عاطف توقیر

گزشتہ روز ہارون بلور انتخابی مہم کے لیے منعقدہ ایک جلسے میں شرکت کے دوران خودکش بمبار کی کارروائی کا نشانہ بنے۔ پشاور میں اس واقعے کے نتیجے میں بیس دیگر افراد بھی لقمہء اجل بن گئے۔

اس سے ٹھیک پانچ برس قبل ہارون کے والد بشیر بلور اسی انداز کے ایک بے رحمانہ اور بزدلانہ حملے کا نشانہ بنے تھے۔ تب اور اب میں بہت سی چیزیں مشترک ہیں اور ان میں سے سب سے اہم یہ ہے کہ ہم نے اس واقعے کی تعزیت کی تھی اور یہ واقعہ بھی تعزیت کی نذر ہو جائے گا۔

میں نہایت بھاری دل سے یہ بات یہاں تحریر کر رہا ہوں کہ حالیہ کچھ عرصے میں پشتون رہنماؤں خصوصاﹰ اے این پی کی جانب سے پشتون تحفظ موومنٹ جیسی غیرسیاسی تحریک سے متعلق جس انداز کا سخت رویہ اپنایا گیا اور جس زور دار طریقے سے سرکاری سرپرستی والے بیانیے کے ذریعے اس تحریک کو دبانے کی کوشش کی گئی، اس کی مثال شاید ملنا مشکل ہو۔

کچھ روز قبل سوشل میڈیا پر مجھے شاہی سید صاحب کا ایک ویڈیو کلپ دیکھنے کو ملا، جس میں وہ پشتون تحفظ موومنٹ اور منظور پشتین کو سفاک الفاظ میں برا بھلا کہتے ہوئے انہیں غدار اور غیرملکی ایجنٹ قرار دے رہے تھے۔

اے این پی ایک عرصہ قبل پشتون قوم کی ایک مضبوط آواز ہوا کرتی تھی۔ پاکستان بننے سے بھی پہلے خان عبدالغفار خان کے دور میں پرامن انداز سے حقوق اور آزادی کی جدوجہد کا آغاز ہوا اور اس کے بعد آگے چل کر اے این پی کے باقاعدہ شکل میں سامنے آنے اور پشتونوں کے بنیادی مسائل کو اجاگر کرنے میں اس جماعت نے اہم کردار ادا کیا۔ مگر جس طرح پاکستان میں دیگر سیاسی جماعتوں کی تاریخ اور پھر وقت کے ساتھ ساتھ ان کی توجہ، ارتکاز اور عوام سے ربط کی کم زور نے ان پارٹیوں کے مرکزے کو متاثر کیا، اے این پی کی روایت بھی اس سے مختلف نہیں۔

سب سے پہلے تو اس پارٹی کو یہ سوچنا چاہیے کہ گزشتہ تیس برسوں میں یہ جماعت پشتونوں کے حقوق کے لیے کس طرح رفتہ رفتہ اپنی افادیت کھوتی چلی گئی ہے۔ کس طرح پاکستان کے ایک خطے کے باسیوں کی ایک مضبوط آواز سے نیچے آتی آتی، یہ جماعت سکڑ کر جیسے کوئی معمولی جماعت میں تبدیل ہو گئی۔

اس جماعت کے سامنے خیبرپختونخوا (تب پاکستان کا شمال مغربی سرحدی صوبہ) دہشت گردی اور شدت پسندی اور عسکریت پسندی کے عفریت کی نذر ہوا اور اس جماعت کی جانب سے اس پورے بیانیے کا جواب عوام کے اندر جا کر عوام سے جڑ کر نکالنے کی بجائے فقط بیانات تک محدود ہوتا چلا گیا۔

ایسے میں پشتونوں کی قریب دو نسلیں علمی، فکری، ثقافتی، جسمانی طور پر تباہ ہوئیں مگر یہ جماعت جو تاریخ کے درست صفحے پر کھڑی نظر آتی تھی، مسلسل غلط راستوں پر آگے بڑھتی چلی گئی۔

اس جماعت کا سیکولر، نیشلنسٹ اور ترقی پسند چہرہ رفتہ رفتہ گہناتا چلا گیا اور ایسے میں خطے کے پشتون آمرانہ قوتوں کے جیسے رحم و کرم پر چھوڑ دیے گئے۔

پشتون تحفظ موومنٹ کی شکل میں عام پشتونوں کی امن، سکون، ترقی اور انصاف کے لیے اٹھنے والی تحریک دراصل خود ایک واضح استعارہ ہے کہ خیبرپختونخوا اور فاٹا سمیت تمام ملک میں بسنے والے پشتونوں کے مفادات اور حقوق کے تحفظ میں سیاسی جماعتیں خصوصاﹰ اے این پی اپنا کام درست انداز سے نہیں کر پائی ہیں۔

اسی صورت حال میں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اے این پی کی قیادت سر جوڑ کر بیٹھتی، پشتون تحفظ تحریک کے رہنماؤں کے ساتھ ملتی، ان کے گلے شکوے اور تحفظات سنتی اور ان کی آواز بننے کی کوشش کرتی، مگر بدقسمتی سے اے این پی کی جانب سے ان پشتون نوجوانوں سے متعلق وہی رویہ اپنایا گیا، جو کئی دہائیاں قبل دیگر جماعتوں اور ریاستی اداروں کی جانب سے خود اے این پی کے لیے اپنایا گیا تھا۔ توقع یہ کی جانا چاہیے تھی کہ اے این پی ان ہتھکنڈوں کو اچھی طرح سے پہچانتی ہو گی اور ایسے میں وہ خود کو تاریخ کے درست صفحے پر رکھے گی، مگر بدقسمتی سے جنوری سے لے کر اب تک اے این پی پشتون تحفظ موومنٹ سے وابستہ پشتونوں کے قتل، جبری گم شدگیوں، دھمکیوں اور ریاستی جبر کے سامنے کھڑے ہو کر اسے روکنے کی بجائے، یا تو خاموش رہی یا اس تحریک کے خلاف رہی۔

سائبیریا میں جب شدید سردی پڑتی ہے اور وہاں موجود تمام جانور ہجرت کر جاتے ہیں، تو اس برف پوش علاقے میں صرف بھیڑیے باقی بچتے ہیں، جو سارا سارا دن، بلکہ کئی کئی دن شکار کے لیے برف زاروں میں بھٹکتے پھرتے ہیں، تھک ہر کر اور ناامید ہو کر ایک دائرہ بنا کر بیٹھ جاتے ہیں اور ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر چوکنا رہتے ہیں۔ ایسے میں تھکن یا بھوک کے مارے کسی کی آنکھ جھپک جائے، تو وہاں موجود تمام بھیڑیے اچانک اس پر حملہ کر کے اسے چیر پھاڑ دیتے ہیں اور اس طرح کم زور کو قتل کر کے وہ اپنی بھوک مٹا لیتے ہیں۔ یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہتا ہے، جب تک موسم تبدیل نہ ہو جائے اور سائبیریا پھر سے ہرا بھرا اور جانوروں سے بھرپور نہ ہو جائے۔

ہمارا معاشرہ سائبیریا کے اس برف پوش اور سفاک خطے سے زیادہ مختلف نہیں۔ پچھلی کئی دہائیوں کی نہ ختم ہونے والی تباہی، تعلیمی نظام کی بربادی، صحت عامہ کی گراوٹ اور بنیادی انسانی حقوق سے متعلق مسائل کی بنا پر جیسے پوری قوم تھک چکی ہے۔ سیاسی جماعتوں کی سیاست نظریات سے دور ہو چکی اور اب ان کی سیاست کا محور مقبول بیانیوں کے ذریعے فقط ووٹوں کے حصول تک محدود ہو کر رہ گیا ہے اور اس بیچ میں اگر کوئی کم زور، غریب، نہتا اور پرامن فرد یا تحریک دستوری اور قانونی حقوق کے لیے منظرعام پر آئے، سیاسی میدان کے تمام بھیڑے اس تحریک کا ساتھ دینے کی بجائے پل میں اسے پھاڑ کھاتے ہیں اور ایسے لمحوں میں ان کی تمام تر توانائی دہائیوں سے چلنے والی تباہ کن پالیسیوں کے خلاف استعمال ہونے کی بجائے، خود ان پالیسیوں کے تحفظ میں صرف ہوتی ہیں۔

بشیر بلور کے قتل اور سابقہ انتخابات میں طالبان کے پے درپے حملوں اور دھمکیوں کے تناظر میں اے این پی کو سبق سیکھنا چاہیے تھا۔ اسے مضبوطی کے ساتھ پشتون عوام کے اندر پرامن انداز سے حقوق کا شعور اور سیاسی آگہی پھیلانے کی کوشش کرنا چاہیے تھی، تاہم اے این پی ایسے موقع پر چند جلسوں اور چند جذباتی تقریروں سے آگے کچھ نہ کر سکی۔ حالیہ کچھ عرصے میں اے این پی کے بعض رہنماؤں کی جانب سے جس انداز سے منظور پشتین اور پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنماؤں کے خلاف جس قوت سے بیان بازی کی گئی ہے، اس سے نصف قوت اگر پشتونوں کے حقوق غصب کرنے والوں، پشتون خطے کو تباہ کرنے والوں، زمین کو خون سے سرخ اور فضا کو باردو زدہ کرنے والوں کے خلاف استعمال ہوتی، تو شاید اس وقت مجھے یہ مضمون نہ لکھنا پڑتا اور ممکن ہے اس وقت پشتون تحفظ موومنٹ موجود ہی نہ ہوتی۔

بشیر بلور کے بعد ہارون بلور بھی قتل ہو گئے، تاریخ نے ایک بار پھر پیغام دے دیا کہ زمین پر بوئی جانے والی باردو کی فصلوں نے ابھی آگ اگلنا بند نہیں کی اور یہ فصلیں ابھی جانے اور کتنے گھرانوں بلکہ مزید کتنی نسلوں کو تباہ کریں گی، ہم نہیں جانتے، وجہ یہ ہے کہ ہم نے اس تمام تر تباہی کے باوجود اپنے دیس کی جہت تبدیل کر کے اس دوبارہ امن اور ترقی کی جانب موڑنے کا نہیں سوچا۔
یہ بدقسمتی نہیں تو کیا ہے کہ ان ستر برسوں میں ہم اس دیس کا کی بقا کا بنیادی نکتہ ہی تبدیل کر چکے ہیں۔ ہمیں اب تک یہ سکھایا گیا ہے کہ پاکستان کو وفاق مضبوط ہو گا، تو اس ملک میں بسنے والی قومیں مضبوط اور خوش حال ہوں گی، حالاں کی سچائی اور حقیقت یہ ہے کہ اس ملک پر بسنے والی قومیں مضبوط اور خوش حال ہوں گی، تو پاکستان کا وفاق خود بہ خود مضبوط ہو جائے گا۔
دعا ہے کہ ہارون بلور کو خدا جنت میں جگہ عطا فرمائے اور ان کے اہل خانہ کو صبر دے اور یہ دعا بھی ہے کہ خدا کرے اس دیس پر اب لاشیں اٹھانے کا سلسلہ بند ہو اور ہم پھر سے امن، سکون اور ترقی کی جانب لوٹ سکیں۔