مہناز اختر

بہشتی زیورمولانا اشرف علی تھانوی کی شہرہ آفاق تصنیف ہے جو خواتین کی فقہی معاملات میں رہنماٸی کرتی ہے اس کتاب میں مولانا نے خواتین کے معاملات انتہاٸی باریک بینی سے بیان کیۓ ہیں یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ کتاب لکھنے سے پہلے مولانا نے بہت ساری خواتین سے بالمشافہ انٹرویو کیا ہو۔ بلا شبہ اس کتاب نے کٸی عشروں تک خواتین و حضرات کی نجی فقہی معاملات میں رہنماٸی کی ہے اور اب بھی کررہی ہے۔

بہشتی زیور سے میرا رشتہ ادب واحترام کا تھا لیکن صرف تب تک جب تک وہ کتاب میرے زیرمطالعہ نہیں آٸی تھی۔ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد سے آج تک مجھے مولانا سے یہی شکوہ ہے کہ انہوں نے اس کتاب میں خواتین کو ناصحانہ مگر توہین آمیز طریقے سے مخاطب کیا ہے۔ مولانا نے عورتوں کے نجی معاملات دنیا کے آگے رکھے لیکن ان معاملات کے دوران خواتین کتنی شدت سے ذہنی اور جسمانی اذیتوں کا سامنا کرتی ہیں اسکا کہیں ذکر نہیں کیا۔ پوری کتاب پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عورت ایک کم عقل،ناپاک اور گناہ پرراضی رہنے والی مخلوق ہے جسے صرف اور صرف ایک ”مردِمومن“ ہی سدھار کرسیدھے راستے پر ڈال سکتا ہے۔

جب میں نے ایم اے (قران وسنہ) کے دوران اپنے تحقیقی مقالے کے لیٸے خواتین سے متعلق انتہائی اہم موضوع کا انتخاب کیا تو مجھے ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے یہ مشورہ ملا کہ آپ کا موضوع بہت اچھا ہے اور اس پر خواتین نے بہت کم کام کیا ہے لیکن بہتر ہوگا کہ آپ یہ موضوع تبدیل کرلیں اگرچہ یہ خواتین کا موضوع ہے لیکن اس پر فقہی اعتبار سے مردوں کی اجارہ داری ہے اور مردوں نے ہی اس پر اب تک لکھا ہے۔ آپ بحیثیت خاتون اگر کسی فقہی مسئلہ پر کسی مفتی یا مفسّر پر تنقید کریں گی تو اس ڈیپارٹمنٹ کے مفتیان و علماء اس بات کو انا کا مسئلہ بنالیں گے جسکی وجہ سے آگے چل کر آپ کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ خیر میں نے وہ مشورہ قبول نہ کرتے ہوۓ اس موضوع پر مختلف ریسرچ پیپرز اور کتابیں دیکھنا شروع کیں۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ خواتین کے نجی موضوعات پر لکھی جانے والی ساری کتابیں مردوں نے لکھی ہیں اسی توہین آمیز حاکمانہ انداز کے ساتھ ۔ کاش کے اس قسم کی کتابیں عورتوں نے لکھی ہوتی تو ہمارے معاشرے میں مرد حضرات کا عورتوں کو دیکھنے کا نظریہ یکسر مختلف اور احترام پر مبنی ہوتا۔

مولانا اشرف علی تھانوی کی ”بہشتی زیور“ اور انکا حاکمانہ انداز تخاطب مجھے گزشتہ دنوں پھر سے یاد آگیا جب میں نے درگاہ بابا فرید گنج شکر کے منتظم کو یہ کہتے سنا کہ ہماری صدیوں کی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ”بہشتی دروازہ“ کسی عورت نے کھولا ہو، کوٸی ”عورت“ بہشتی دروازہ نہیں کھول سکتی۔
یہ مردوں کی وہی روش ہے جو خواتین سے متعلق ہمارے معاشرے میں ہر جگہ اور ہر طبقے میں دیکھائی دیتا ہے۔ میں آج آپکو خواتین کی عظمت کے حوالے سے اسلامی قصے اور کہانیاں نہیں سناؤں گی اور نہ ہی میں خواتین کی عظمت اور اہمیت قرآن وسنت کی روشنی میں ثابت کرنے کا کوٸی ارادہ رکھتی ہوں۔ ہمارے معاشرے کا المیہ دراصل یہی ہے کہ ہم نے ماضی کی مقدس خواتین ہستیوں کے دامن میں عقیدت اور احترا م کے سارے پھول نچھاور کردیٸے ہیں اور آج کی خواتین معاشرے کے لیۓ فقط ایک ”عورت” ہے جسے رسوا کیا جاسکتا ہے ۔ جسکی تعلیم جسکی قابلیت کو محض مرادنگی سے کچلا جاسکتا ہے۔
ابھی چند ہفتے پہلے کی بات ہے جب خاور مانیکا والے معاملے میں پاکپتن کے سابق ڈی پی او رضوان عمر گوندل کے تبادلہ کے بعد ایک قابل خاتون ایس ایس پی ماریہ محمود کی پاکپتن میں تعیناتی کی گئی۔ خبر سن کر اچھا لگا ، کٸی تصاویر نظر سے گزریں جہاں جونٸیر عملہ ایک خاتون آفیسر کو سلامی پیش کررہا تھا، کہیں ماریہ محمود دسٹرکٹ کا دورہ کرتی نظر آرہی تھیں تو کہیں ڈسٹرکٹ ایس ایچ اوز کے ساتھ دسٹرکٹ میں امن و امان کی صورت حال پر میٹنگ کرتے دکھاٸی دے رہی تھیں۔

میں نے سوچا پاکستان اب بدل رہا ہے لیکن کہاں صاحب پاکستان تو اب بھی ویسے کا ویسا ہی ہے۔ شاید غلطی سے ایک عورت کو شہر پاکپتن کی حفاظت کا بیڑہ دے دیا گیا تھا۔ ورنہ جو عورت ”بہشتی دروازہ“ کھولنے کی اہلیت نہیں رکھتی وہ شہر کی نگرانی کیا خاک کرے گی۔ دیکھا نہیں کیسے مزار کے ٹھیکے داروں نے ایک قابل عورت کی ساری قابلیت ایک طرف رکھ کر اسکی ایسی کی تیسی کردی صرف اس لیۓ کہ وہ ایک عورت ہے۔
دوسری طرف رحیم یارخان کے شیخ زید ہسپتال میں رات کے دو بجے علی حسن نامی خاکروب نے ایک لیڈی ڈاکٹر کی ایسی کی تیسی کردی اور اسے بتا دیا کے تم ڈاکٹر ہوگی کسی اور کے لیۓ میرے لیۓ تو بس عورت ہو۔ عجیب سی بات ہے کہ ہمارے معاشرے میں عورت کی ذہانت اور اسکی تعلیمی قابلیت کبھی بھی اسکے وقار اور احترام میں اضافے کا باعث نہیں بنتی۔ چاہے وہ کتنی ہی لاٸق فاٸق کیوں نہ ہو کہیں سے بھی ایک مرد اٹھ کراسے اسکی اوقات یاد دلا سکتا ہے۔
افسوس اس بات پر ہے کہ اس معاملے پر تحفظ حقوق نسواں کے سارے نام نہاد نماٸندے چپ سادھ کر بیٹھے رہے اور کسی نے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ جو عورت پاکپتن کی حفاظت پر مامور کی گٸی ہے وہ بابا فرید کے مزار میں موجود بہشتی دروازہ کیوں نہیں کھول سکتی ؟
یا جو ردعمل ہماری قوم نے میشا شفیع اور نرگس کے معاملے میں دکھایا تھا اور علی ظفر اور فیاض الحسن چوہان کی ایسی کی تیسی کی تھی ویسا ہی رد عمل اب دیکھنے کو کیوں نہ ملا؟

یا کسی بھی حکومتی نمائندے نے اٹھ کر مزارکی انتظامیہ سے یہ سوال کیوں نہیں کیا کہ مزارات پر اجارہ داری کا ٹھیکہ تمہیں کس نے دیا،کیا پاکستان میں موجود سارے دربارودرگاہ وزارت مذہبی امورومحکمہ اوقاف کے داٸرے کے اندر نہیں آتے،مزارات پر نام نہاد خانوادوں کو بادشاہت قاٸم کرنے کی اجازت کس نے دی؟

گرو نانک نے صدیوں پہلے پنجاب کے اسی معاشرے سے ایک سوال کیا تھا ”مرد عورت سے پیدا ہوتا ہے،عورت کی کوکھ میں پرورش پاتا ہے،عورت سے شادی کرتا ہے،عورت ہی اسکی ساتھی ہے اور اسکی نسل آگے بڑھاتی ہے،ایک عورت مر جاٸے تو مرد دوسری عورت تلاش کرتا ہے، عورت سےہی بادشاہ پیدا ہوتے ہیں۔عورت کے بغیر کچھ نہیں، مرد عورت کے ساتھ مشروط ہے تو وہ اسے برا کیوں کہتا ہے؟ “ بابا گرو نانک تو اب ہم میں نہیں رہے لیکن یہ سوال اب تک یوں ہی مجسم سوال بنے کھڑا ہے کہ آخر مرد عورت کا حترام کیوں نہیں کرسکتا؟

میں اس معاشرے سے کیا امید کرسکتی ہوں جہاں اندھی تقلید اور غیر ضروری اسلاف پرستی نے اکثریت کو ذہنی طور پراس حد تک ناکارہ بنادیا ہے کہ یہاں آج بھی عورت کا شمار پست،ناقص العقل ، پیر کی جوتی اور مرد کی ذیلی مخلوق کے طور پر کیا جاتا ہے ۔ ہمارے اسلاف کے قصوں میں رابعہ بصری آج بھی آدھی قلندر ہے۔ ایسے علمی اور فکری طور پرجمود زدہ زنگ آلود معاشرے سے ہم اور کیا توقع کرسکتے ہیں جہاں بہشت کے حصول کے شارٹ کٹ بکتے ہیں۔ جہاں اب بھی لاکھوں لوگ معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کے بجا ۓ جنت کے حصول کی خاطر بہشتی دروازے سے گزرنے کی فراق میں رہتے ہیں۔

کشورناہید نے کیا خوب کہا ہے

”یہ ہم گناہ گار عورتیں ہیں
جو اہل جبہ کی تمکنت سے نہ رعب کھاٸیں
نہ جان بیچیں
نہ سر جھکاٸیں
نہ ہاتھ جوڑیں

یہ ہم گناہ گار عورتیں ہیں
کہ جن کے جسموں کی فصل بیچیں جو لوگ
وہ سرفراز ٹھہریں
نیابت امتیاز ٹھہریں
وہ داور اہل ساز ٹھہریں “