صہیب حسن

میں نے اپنی پچھلی تحریر میں لکھا تھا کہ خان صاحب کو بھی آزما لیں لیکن نتیجہ وہی نکلنا ہے جس پہ کچھ لوگوں نے تنقید کی کہ نہیں خان صاحب دوسرے حکمرانوں کی طرح نہیں ہیں، لہذا آئیے دیکھ لیتے ہیں خان صاحب کی غیرجانبداری اور شفافیت بھی۔

خان صاحب کا عروج تو 1992 کے ورلڈ کپ کے بعد ہی آچکا تھا لیکن سیاسی عروج 2013 کے عام انتخابات سے کچھ پہلے واضح ہونے لگا۔ اور پاکستان کے تقریباً ہر شہری کے دل میں اگر اُس وقت کوئی بستہ تو وہ خان صاحب تھے، اور سب کی خواہش کے پیکر بھی شاید وہی تھے۔ لہذا ہر جلسے میں عوام کا ٹھاٹے مارتا ہجوم ہوتا جس سے خان صاحب بڑے بڑے وعدے کرتے اور امید کے چراغ روشن کرتے کہ اگر وہ وزیرِ اعظم بنے تو اس ملک کو لندن، پیرس اور نیو یارک جیسا بنا دیں گے، تعلیمی نظام بہتر کردیں گے، لوگ بہار سے اس ملک میں نوکریاں ڈھونڈنے آئیں گے، امیر و غریب میں کوئی فرق نہ رہے گا اور اسی طرح کے مزید دلاسے۔

عام انتخابات کا دن آیا، کثرت سے لوگ بہار نکلیں خان صاحب کو ووٹ دینے کے لئے لیکن شاید اللّه کو کچھ اور ہی منظور تھا یا یوں بولیے خان صاحب کا اصل رنگ پاکستانیوں کو دکھانا تھا۔ پی-ٹی-آئی دوسری نہیں بلکہ تیسری بڑی جماعت بن کر سامنے آئی، تحریکِ انصاف کے “ٹائیگرز” کا دل ٹوٹ گیا اور پی-ٹی-آئی نے کے-پی-کے میں حکومت بنا لی، مختصر یہ کے انتخابات 2018 کے لئے خان صاحب کو کے-پی-کے میں اپنی کارکردگی دکھانے کا سنہرا موقع ملا۔ لیکن خان صاحب دھاندلی کا ڈھنڈورا پیٹتے رہے اور 126 دن کا طویل دھرنا دیا جس کا مقصد نواز شریف صاحب کا استعفیٰ تھا، لہٰذا اے-پی-ایس سانحے کی وجہ سے دھرنا ختم کرنا پڑا۔

عام انتخابات 2013 میں کے-پی-کے میں حکومت بنانے کے بعد خان صاحب آہستہ آہستہ اپنے اور پارٹی منشور سے ہٹنے لگے، اور پی-ٹی-آئی کا جو حقیقی مقصد تھا اس سے یہ جماعت دور ہونے لگی، بظاہر یہی لگنے لگا کہ خان صاحب کو وزیراعظم کی کرسی چاہیے پھر چاہے اس کے لئے جائز و ناجائز اصول ہی کیوں نہ برسرِ عمل لانے پڑے۔

اب ذرا نظر ڈالتے ہیں ان انصاف کے علمبردار کے کے-پی-کے میں طرزِ حکومت پر، جسے نوجوانوں کی پارٹی بھی کہا جاتا ہے۔ خان صاحب نے اپنی نوجوانوں کی پارٹی میں سے پختونخوا میں 68 سالہ نوجوان کو وزیرِ اعلیٰ منتخب کیا۔ اوّل تو خان صاحب نے پختونخوا میں 350 ڈیم بنانے کا وعدہ کیا لیکن آج 5 سال بعد بمشکل 40 ڈیم بھی سہی معنوں میں پایہِ تکمیل تک نہیں پہنچ سکیں، اسی طرح خان صاحب نے اتنی بجلی پیدا کرنے کا وعدہ کیا تھا کہ کے-پی-کے پورے پاکستان کو بجلی فراہم کرے گا لیکن جب اینکر نے پرویز خٹک سے اس کا جواب طلب کیا تو فرمانے لگیں کہ خان صاحب کو ٹیکنیکل چیزوں کا کیا پتا، اسی طرح خان صاحب نے پختونخوا میں ایسا مثالی عدالتی نظام قائم کیا کہ مشعال خان کے والدین ابھی بھی انصاف کو ترس رہیں ہیں، ساتھ ہی پختونخوا میں 1300 سے زائد کیسز ابھی تک اپنے فیصلوں کے محتاج ہیں۔

تبدیلی کا نعرہ لگانے والے نے خود اپنی صف میں ایسے لوگوں کو کھڑا کر لیا جن کا ماضی ہی ان کے کارناموں کی گواہی دینے کے لئے کافی تھا۔ خان صاحب کے قریبی دوست جہانگیر ترین کا نام پانامہ میں آیا اور کورٹ نے انھیں نا اہل کر دیا، خان صاحب نے ہر جلسے میں موروثیت کے خلاف آواز بلند کی لیکن جب سپریم کورٹ نے جہانگیر ترین کو نااہل کر دیا تب خان صاحب نے جہانگیر ترین کے بیٹے کو لودھراں کا ٹکٹ جاری کردیا، اس طرح خان صاحب مریم نواز اور بلاول کی موروثیت پہ تنقید کا جواز کھو بیٹھے۔ پھر شاہ محمود قریشی جو ایک عرصہِ دراز سے ن لیگ کی طرف سے لڑیں لیکن جب 1993 میں ن لیگ نے انہیں ٹکٹ دینے سے انکار کردیا تو پی-پی سے الیکشن لڑا اور اب تحریکِ انصاف، مطلب اگر کل کو خان صاحب ان کو ٹکٹ دینے کے انکاری ہو جاتے ہیں تو یہ خان صاحب کو بھی خیر آباد کہنے میں ذرا دیر نہیں لگائیں گے، اسی طرح فیصل واڈا اسٹیٹ بینک کی دستاویز کے مطابق 3 کروڑ سے زائد روپیوں کے نادہندہ ہیں، پھر بنا کسی تصدیق کے فاروق بندیال جیسے متنازعہ شخص کو اپنی پارٹی میں شامل کرنا، عامر لیاقت جیسے نام نہاد اسلامی اسکالر کو ٹکٹ دینا، یا تحریکِ انصاف کے کونسلر کا مشعال خان کے قتل میں نامزد ہونا، غرض ہر انسان کو یہ “انصاف کے علمبردار” اپنی صف میں شامل کرلیتے پھر چاہے اس کا ماضی کتنا ہی خراب کیوں نہ ہو۔

پھر انتخابات 2018 کے لئے واپس اندرونِ سندھ میں پی-ٹی-آئی نے موروسیت کا خوب مظاہرہ کیا، مثلاً (NA-234) دادو سے لیاقت جتوئی کو منتخب کیا، پھر (NA-235) کریم خان جتوئی (صاحبزادہ لیاقت جتوئی) کو منتخب کیا، آگے چلیں (PS-83) سے احسان علی جتوئی (بھائی لیاقت جتوئی) کو منتخب کیا، پھر (PS-85) سے عاشق زنئور (داماد لیاقت جتوئی) کو منتخب کیا، لہذا تحریکِ انصاف میں بھی موروثی سیاست گھر کرنے لگی۔ اسی کے ساتھ تحریکِ انصاف نے ٹکٹ کی ایسی منصفانہ تقسیم کی کہ پُرانے کارکنان کی ایک قلیل تعداد کو ہی ٹکٹ سے نوازہ گیا اور کثیر تعداد وہ تھی جو اپنا نظریہ بیچ کے اور دوسری پارٹی سے کوچ کر کے تحریک انصاف میں شامل ہوئی تھی۔

انہی بنیادوں پہ ایک عام آدمی خان صاحب کو ووٹ دینے پہ ہزار بار سوچتا ہے، اور یہی وہ لوگ ہیں جو خان صاحب اور تحریکِ انصاف کی بربادی کے لئے شافی و کافی ہیں۔