شہزاد حسین

ایمنسٹی انٹرنیشنل جرمنی چیپٹر کے ایک اعلیٰ عہدیدار سے غیر رسمی گفتگو میں معلوم ہوا کہ میرے خلاف کسی بلوچ شناخت کے عناصر کی جانب سے شکایت موصول ہوئی ہے جس میں میرے حال ہی میں لکھے ایک بلاگ کا ذکر کیا گیا۔ ان صاحب نے مجھ سے سوال کیا کہ یہ لکھنے کی کیا ضرورت تھی کہ ایمنسٹی آپکو فنڈ کرتی ہے، حالانکہ میں نے کہیں یہ بات کی ہی نہیں، میں نے تو صرف یہ لکھا کہ میں فلاں ادارے کے ساتھ منسلک ہوں۔

ان صاحب نے مجھ سے میری سابقہ سیاسی پارٹی اور اس کی سرگرمیوں کے حوالے سے پوچھا تو میرا شک یقین میں تبدیل ہورہا تھا کہ یا تو یہ پاکستانی ایمبیسی برلن کی شکایت ہے یا وہ لوگ جن کے ساتھ میں نے کچھ عرصہ کام کرنے کی ناکام کوشش کی، دونوں صورتوں میں بات کو ان صاحب کی گفتگو سے آگے بڑھاتا ہوں۔

مجھ سے شک کی بنیاد پر پوچھا گیا کہ میں نے بلوچستان ریپبلک پارٹی کب جوائن کی تھی،  کب چھوڑی اور کس بنیاد پر چھوڑی۔ یہاں میں ایک بات کلئیر کرتا چلوں کہ میں اکتوبر 2015 میں جرمنی پہنچا تھا۔ میں نے جون 2014 کو پاکستان کو خیر باد کہا اور استنبول، یونان سے ہوتا ہوا یہاں آکر بس گیا۔ یہاں آکر مجھے بہت سی چیزیں نئی دیکھنے کو ملیں۔ ان دنوں جب میں یہاں پہنچا پاکستان میں مسنگ پرسنز کا بہت شور مچا ہوا تھا اور عالمی طور پر اس مسئلے کو اٹھانے کے لیے ہر ملک میں بلوچ شہری بہت سرگرم نظر آتے تھے۔ میں چونکہ سیاسی بنیادوں پر شروع سے ہی متحرک تھا تو مجھے ان باتوں میں کچھ زیادہ دلچسپی محسوس ہوتی۔ جرمنی میں بلوچ متحرک لوگوں میں بلوچ ریپبلیکن پارٹی، بلوچ نیشنل موومنٹ اور فری بلوچستان موومنٹ کے لوگ سرگرم نظر آئے۔ ان میں سے پہلی دو، بی آر پی اور بی این ایم کچھ زیادہ نمایاں تھیں۔ ان سیاسی تنظیموں کا یہاں متعلقہ لوگوں سے رابطے کا انداز بہت دلچسپ ہے۔ مجھ سے انہوں نے فیس بُک کے ذریعے سے رابطہ کیا۔ ظاہر ہے میری پروفائل پہلے مکمل طور پر اسٹاک کی گئی ہوگی۔ اس بات کو یقینی بنایا ہوگا کہ میں ان کے مقاصد کو آگے بڑھانے میں کس قدر کارآمد ثابت ہوسکتا ہوں۔ میں انسانی حقوق کے لیے اپنے فیس بُک اور ٹویٹر پر آواز اٹھاتا رہتا ہوں۔ خیر مجھ سے فیس بُک کے ذریعے سے رابطے میں لایا گیا اور بلوچستان کے حقوق کے موضوع پر ایک ملاقات طے ہوئی۔ جرمنی میں آئے پشتون اور بلوچ نوجوانوں کو پھنسانے کا یہ بڑا دلچسپ طریقہ کار ہے۔ خیر ملاقات ہوئی اور میں نے اس بنیاد پر کہ میری قوم کے حقوق کی آواز میں میری آواز مل جائے گی، بلوچستان ریپبلیکن پارٹی جوائن کرلی۔

وقت گزرتا گیا اور میری پارٹی کے لیے سرگرمیاں بھی جاری رہیں جن میں مجھے شروع شروع میں اس بات کا بالکل انکشاف نہیں ہوا کہ یہ لوگ پاکستان میں بلوچستان کی آزادی کے حق میں بات کرتے ہیں اور جو اس کے ذرا بھی خلاف بات کرے اس کو خود سے الگ کرلیتے ہیں۔ اس کا اندازہ مجھے تب ہونا شروع ہوا جب ایک دن میں نے بلوچستان میں ہوئے بم دھماکوں پر حکومت پاکستان اور میڈیا کی خاموشی پر ویڈیو ریکارڈ کی اور سوشل میڈیا کی نظر کردی۔ ویڈیو کا متن یہ تھا کہ حکومت اور میڈیا کو دوسرے صوبوں میں ہوتے واقعات نظر آتے ہیں مگر بلوچستان پر خاموشی کیوں تن جاتی ہے؟ اس ویڈیو کا ردعمل مجھے پارٹی کے سینیئر عہدیدار کی جانب سے آیا اور کہا گیا کہ ویڈیو مناسب نہیں لہٰذا فوراً ہٹائی جائے۔ مجھے کوئی ایسا نکتہ خلاف اصول نہیں لگا لہٰذا میں نے وہ ویڈیو بہت منع کرنے باوجود بھی نہیں ہٹائی۔ دوسری بات یہ کہ وہ میرا پروفائل ہے جس پر میں اپنی رائے کا اظہار کر رہا ہوں۔ پارٹی کے سوشل میڈیا پیج پر کرتا تو ان کی بات مانی جاسکتی تھی۔ لہٰذا کچھ تلخیاں ہوئیں اور بات آگے بڑھ گئی۔

ایک دن یہ خبر موصول ہوئی کہ بلوچستان میں پندرہ کے قریب پنجابی مزدوروں کو قتل کردیا گیا ہے۔ یہ خبر میرے لیئے، بطور انسانی حقوق کے علمبردار کے نہایت افسوسناک خبر تھی۔ میں نے اس پر بھی ویڈیو بنائی جو کہ بی ایل اے کے خلاف جاتی تھی، سو گئی۔ مجھے پارٹی کی جانب سے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دن مجھے یقین ہوگیا اور میں سمجھ گیا کہ دراصل کہ کھیل ہے کیا اور کون اس کو چل رہا ہے۔ براہمداغ بُگٹی کے بھی کارنامے مجھے جرمنی جاکر ہی پتہ چلے, حیرت انگیز بات یہ کہ اس نام کے کسی آدمی کو لیاری کا بلوچ جانتا تک نہیں ہے اور جن کے حقوق کی یہ بات یہاں عالمی رنگ دے رہے ہیں ان سے ہاتھ جوڑ کر یہ گزارش ہے کہ یہ لوگ آپ کے حقوق کی بات نہیں کررہے بلکہ یہ آپکے خون کا سودا کررہے ہیں جس کو یہ پاکستان میں آزادی کی تحریک کا نام دیتے ہیں۔ حقوق سے آزادی کی جنگ کا یہ معمہ بہت آسان ہے اگر بلوچ قوم اپنے مفاد میں سوچنا شروع کردے تو۔

میرے لیے اتنا کافی نہیں تھا بلکہ پارٹی میں رہتے ہوئے مزید چیزوں کو جاننے کی طلب مزید تھی۔ پارٹی میں کوئی بھی شخص خود سے کچھ نہیں کہہ سکتا تھا یہ ایک اصول تھا جس کے سب پابند تھے۔ ایک پرچی پر جو لکھا ہوا آتا جس کو آگے پیش کردینا ہوتا تھا۔ مجھے بھی ایک دن ایک تقریر موصول ہوئی جو کہ مسنگ پرسنز کے حوالے سے تھی۔ مجھے ایک ویڈیو ریکارڈ کرنی تھی جس میں پرچی پر لکھے بلوچوں کے نام لینے تھے۔ غور کرنے پر معلوم ہوا کہ ناموں کے علاوہ ان اشخاص کی مزید کوئی شناخت درج نہیں تھی۔ میں نے مطالبہ رکھا کہ ان سب کے شناختی کارڈ نمبر اور ان کے گھر کے افراد کی کچھ تفصیلات دی جائیں تاکہ معاملے کی تصدیق ہوجائے۔ اس بات کے بعد پارٹی میں میرے خلاف ایک ہنگامہ برپا کردیا گیا اور اپنے حلقوں میں یہ بات مشہور کردی کہ میں پاکستانی سیکیورٹی ایجنسی آئی ایس آئی کا ایجنٹ ہوں اور یہاں ان کے لیے کام کررہا ہوں۔ یہ بات حقیقت سے بہت دور تھی ہاں مگر میں اب اپنے سکیورٹی اداروں سے مطالبہ ضرور کرتا ہوں کہ مجھے اور پاکستان میں میرے خاندان کو ان لوگوں کے شر سے بچالیا جائے۔ مجھ پر انہوں نے یہ الزام بھی گھڑا جس کو پاکستان میں بہت اچھالا گیا کہ میں نے پاکستان کا جھنڈا جلایا ہے۔ میں ایسا کس کی ایما پر کرتا؟ ان کی جن کے خلاف میں یہ کالم لکھ رہا ہوں؟ نہایت ہی فضول بات ہے یہ۔ میں آج ان کی انگلیوں پر ناچ رہا ہوتا تو مجھے یہ گزارشات نا کرنی پڑتیں۔ مگر چونکہ اب معاملہ سچ کا ہے تو سچ اس دنیا کی سب سے ناپسندیدہ چیز کا نام ہے۔ یہ لوگ پاکستان میں دہشتگردی میں سو فیصد ملوث ہیں۔ ان کو فنڈگ کون کرتا ہے, کیا یہ بھی بتانا پڑے گا؟

میرے اس جواب سے شکایت کرنے والوں کو تسلی ضرور ہوگی.چاہے وہ پاکستان ایمبیسی کے عملے کی جانب سے کی گئی یا جرمنی میں کام کرنے والے بلوچ کے خون کے سوداگروں کی جانب سے۔

(یہ کالم پاکستان 24 میں شائع ہو چکا ہے اور مصنف کی درخواست پر اسے متبادل پر شائع کیا گیا)