عاطف توقیر

پاکستانی معاشرہ نہ صرف اندرونی طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے بلکہ اس میں تقسیم در تقسیم کی حالت ہے۔ ذات اور برادری کی تقسیم، رنگ اور نسل کی تقسیم، صوبائیت اور زبان کی تقسیم، مذہب و مسلک کی تقسیم حتیٰ کہ مال و دولت کی بنا پر معاشی سطح تک کی تقسیم۔

پچھلے ستر برسوں میں ہماری فوجی جرنیلوں، ہمارے سیاسی طبقے اور ہمارے مذہبی رہنماؤں نے اس تقسیم کو نہ صرف اپنے اختیارات ، طاقت اور مال میں اضافے کے لیے استعمال کیا بلکہ بنیادی انسانی مسائل اور ضروریات پر توجہ دینے کی بجائے ہمیشہ جذباتی نعروں اور آسانی سے بک جانے والے بیانیوں کو ہوا دی اور اس طرح قوم میں موجود ان درڑوں کا مزید وسیع کیا جاتا رہا۔

اس تقسیم کو مزید ہوا دینے اور اس عسکری، سیاسی اور مذہبی اشرافیہ کے عزائم پورے کرنے کے لیے بٹوے کے دماغ والے تجزیہ کار، ایمان بیچنے والے منصف، حلف کی توہین کرنے والے افسر اور حقائق مسخ کرنے والے صحافی ان اقتدار اور اختیارات اور سرمائے کے بھوکے آدم خوروں کو اپنی فہم و فکر اور الفاظ بیچتے رہے اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔
اس وقت بھی قوم میں اس اشرافیہ اور ملک پر قابض طبقے کو دوام دینے والے دو طرح کے افراد ٹی وی پر آپ کو دکھائی دیں گے۔

ان میں سے ایک وہ ہیں جو آپ کو حقائق بتانے کی بجائے یہ جذباتی نعرہ فروخت کریں گے کہ ہمارا ملک دنیا کا سب سے عظیم ملک ہے اور پوری دنیا کی طاقتیں سارا سارا دن سر جوڑ کر یہ سوچتی رہتی ہیں کہ اس ملک کو برباد کیسے کرنا ہے، یا اس ملک کو کم زور کیسے بنانا ہے۔ دوسری طرف ایک اور طبقہ موجود ہے جو دانستہ یا نادانستہ عوام کو آکر یہ بتاتا رہتا ہے کہ تمام تباہی کی وجہ وہ ہیں اور ان کی غربت، جہالت، تباہی، دہشت گردی، شدت پسندی، مہنگائی کا سارا الزام فقط انہیں پر آتا ہے۔ یہ افراد اپنے جملوں اور دعووں کو مزید دوام دینے اور اپنے بیانیوں کو زیادہ مسالا دار بنانے کے لیے تاریخ کے حوالے نکال لاتے ہیں، سیاست دانوں کی کرپشن کی کہانیاں بیان کر کے انہیں دو چار موٹی موٹی گالیاں دے کر اپنا مال بیچ لیتے ہیں۔

دو مختلف بیانیوں کے ذریعے عوام سے سوجھ بوجھ اور اعتماد چھینے والے اور خوف کی فضا قائم کرنے والے یہ افراد بہ ظاہر ایک دوسرے سے نظریاتی طور پر بالکل مختلف معلوم ہوتے ہیں مگر یقین کیجیے کہ اصل میں دونوں بات ایک ہی کر رہے ہیں اور وہ ہے تھوڑے سے سچ میں بہت سے جذباتی جملے شامل کر کے عوامی سوچ کو جذباتی بنایا جائے اور قوم کے اندر موجود دراڑوں کو ہوا دی جائے۔

یہ ممکن ہے کہ یہ افراد اس اشرافیہ سے داد و تحسین اور مراعات کے حصول کے لیے عوامی سوچ آلودہ کرتے ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان میں سے کچھ کو معلوم تک نہ ہو کہ ان کے بیانیے اصل میں انسان یا عوام دوست نہیں۔

ہر دور میں آمروں اور بادشاہی طرز کے جمہوریوں کو اس انداز کے لکھاری ملتے رہے ہیں۔ ضیاالحق کو ضرورت پڑی تو نسیم حجازی جیسے تاریخ کو مسخ کر کے فکشن تاریخ سے قوم کو گم راہ کرنے والے بھی موجود تھے اور لکھاری بھی، شاعر بھی اور صحافی بھی۔
ان کا کام فقط یہ تھا کہ قوم کو گم راہ کرنے کے لیے اپنے الفاظ کے جادو کا استعمال کریں اور حقائق پر جذباتی پٹیاں رکھ دیں کہ قوم کی سوچنے سمجھنے کی باقی ماندہ حس بھی جاتی رہے۔

ایک طرف ملک کو عالمی سازشوں کا مرکز بتا کر اپنی اشرافیے کے بھیانک جرائم اپنے جرنیلوں کہ تباہ کن پالیسیوں اور بہ طور ریاست اپنے شہریوں کے درمیان امتیاز کے رویوں کو چھپایا جاتا رہا اور دوسری جانب قوم کا بار بار ذلیل کرنے اور تمام تر خرابیوں کی وجہ بھی قوم ہی کو قرار دے کر اس اشرافیہ کر جرائم پر پٹی رکھی جاتی رہی۔

آج بھی یہ چرب زبان افراد اپنی لچھے دار گفت گو کے ساتھ ہر شام کو ٹی وی پر بیٹھک سجاتے ہیں۔ ایک کا کام ہے کہ وہ بنیادی مسائل کا ذکر ہی نہ کرے اور فقط یہ بتائے کہ ہمیں کس طرح تباہ کرنے کے کیے اقوام عالم کے تمام بڑے دماغ سوچ میں غرق ہیں، دوسرے طبقے کا کام یہ ہے کہ ملک میں بچے اسکول نہیں جا پانے کا الزام ریاست کی ترجیحات اور اشرافیہ کی جانب سے قوم کو ناخواندہ اور جاہل بنانے کے رویے پر رکھنے کی بجائے قوم ہی کو گالی دے کر قوم ہی پر رکھ دیا جائے کہ یہ غریب لوگ اپنے بچوں کو خود ہی اسکول نہیں بھیجتے۔ یہ بہ بتایا جائے کہ یہ فریب لوگ اپنے بچوں کا اسکول کیوں نہیں بھیجتے۔ کیوں ستر برسوں میں قوم کو یہ نہیں بتایا جا سکا کہ تعلیم کتنی اہم ہے؟ اس ملک میں ہر شخص کو یہ معلوم ہے کہ ایٹم بم کیوں ضروری ہے، ٹینک اور لڑاکا طیارے کیوں ضروری ہیں، مگر یہ کیوں معلوم نہیں کہ اسکول کتنا اہم ہے۔

قوم کو غوری اور غزنوی میزائلوں پر فخر کرنا سکھایا جا سکتا ہے تو علم کا قابل فخر کس نے بنانا تھا؟ اور کیوں نہیں بنایا گیا؟

ملک قوم سے عبارت ہوتا ہے مگر یہ طبقہ بار بار قوم کو گالی دے کر کہتا ہے کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود نہیں کر سکتے کیوں کہ وہ جاہل ہیں اس لیے ان کے بچوں کے مستقبل کا فیصلہ ہم کریں گے۔

یہ نہیں بتایا جاتا کہ اگر آپ کے فیصلے درست ہوتے تو ستر برس بعد یہ ملک یہاں کھڑا ہوتا؟ اور قوم آج تک جاہل ہوتی؟

نصف سچ اصل میں مکمل جھوٹ ہوتا ہے۔ اور ہمارے نشریاتی اداروں پر ایسے نہایت کم افراد ہیں، جو پورا سچ بتانے کی سکت رکھتے ہوں، نہیں مال و اسباب انہیں سچ بولنے سے روک دیتے ہیں، کہیں مراعات، کہیں پلاٹ، کہیں لفافے اور کہیں دھونس اور دھمکیاں۔

کسان اور چوہدری کے جھگڑے میں کسان کے ساتھ کھڑے ہونے کی بجائے یہ افراد کسان کو جہالت کی گالی دیتے ہیں اور اس کی اس حالت کا ذمہ داری فقط اس کسان کو سمجھتے ہیں۔

چار سالہ بچے کے ساتھ کسی مدرسے میں ہونے والی جنسی زیادتی پر ان کی نگاہ میں مجرم زیادتی کرنے والا نہیں بلکہ بچہ یا بچے کے والدین ہوتے ہیں، جو ان بچوں کو مولوی کے پاس بھیجتے ہیں، یہ ذکر کرنا ان لوگوں کی بات نہیں کہ ایسے واقعات ہو کیوں رہے ہیں، معاشرے میں جنسی بھوک اس نہج کو کیوں پہنچ چکی ہے؟ عورت کو ہراساں کرنے کے واقعے میں ان کا نشانہ درندہ صفت نگاہیں یا جملے یا ہراساں کرنے والا نہیں بلکہ عورت یا عورت کا لباس ہوتا ہے، ملک میں دہشت گردی کی ذمہ داری غلط پالیسیوں کی بجائے دوسرے ملکوں کے ساتھ تانے بانوں میں کھو جاتی ہیں، آپ ان افراد سے یہ کبھی نہیں سنیں گے کہ کسی دوسرے ملک کو ایسی کسی اقدام کا موقع کیسے ملا ارو کن پالیسیوں کی وجہ سے ملا۔

وہ افراد جو علی اعلان ڈریم سیلنگ یا خواب فروشی پر مامور ہیں، ان کے نام اور چہروں سے سب واقف ہیں مگر قوم کو گالیاں دینے اور بدحالی کی وجہ قوم ہی کو قرار دینے والے بھی اصل میں ہیرو نہیں قوم کے ولن ہی ہیں۔

بریانی کی پلیٹ پر ووٹ دینے کا طعنہ دے کہ جمہور اور جمہوریت کا مذاق اڑانے والوں اور دستور کو گالی دینے والوں سے کہیے کہ کسی روز یہ ذکر بھی کریں کہ قوم کو اس سطح پر کون لایا کہ وہ ایک وقت پیٹ بھر کر روٹی کھانے کے لیے اپنا مستقبل تک داؤ پر لگانے پر آمادہ ہو گئی؟یہ کون سی پالیسیاں ہیں جنہوں نے اس دیس کو لوگوں کو اپنے بچے تک بیچنے پر مجبور کر دیا؟ یہ کون سی حکمت عملیاں ہیں کہ انصٓاف نہ ملنے پر لوگ خودسوزی کر لیتے ہیں؟

سیاست دانوں کو گالیاں دینے والوں سے کسی روز یہ بھی پوچھیے کہ یہ تمام سیاست دان کون لیا؟ انہیں رہنما کس نے بنایا؟ انہیں سیاست کر کے نوٹ بنانے کی آشیرباد سے قبل ان کی کم کم زوریوں کی فائلیں کس نے اور کیوں بنائیں؟

قوم سے نصف سچ کے ذریعے مکمل جھوٹ بولنے والوں سے کو کوئی یہ بتائے کہ آپ جیسے قلم اور ضمیر فروش لوگ زندہ ہیں تو اقوام عالم کو ہماری تباہی کے لیے سر جوڑنے کی ضرورت نہیں۔ یہ افراد اپنی مقبولیت اور مال بنانے کے کیے عوام میں موجود تقسیم کا پورا فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔

اس قوم کے دماغ کو آلودہ کرنے اور سوال چھیننے والوں کے ساتھ ساتھ قوم کو گالی دینے والوں کا احتساب بھی ضروری ہے۔