جلد از جلد اردو شاعری کا مجموعہ شائع کروانا چاہتے تھے لیکن بعد میں اپنی مادری زبان بروشاسکی شاعری میں وہ اس قدر مگن رہے کہ باقاعدہ کسی تصنیف کی اشاعت کے لیے وقت نہیں نکال سکے، لیکن غذر کے اردو ادب و شاعری میں ان کا نام ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

بروشاسکی شاعری

2012 سے پہلے بشارت شفیع کی وجہِ شہرت ان کی بروشاسکی شاعری نہیں تھی بلکہ ان کے ولولہ انگیز تقاریر ، مزاحمتی سیاست اور قوم پرستی تھی لیکن اچانک جولائی 2012 میں ان کا پہلا بروشاسکی البم “ہیشنگ اکھیش” یاسین رائٹرز فورم اور یسینے معرکہ کے زیر اہتمام گلگت کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقدہ ایک پروقار تقریب میں ریلیز کیا گیا جس میں اس کے وقت کے ممبر اسمبلی محمد ایوب شاہ ، سابق ممبر اسمبلی غلام محمد سمیت یاسین و گلگت بلتستان کے چیدہ چیدہ لوگوں نے شرکت کی۔ یہ تقریب یاسین کی تقریخ میں اپنا ایک منفرد مقام اس لئے رکھتی ہے کہ یاسین کے بروشاسکی شاعری کو پہلی مرتبہ سنجیدگی سے سنا گیا اور یہ پہلا البم ہوگا جس کو باقاعدہ تقریب رونمائی کے ساتھ ریلیز کیا گیا اور علاقے کے سنجیدہ لوگوں نے پہلی دفعہ بروشاسکی شاعری کو سننے کے لئے وقت دیا اور سراہا گیا۔

بروشاسکی ادب و شاعری کی تاریخ میں بشارت شفیع کا پہلا البم” ہیشنگ اکھیش” نے یاسین کی بروشاسکی ادب و شاعری پر مثبت اثرات مرتب کئے جس کی بنیادی وجہ بشارت شفیع کی دل لبھانے والی شاعری، اس کے خیالات، اور اپنی شاعری میں خالصتاً بروشاسکی الفاظ کا استعمال ہے کیونکہ اس البم کی ریلیز سے پہلے یاسین میں عموماً یہ تاثر پایا جاتا تھا کہ بروشاسکی میں ایسے الفاظ ناپید ہیں جن کو شاعری میں قافیہ اور ردیف کے طور پر استعمال کیا جاسکے جس کی وجہ سے بروشاسکی شاعری میں کھوار اور اردو الفاظ وافر مقدار میں پڑھنح اور سننے کو ملتے تھے لیکن بشارت شفیع نے اپنے پہلے البم میں ہی اس ثاثر کو غلط ثابت کردیا اور خالصتاً بروشاسکی زبان کا استعمال اپنے شاعری میں خوبصورت انداز میں کیا جس کے بعد یاسین کے وہ تمام شعراء جن کی بروشاسکی شاعری اردو اور کھوار الفاظ پر مشتمل ہوتی تھی نے بھی غور کرنا شروع کردیا اور آہستہ آہستہ اپنی شاعری میں بروشاسکی کو ترجیح دی اور آج کے نوجوان شعراء اپنی شاعری میں دھنگ کر دینے والے بروشاسکی قافیے اور ردیف استعمال کرتے ہیں جس کا سہرا بشارت شفیع کو جاتا ہے۔

بشارت شفیع کے اس البم کے بعد نہ صرف ان کی شاعری کو داد ملی بلکہ یاسین کے نامدر گلوکار محبوب جان یاسینی بھی بروشاسکی گلوکاری کے افق پر چھاگئے اور ان کی سریلی آواز یاسین کے پہاڑوں میں گونجنے لگی جس میں اہم کردار بشارت شفیع کی شاعری کا بھی ہے۔

بشارت شفیع بروشاسکی زبان کے وہ شاعر ہے جس نے بہت کم وقت میں بروشاسکی شاعری کو کو۔زمین سے اٹھا کر افق کی بلندی تک پہنچادیا اور خود بھی بروشاسکی ادب کے آسمان پر جب تک زندہ رہے چھائے رہے اور چھائے رہیں گے اور اپنے ساتھ ساتھ بروشاسکی گلوکاروں کے لئے بھی لوگوں کے دلوں میں اپنی شاعری کے ذریعے وہ مقام دلایا جو کوئی بھی شاعر نہیں دلاسکا۔

بشارت شفیع نے کم عرصے میں خالص بروشاسکی پر مشتمل پانچ البمز اپنی زندگی میں ریلیز کروائے جو نہ صرف یسن بلکہ پورے گلگت بلتستان میں سپر ہٹ ہوئے جن میں “ہیشنگ اکھیش” ، “ہیشے تسقن” ، “بوشے مناہنگ”، “حضورہ حضورہ” اور “گورین اوسے”، شامل ہیں ان پانچ میں سے دو المبز محبوب جان یاسینی، دو وجاہت شاہ عالمی اور ایک البم مشتاق احمد کی آواز میں ریلیز ہوا۔ ان پانچوں المبز میں کم و بیش تیس بروشاسکی گانے شامل ہیں اور ان المبز نے یسن کی بروشاسکی ادب و شاعری کی ترویج، زبان کا تحفظ ، شاعر ی و گلوکاری کی طرف نوجوانوں کو راغب کرنے کے ساتھ ساتھ بروشو قوم کو اپنی زبان و ادب پر فخر کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی ترویج و تحفظ کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

گو کہ بروشاسکی شاعری، علم و ادب ، قومی حمیت و غیرت اور وطن پرستی کے جذبے سے شرشار اندھیروں میں روشنی پھیلانے والا یہ چمکتا ہوا ستارہ (غروب ہوچکاہے) لیکن ان کی شاعری، ادب دوستی، وطن پرستی اور انقلابی جدوجہد کے داستان رہتی دنیا تک گلگت بلتستان کے نوجوانوں کو متاثر کرتی رہے گی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here