عاطف توقیر

میری عمر کوئی آٹھ نو برس کی ہو گی۔ ہمارے گھرانے کو کراچی منتقل ہوئے بہ مشکل چند سال ہوئے تھے۔ اردو بولتا تو کہیں کہیں پوٹھوہاری لفظ آن ٹپکتے اور مجھے ادراک تک نہ ہوتا۔ ابا ٹی وی خرید لائے۔ اس کھڑکی کے پٹ والے ٹی وی میں ہر صبح جس چہرے سے ملاقات ہوتی تھی، وہ تھے چاچا۔ میں بلکہ تمام گھرانہ انہیں چاچا ہی کہتا۔ میں اسکول جاتا تو وہاں بھی تمام بچے چاچا کی باتیں کرتے۔ وہ ہم سب سے بہت پیار کرتے تھے۔ جو بچے اسکول جاتے، دل لگا کر پڑھتے اور سچ بولتے، چاچا انہیں ’’بی با بچہ‘‘ کہا کرتے تھے، جو بچے نہ پڑھتے، انہیں ’’باں باں‘‘ بچہ کہتے۔ میں چاچا کے منہ سے باں باں بچہ کہلانے سے بچنے کے لیے بے انتہا بی با بچہ بن گیا۔ وقت پر اسکول جاتا اور تمام تر پریشانی اٹھانے کے باوجود سچ بولتا۔

ہر صبح نہا کر، دانت صاف کر کے، ناشتہ کر کے اسکول جانے سے چند لمحے قبل چند منٹ الماری نما کھڑکی کے پٹ سے لگ کر پانچ منٹ کے کارٹون سے ایک منٹ قبل اور ایک منٹ بعد کی چاچا کی گفت گو جیسے توانائی ہوتی اور اسکول تک کا راستہ آسان ہو جاتا۔

کچھ بڑے ہوئے، تو معلوم ہوا کہ چاچا تو خود بے انتہا ’’بے با’’ بچے ہیں۔ ان کے لکھے ہوئے مضامین اور سفر نامے پڑھنا شروع کیے اور کئی سفر تو چاچا کے ساتھ کیے۔ مستنصر حسین تارڑ چاچا کے ساتھ۔

ان کے سفر نامے، کسی ناول کی طرح پرت در پرت کھلتے چلے جاتے، کردار الفاظ سے نکل کر چہرے پہن لیتے اور ہم مستنصر حسین تارڑ کے جملوں سے بنتی شکلیں چھو چھو کر ہر سفر، ہر کہانی کا ایک خاموش کردار بنتے چلے جاتے۔ میں نے تارڑ صاحب کی کئی کہانیوں میں خود اپنا کردار پڑھا اور اسے چلتے پھرتے دیکھا۔ تارڑ صاحب جیسے کتاب میں کھڑکی لگانے کا فن جانتے تھے، کتاب کیا کھلتی ایک کھڑکی کھل جاتی، ایک منظر وا ہو جاتا۔

کھڑکی والے ٹی وی میں چاچا کے جملوں سے لے کر کھڑکی والی کتاب کے مستنصر حسین تارڑ تک، مجھے ہمیشہ یہی لگا کہ چاچا جو کہتے ہیں سچ کہتے ہیں اور سچ بھی بے حد گہرا۔ ان کی کتاب ’غارحرا میں ایک رات‘ پڑھی تو لگا جیسے میں خود اس مقامِ محترم پر ہوں، جہاں میرے مولا پر قرآن عظیم کی پہلی آیت اتری تھی۔ کئی بار تو آنکھوں میں عکس بنتے چلے گئے، اس عظیم تر منظر کے، جہاں جبریلِ امین، رحمتِ عالمین کو کتاب اقدس و مبین سونپ رہے تھے۔ اس کتاب کے کئی صفحات ایسے تھے کہ کھڑکی بند کرنے پر بھی ہر جگہ ’ اقرا بِاسم ربک الَّذی خلق‘‘ لکھا نظر آتا رہا اور کانوں میں جیسے کوئی صدا گونجی رہی ’اقرا‘۔

جادوئی کھڑکی والی کتاب کو پڑھنے والا ہر شخص جاتا ہے کہ تارڑ صاحب کوئی منظر دیکھتے ہیں، تو وہ اسے کتنی گہرائی سے دیکھتے ہیں اور لکھتے ہیں، تو کیسی کیسی تفصیلات نکال لاتے ہیں۔

مگر گزشتہ روز میری نگاہ تارڈ صاحب کے اس مضمون پر پڑی، جس میں وہ حالیہ انتخابات سے متعلق یہ بات واضح کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ یہ انتخابات نہایت شفاف ہوئے۔ ظاہر ہے کسی بھی شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی موضوع پر اپنی رائے دے، تاہم تارڈ صاحب جیسے باریک بین شخص کا یہ بیان نہ صرف میرے لیے دھچکے کا باعث تھا، بلکہ ایک ہی لمحے میں میں نے ان کی کتابوں کی تمام کھڑکیوں پر دیواریں اُگتی دیکھیں۔ تارڈ صاحب فرماتے ہیں:

’’مجھے ان دنوں صرف ’’خلائی مخلوق‘‘ سے شکایت ہے اس نے یہ کیسی دخل اندازی کی کہ گوجرانوالہ‘ سیالکوٹ‘شیخو پورہ‘ فیصل آباد وغیرہ سے نون لیگ کثرت سے جیت گئی۔عمران خان کی کیسی پشت پناہی کی کہ وہ سادہ اکثریت کے لیے دھکے کھاتا پھرتا ہے۔ یہاں تک کہ ایم کیو ایم کے دروازوں پر دستک دیتا ہے۔ خلائی مخلوق مجھے تم سے بہت گلاہے۔ اگر تم نے بدنامی مول لینی تھی تو عمران خان کے الیکشن ڈبے میں کم از کم دو سو نشستیں تو ڈال دیتی۔ خلائی مخلوق اگر ہوتی تو ایسا ہوتا۔ الیکشن میں خلائی نہیں خدائی مخلوق تھی جس نے عمران خان کو ووٹ دیا۔ آپ چیک کر لیجیے۔ میرے انگوٹھے پر سیاہی کا ایک نشان ہے اور میں خدائی مخلوق ہوں۔‘‘

تارڈ صاحب ہم سب سے زیادہ بہتر جانتے ہیں کہ کسی دور میں ایک شاعر ہوا کرتا تھا، جس کا نام تھا حفیظ جالندھری، مگر وہ عمدہ شاعر ایوب خان کا مشیر بنا اور تاریخ کے پنوں میں غرق ہو گیا۔

پھر اگلی آمریت میں نسیم حجازی، جمیل الدین عالی، اشفاق احمد اور بانوقدسیہ جیسے عمدہ لکھاری قوم کو حقائق سے آگاہ کرنے کی بجائے آمریت کے نغمے لکھنے اور گانے میں تاریخ بن گئے۔ باقی وہی رہا، جو کھڑا ہوا۔

تارڈ صاحب، آپ جیسا گہرا دیکھنے اور سوچنے والا کوئی فرد کس انداز سے اس پورے معاملے کو اتنا سطحی طور پر دیکھ سکتا ہے۔ آپ کی ذاتی سیاسی رائے کا بہ صد احترام مگر ایک لکھاری کس طرح اپنا قلم کسی ایسے سنجیدہ معاملے پر سطحی رکھ سکتا ہے؟

انتخابات سے قبل جس انداز کی پری پول رِگنگ کی گئی، جس انداز سے عدالتوں کا استعمال ہوا، جس انداز سے مخصوص بیانیے ٹھیک ماضی کے طرح اس قوم کے حلق میں انڈیلے گئے، جس انداز سے پولنگ کے دوران اور پولنگ کے بعد کے واقعات پیش آئے۔ وہ پوری قوم بلکہ عالمی برادری تک نے دیکھے۔ دنیا کی کسی ایک بھی ایجنسی، کسی ایک بھی مبصر، کسی ایک بھی تجزیہ کار نے ان انتخابات کو صاف اور شفاف قرار نہیں دیا، مگر آپ کی نگاہ اس گندے جوہڑ کی سطح پر اگنے والے کنول ہی کو عبور نہ کر سکی؟ وہیں اٹک کر رہ گئی؟

(مستنصر حسین تارڑ کے اصل مضمون کو پڑھنے کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے)

https://www.google.de/amp/javedch.com/کالم/2018/08/07/479597%3famp_markup=1

گزشتہ انتخابات کے موقع پر حالات شدید خراب تھے، ہر جانب دھماکے ہو رہے تھے، بے شمار پاکستانیوں کی جانی جا رہی تھیں، مگر ملک بھر میں مجموعی طور پر چند ہزار فوجی تعینات کیے گئے اور فوج نے انتخابات کی سکیورٹی کی ذمہ داری سنبھالی اور وہ انتخابات منعقد ہو گئے۔

مگر اس بار حالات بھی بہتر تھے، اس انداز کی دہشت گردی کی لہر بھی نہ تھی، مگر آپ جیسے باریک بین لکھاری کو کیا یہ نہیں پوچھنا چاہیے تھا کہ پونے چار لاکھ فوج کیوں تعینات کی گئی؟ کیوں ایک ایسے موقع پر جب ملک کی مختلف برادریاں فوج پر نکتہ چینی کر رہی ہیں، ایسے میں فوج نے غیرضروری ذمہ داری اپنے نام لے لی؟ یہ جانتے ہوئے بھی کہ دھاندلی کے الزامات براہ راست فوج پر عائد ہوں گے اور اس سے اس ادارے کی تکریم اور عزت پر حرف آ سکتا ہے۔

آپ یقیناﹰ خدائی مخلوق ہیں اور یقیناﹰ آپ کے مطابق خلائی مخلوق کا کوئی وجود نہیں مگر آپ نے حالیہ کچھ عرصے میں کیا ٹی وی چینلز ملاحظہ نہیں کیے؟ کیا آپ کو کسی صحافی نے کچھ نہیں بتایا؟ کیا آپ کی کسی لکھاری سے گفت گو نہیں ہوئی؟ کیا خود آپ کو کبھی اپنے کسی پیارے نے متنبہ نہیں کیا کہ ہر علاقے پر طبع آزمائی کیجیے، سوائے ’خلائی مخلوق‘ کے، کیوں کہ ایسی صورت میں آپ کی زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے؟

کیا آپ کو اس ملک میں لاپتا ہونے والے ہزاروں ’’بی با‘‘ بچے واقعی دکھائی نہیں دیے؟ ہزارہا ماورائے عدالت قتل ہونے والوں سے بھی کوئی ہم دردی نہیں؟ کیا آپ بہ طور قلم کار یہ سوال تک نہیں پوچھ سکتے کہ اس دیس کے باسیوں کی مسخ شدہ لاشیں پھینکنے والے اس دیس سے محبت کرنے والے کیوں کر ہو سکتے ہیں؟ کیا آپ نے بہ طور لکھاری اس دیس کا دستور توڑنے والوں اور ان کی وجہ سے اس قوم کے کروڑوں بے با بچوں کے مستقبل کی تاریکیں واقعی دکھائی نہیں دیتیں؟ کیا کبھی ایک رات آپ نے غار حرا کی طرح ایسے کسی گھر میں گزاری ہے، جس کے کسی ایک فرد کو کوئی جرم بتائے بغیر اٹھا لیتا ہے؟ کیا آپ کے سامنے کبھی وہ منظر نہیں اترے، جب فرشتے کسی معصوم بچے کی لاش سے روح کھینچ کر آسمانوں کی طرف لے جاتے ہوئے، اس بستیء آدم خوراں کی جانب افسوس اور دکھ سے دیکھتے ہیں؟

کیا کسی ہزارہ، کسی بلوچ، کسی سندھی، کسی مہاجر، کسی پشتون، کسی سرائیکی، کسی کشمیری، کسی گلگت بلتستانی، کسی پنجابی یا کسی مذہبی اقلیت کے دکھ کی کہانی آپ کو کسی سیاہ رات کے سفر پر نہیں لے جاتی؟ کیا واقعی آپ کے کانوں میں کسی بچے کی ابا ابا پکارتی آواز، کسی بہن کی بھائی بھائی کہتی چیخیں، کسی ماں کی بیٹا بیٹا کہہ کر ہاتھ لہرا لہرا کر ہوا کو سینے سے لگاتے بازو بھی نظر نہیں آتے؟

آپ تو کوہ پیما بھی ہیں نا؟ تارڈ صاحب کسی روز درد کا کوہ بھی سر کیجیے گا، تاکہ آپ جان پائیں کہ کوہ گراں کس عذاب کا نام ہے اور اس میں اب تک کتنے افراد ’تاریک راہوں میں‘ مارے جا چکے ہیں۔ آپ کو اس دیس کی ہر درد آشوب آنکھ پر کسی ’خلائی مخلوق‘ کے ناخنوں کا عکس ملے گا۔ اس دیس کے گہرے زخموں پر ’خلائی مخلوق‘ کے پنجوں کے نشان میں گے۔

مجھے آپ کا یہ مضمون پڑھنے کے بعد اس شخص سے بھی شکایت اور شکوے کا احتمال ہو رہا ہے، جس نے یہ مضمون شیئر کیا۔ کاش کہ یہ مضمون میری نگاہوں کے سامنے نہ آیا ہوتا ۔کاش کہ آپ کا نام لکھا دیکھ کر پڑھنے اور سیراب ہونے کی جستجو میرے اندر پیدا نہ ہوئی ہوتی۔ کاش میں نے اسے نہ پڑھا ہوتا، تو کھڑکی والے ٹی وی والا چاچا اور کھڑکی والی کتاب کا تارڈ زندہ رہتا۔