وقاص احمد

“تم فوج کے خلاف کیوں ہو؟” وہ بولا۔

’’یہ غلط فہمی تمہارے دماغ میں کس نے ڈالی؟‘‘ میں نے حیرانگی سے الٹا سوال کیا۔

وہ بولا، ’’تمہاری تحریر پڑھنے کے بعد کسی غلط فہمی کا سوال ہی کہاں رہتا ہے۔ تعصب صاف دکھتا ہے‘‘۔

میں نے پوچھا، ’’کیا کرپٹ، غیر آئینی اور ماورائے قانون حرکتوں پر تنقید تعصب کہلاتا ہے؟‘‘

وہ بولا، ’’تو تم قوم کے لیے جان دینے والے عزیز بھٹی، کیپٹن شیر خان اور حوالدار لالک جان جیسے کڑیل جوانوں کے خون کی توہین کو تنقید کا نام دیتے ہو؟‘‘

میں نے کہا، ’’نہیں بھائی میں رائل پام سے لیکر، EOBI, NLC، اوجڑی کیمپ، کولیشن سپورٹ فنڈ، بلوچستان افغانستان میں سمگلنگ کے کاروبار جیسی کرپشن اور خاکی کاروبار کے جواز اور اس کے دائرہ اختیار پر اعتراض کو تنقید کہتا ہوں۔ میں اس ادارے کے غیر آئینی اقدامات پر اعتراض کو تنقید کہتا ہوں۔ میں سیاسی نظام میں اس ادارے کی بلواسطہ یا بلاواسطہ مداخلت پر اعتراض کو تنقید کہتا ہوں۔‘‘

وہ تنک کر بولا، ’’ایسی تنقید سے ادارے کا مورال ڈاؤن ہوتا ہے، جوان سمجھتے ہیں کہ ان کا خون رائیگاں گیا۔‘‘

میں نے اس ماورائے عقل دلیل پر خون کا گھونٹ پیا اور پوچھا “تو آپ چاہتے ہیں کہ اگر سیاستدانوں کی بات ہو تو چند کرپٹ سیاستدانوں کو سیاست اور جمہوریت کا چہرہ سمجھا جائے اور جب فوج کی بات ہو تو چند شہدا کو فوج کا چہرہ سمجھا جائے؟”
وہ بولا “آپ کی بات درست ہے مگر۔۔۔۔”

میں نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا “بھائی، ہر ادارے کی عزت ہوتی ہے اور سب سے زیادہ عزت پارلیمنٹ کی ہوتی ہے کیونکہ وہ تمام اداروں کی ماں ہے۔ اس کی توہین سب کی توہین ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ تنقید ہو تو ایک اصول پر سب پر تنقید ہونی چاہیے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ کسی کو تنقید سے استثناء ملے تو ایک اصول پر سب کو استثناء ملنا چاہیے۔ یہی وہ بقائے باہمی کا اصول ہے جس پر کوئی معاشرہ زندہ رہ سکتا ہے ورنہ لکھ لیجیۓ اگلے چند عشروں میں اس منافقت کی وجہ سے ہمارا معاشرہ اجتماعی خودکشی کرلے گا جس میں کسی دشمن کا کوئی ہاتھ نہیں ہوگا۔”

ایک منصف کا سچا واقعہ

ان صاحب کا تعلق پنجاب سے ہے ان کی زمین کا مقدمہ 1959 میں شروع ہوا جب ان کے والد صاحب نے اپنے برادر نسبتی سے ملکر گورنمنٹ سے ایک زمین قسطوں پر الاٹ کروائی۔ دونوں قسطیں باقاعدگی سے ادا کرتے رہے۔ جب قسطیں مکمل ہوئیں اور نام منتقلی کا مرحلہ آیا تو گاؤں کے ایک مخالف نے ریونیو بورڈ میں قیام پاکستان سے پہلے کے ایک قانون کے مطابق عذرداری ڈال دی۔ مقدمہ شروع ہو گیا۔ پیشیوں پر پیشیاں پڑتی رہیں۔ اس دوران ان کے والد صاحب کا انتقال ہوگیا، پھر ان برادر نسبتی کا بھی انتقال ہوگیا اور مقدمے کو وہ صاحب اکیلے بھگتے رہے۔ ایک فورم پر مقدمہ جیتا، مخالف نے اپیل دائر کر دی، دوسرے فورم پر پھر مقدمہ جیتا مخالف نے ہائیکورٹ میں اپیل دائر کر دی۔ 2004 میں ہائیکورٹ میں مقدمے کے فیصلے کے دن آئے۔ وکیل نے کہا کہ آپ کا کیس انتہائی مضبوط مگر جج صاحب اجکل دونوں ہاتھوں لوٹ رہے ہیں۔ مجھ تک دو لاکھ روپے کی فرمائش آئی ہے اگر وہ پوری ناں کی تو مقدمے کا فیصلہ الٹ بھی سکتا ہے۔ ان صاحب نے اپنے نوجوان بیٹے سے مشورہ کیا تو وہ بولا کہ ہم حق پر ہیں اور ہمیں کسی کو پیسے دینے کی ضرورت نہیں تو جواب میں باپ نے کہا کہ “میری پوری جوانی اس مقدمے کو بھگتے گزری ہے، میں نہیں چاہتا کہ تم بھی یہ پیشیاں بھگتو”۔

قصہ مختصر، فرمائش پوری کر دی گئی۔

اس سچے واقعے میں کچھ نیا اور انوکھا نہیں۔ یہ ہمارے نظام عدل کا بھیانک چہرہ ہے۔ اس واقعے میں سب سے ڈرامائی چیز وہ جج ہے جو اپنی شرمناک زندگی ابھی جی رہا ہے، حاضر سروس ہے اور اس کا نام بوجوہ اندیشہء فساد خلق بتایا نہیں جاسکتا۔

پاکستان میں سب اچھا ہے

دھرنا تو عمران نے “الیکشن دھاندلی” کی ہی بیخ کنی کے لیے دیا، دوسرا دھرنا کرپشن کے ہی خلاف تھا، ڈان لیکس میں تو صرف سرکاری راز افشاء ہونے کا رولا تھا۔ پانامہ کیس تو کرپشن کے خلاف جہاد ہے۔ ختم نبوت والی شق کا ہنگامہ اور منسلکہ دھرنے تو اسلام ہی کی سربلندی کے لیے تھے۔ جوڈیشل ایکٹوازم تو اچانک ججوں کی ضمیر بیدار ہونے کی وجہ سے ہے۔ بلوچستان اسمبلی کی اکھاڑ پچھاڑ تو بلوچوں کے احساس محرومی کے باعث ہوئی۔ سینیٹ کے انتخابات کے غیر یقینی نتائج تو بیک وقت کچھ ممبران کے ضمیر جاگنے اور کچھ کے ضمیر بیچنے کے باعث مرتب ہوئے۔ ایک ہی صوبہ میں ایک ہی سیاسی پارٹی کے اراکین اور اس صوبہ کی بیوروکریسی کے خلاف عدالتی جہاد تو صرف اسی وجہ سے ہے کہ باقی صوبے کرپشن سے پاک ہیں۔

عمران، زرداری، شرجیل، ایان علی اور عاصم کے مقدمات تو بے گناہ ہونے کی وجہ سے ہی ختم کیے گئے۔ جہادی تنظیموں کی سیاست کی انٹری تو صرف ان کو مین سٹریم میں لانے کی کوشش ہے۔ این اے 125 میں اٹھوائے گئے ایک سیاسی پارٹی کے کارکنان تو سیر کرنے مری گئے ہوئے تھے۔ پانامہ مقدمے کی پھرتیاں تو بنیادی طور پر پاکستانی تاریخ کی سب سے بڑی کرپشن کی داستان کو منطقی انجام تک پہنچانے کی کوشش ہے۔ جج کی کرسی پر بیٹھے لوگوں کے منہ سے سیاسی نعرہ بازی کسی کے خلاف تو نہیں۔ چیف جسٹس کی شیخ رشید کی انتخابی مہم میں شمولیت ایک اتفاقی واقعہ ہے۔ محکمہ زراعت کے افسران کا پورے پاکستان میں ایک سیاسی پارٹی کے امیدواران کے ساتھ “پر تشدد ملاقاتیں” تو صرف ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں ہے۔ صحافیوں، سماجی کارکنان اور سوشل میڈیا ایکٹیویٹیس کو دھمکیاں اور مار کٹائی تو سی آئی اے اور را کروا رہی ہے۔ جیپ تو “آذاد” امیدواروں کا نشان ہے اسے “غلام” امیدواروں کا نشان نا سمجھا جائے۔ چکری کے چوہدری کو آنے والے چکر ضمیر کی خلش کی بنیاد پر ہیں۔ پی ٹی آئی کے ٹکٹ واقعی پی ٹی آئی کی لیڈر شپ ہی بانٹ رہی ہے۔ غرض

پاکستان میں سب اچھا ہے۔ ۔ ۔ ۔سب کچھ اچھا ہے۔