دردانہ فرید، دبئی

میں نے ایک دینی سکالر سے کچھ سوالات کیے۔ مجھے جاننے والے جانتے ہیں کہ میں ایک بےباک مگر بالحاظ انسان ہوں ۔ وہ بہت سلجھے ہوئے انداز میں مجھے جوابات دیتے رہے ۔ پھر دورانِ گفتگو میں نے ان کو ان کے نام سے مخاطب کیا تو انہوں نے مجھے ڻوک دیا اور کہا کہ میرے نام کے ساتھ بھائی لگا کر مجھے مخاطب کیجیے۔

میرے دل میں ان کا جتنا احترام تھا اور ان کے تجربے کی جتنی قدر تھی وہ آدھی رہ گئی
کیا ہمارے معاشرے میں اخلاقی اقدار اور شرافت اتنی پستی کا شکار ہیں کہ دو اوسط عمر کے لوگ ایک دوسرے سے بات کرنے سے پہلے ایک جھوڻا رشتہ قائم کرنے کی مضحکہ خیز مشق سے گزریں
یا کیا ہم خود نفسی طور پر اتنے کمزور ہیں کہ ایک دوسرے سے عزت اور احترام کا اظہار کرنے کے لئے ہمیں بھائی یا بہن بنانے پڑیں۔ کیا ہمارے معاشرے کے مرد حضرات اتنے ہی دل پھینک ہیں کہ جس عورت نے بھی ان کو ان کے نام سے مخاطب کیا وہ اس پر فریفتہ ہو جائیں؟ یا پھر عورتیں اتنی ناشائستہ ہیں کہ ہر دوسرے مرد کے نفس پر وار کرنے کی منتظر بیٹھی ہیں۔

جس جگہ میں رہتی ہوں وہاں سب ایک دوسرے کا نام لیتے ہیں اور عزت بھی کرتے ہیں۔ شاید ہی میں نے کبھی ایسامحسوس کیاہو کہ یہ کوئی اخلاقی بے ربطگی ہے۔

مجھے اس بات کا شدت سے احساس ہونے لگا ہے کی ہم پڑھ لکھ جانے کے باوجود اخلاقی طور پر جاھل ہیں ہمیں ىسیاسی، علمی، مذہبی، اخلاقی طور پر کبھی بھی وہ رہنمائی نصیب نہیں ہوئی جو کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here