عاطف توقیر

ترکی میں گزشتہ روز انتخابات میں عوام کی اکثریت نے رجب طیب ایردوآن کے حق میں فیصلہ دیا اور اس کے ساتھ ہی ترکی میں پارلیمانی جمہوریت بھی ایک طرح سے ختم ہو گئی کیوں کہ اب ملک کے زیادہ تر انتظامی اختیارات صدر کے عہدے میں جذب ہو گئے ہیں۔ اس حوالے سے گزشتہ روز میں نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں لکھا تھا۔

’’ہم یہاں نعرے لگاتے تھے کہ پاکستان ایک دن ترکی بنے گا مگر اب لگتا ہے ترکی پاکستان بنے گا۔ ترکی کو “جنرل ضیاالحق” مبارک ہو۔ ترک عوام نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔‘‘

اس پر متعدد دوستوں کو یہ شکایت ہوئی کہ ایک طرف تو آپ جمہوریت کی حمایت کرتے ہیں اور دوسری جانب ترک عوام کی جانب سے ایردوآن پر اس اعتماد کے اظہار پر آپ کو اعتراض بھی ہے، یہ کیسا دوہرا معیار ہے۔ کچھ دوستوں کا کہنا تھا کہ شاید ایردوآن ’اسلام پسند‘ ہیں اور اسی لیے آپ کو ان سے کوئی ذاتی عناد ہے۔

یہ دونوں اعتراضات درست نہیں اور چوں کہ اس بابت ہمارے ہاں خاصا ابہام ہے، اس لیے ایک تو یہ مضمون ضروری ہے، تاکہ بات درست انداز سے سمجھ آئے اور دوسرا اس پر میں آج فیس بک لائیو پر تفصیلی بات بھی کروں گا۔

پہلی بات کہ کیا ایردوآن کے لیے ترک عوام کی اکثریت کے فیصلے کا احترام نہیں کرنا چاہیے؟ جواب ہے بالکل کرنا چاہیے اور اس میں کسی طرح کی کوئی دوسری رائے ہے ہی نہیں۔ اگر ترک عوام یہ سمجھتے ہیں کہ ایردوآن ان کی راہ نمائی بہتر انداز سے کر سکتے ہیں اور ترک عوام کے مفادات کا تحفظ ان کے ذریعے زیادہ بہتر انداز سے ممکن ہے، تو نہ صرف ترک عوام کا یہ فیصلہ سر آنکھوں پر بلکہ اس کا مکمل احترام بھی۔ دوسری بات ہم یہاں سیاسی رویوں پر بات کر رہے ہیں، کسی شخص کے ’اسلام پسند‘ ہونے یا نہ ہونے پر ہرگز نہیں۔

سن تیس کی دہائی میں ہٹلر اور اس کی جماعت نازی پارٹی جرمنی میں ایک جمہوری طریقے سے برسراقتدار آئے تھے یعنی ہٹلر جرمنی کا ایک منتخب چانسلر تھا۔ ہٹلر کی حکومت میں تمام تر اپوزیشن جماعتوں کے خلاف سخت ترین کریک ڈاؤن کیا گیا اور میڈیا کا استعمال کر کے زبردست پروپیگنڈے کے ذریعے عوامی رائے عامہ ہم وار کی گئی، دوسری جانب مخالفین یا تو دبا دیے گئے، یا قتل کر دیے گئے، یا ملک سے فرار ہو گئے۔ ملک میں ہر طرف ہٹلر کی ایس ایس جماعت کے کارکن دندنانے لگے اور جہاں کہیں ہٹلر مخالف کوئی بات سنتے ایسے شخص کو اٹھا لیا جاتا یا قتل کروا دیا جاتا۔ جرمنی بھی میں خوف کا یہ عالم ہو گیا کہ لوگ اکیلے میں بھی ہٹلر کے خلاف کچھ سوچنے یا اس کے کسی اقدام پر تنقید کرنے سے ڈرنے لگے۔

ایسے میں ہٹلر نے ایک عوامی ریفرنڈم کروایا، جس میں عوام سے کہا گیا کہ کیا چانسلر کے پاس مطلق العنان قسم کے اختیارات ہونا چاہئیں کہ پارلیمان یا کوئی اور ادارہ چانسلر کے احکامات پر سوال نہ اٹھا سکے۔ اس ریفرنڈم میں ہٹلر کو زبردست کامیابی ہوئی اور یوں ایک جمہوری طریقے سے منتخب ہونے والے ہٹلر نے جمہوریت کی اساس ہی کے خلاف تمام اداروں کو اپنے تسلط میں لے لیا۔ اس کے بعد جرمنی اور جرمن اداروں کے ہاتھوں جرمن شہریوں، یہودیوں اور ہم سایہ ممالک کی تباہی کا آغاز ہوا۔ لاکھوں یہودیوں کو قتل کیا گیا، نسل کی بنیاد پر ہر ’غیرجرمن‘ کو تیزابی چیمبرز کی نذر کیا گیا، معذوروں کو معاشرے کے لیے ’غیرضروری‘ قرار دے کر ہلاک کر دیا گیا، پیدائشی طور پر جسمانی یا ذہنی معذوری کے شکار بچوں کو تک کو نہ بخشا گیا۔ ایسے میں عوام خود اپنی قسمت چوں کہ اس ریفرنڈم کے ذریعے ہٹلر کو سونپ چکے تھے، اس لیے نتیجہ یہ تھا کہ ہٹلر کے ہر جرم کا الزام جرمن عوام پر آتا رہا اور آج تک جرمن شہری اس دور میں ہونے والے قتلِ عام، انسانیت سوزی اور نسل کشی پر نہ صرف شرمندہ ہیں بلکہ ہرجانہ ادا کر رہے ہیں۔
جمہوریت کی طاقت اس بات میں مضمر ہے کہ اس میں کوئی ایک شخص تمام تر طاقت کا ماخذ نہ بنے بلکہ ہر عہدے، ہر اختیار اور ہر منصب کے ساتھ کئی ادارے وابستہ ہوں، جو چیک اینڈ بیلنس کا کام سرانجام دیں اور کوئی فرد یا ادارہ احتساب سے بالاتر نہ ہو سکے۔ اسی طرح اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت جمہور کی بجائے دستور سے لی جائے۔ کیوں کہ جمہور کی رائے سے آپ کبھی اقلیتوں کا تحفظ ممکن نہیں بنا سکتے اور اس کی کئی مثالیں ہم نے دنیا کے مختلف ممالک میں دیکھی ہیں۔ مثال کے طور پر سوئٹزرلینڈ میں جمہور کی رائے لے کر میناروں پر پابندی عائد کر دی گئی یا عوامی رائے کے تناظر میں فرانس میں برقعے پر پابندی عائد کر کے اسے جرم بنا دیا گیا۔

ایک اور مثال یہ ہے کہ اگر آپ پاکستان میں آج ریفرنڈم کروائیں کیا کہ ملک میں احمدیوں کا خاتمہ کر دیا جائے؟ یا کیا ہندوؤں کو ملک سے نکال دیا جائے، تو عین ممکن ہے کہ عوام کی اکثریت اس کے حق میں رائے دے دے، مگر اس کے باوجود ایسا کوئی عمل نہ صرف انسانیت کے خلاف ہو گا بلکہ دستوری ضمانتوں کے خلاف بھی ہو گا۔

جب ترکی میں جولائی 2016ء میں ناکام فوجی بغاوت ہوئی تو اس وقت ترکی کی تمام جماعتوں اور مجھ سمیت دنیا بھر میں تمام جمہوریت پسندوں کی جانب سے ایردوآن اور ترکی میں جمہوریت کے حق میں آواز بلند کی گئی اور سنگین الفاظ میں اس فوجی اقدام کی مذمت کی گئی۔ اس لیے کہ فوج نے غیردستوری انداز سے ملک کی منتخب حکومت کا خاتمہ کرنے کی کوشش کی تھی۔

مصر میں اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے محمد مرسی کی حکومت کا خاتمہ کیا گیا، تو اس پر مجھ سمیت ہر شخص نے تمام تر نظریاتی اختلافات کے باوجود جنرل السیسی کے خلاف اور محمد مرسی کے حق میں آواز اٹھائی کیوں کہ فوج نے وہاں بھی ملک کی پہلی جمہوری حکومت کا ختم کیا، انقلاب میں درجنوں افراد کی جانوں کے نذرانے کا مذاق اڑایا، ملک میں ایک مرتبہ پھر حسنی مبارک طرز کی امارت قائم کر دی اور جمہوریت کا خاتمہ کر دیا۔

اس لیے یہ کہنا کہ کسی شخص کے ’اسلام پسند نظریات‘ کی وجہ سے اس کی مخالفت کی جا رہی ہے، نادرست بات ہے۔ اب چوں کہ آپ کو سیاق بتا دیا گیا ہے، تو سمجھیے کہ ترک صدر ایردوآن کے ساتھ اختلاف کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ناکام فوجی بغاوت، جس کی مخالفت ملک کی ہر سیاسی جماعت نے کی، ترک عوام سڑکوں پر نکلے اور فوجیوں کو رسیوں سے باندھ کر پولیس کے حوالے کیا، اس کو استعمال کر کے ایردوآن نے بھی اپنے مخالفین کے خلاف آپریشن شروع کر دیا۔ ہر وہ شخص جو ایردوآن کی پالیسیوں کا مخالف تھا، اس پر بغاوت میں شامل ہونے کا الزام عائد کر کے اسے گرفتار کر لیا گیا۔ عدلیہ کے ججوں تک کو حراست میں لیا گیا، ملک میں ہنگامی حالت، جو اب تک نافذ ہے، کے تناظر میں ہزاروں فوجیوں، ججوں، اساتذہ، صحافیوں اور سرکاری افسروں کو نوکریوں سے برخاست کر دیا گیا۔ تمام ایسے میڈیا ہاؤسز جو ملک میں جمہوریت اور دستور کی بالادستی کی بات کرتے تھے تاہم ایردوآن پر تنقید کرتے تھے، انہیں بند کر دیا گیا یا خرید لیا گیا۔
ترکی بھر میں اب خوف کا یہ عالم ہے کہ کوئی ایردوآن کی پالیسیوں سے اختلاف کرے، تو ایردوآن کی جماعت اے کے پی کے حامی اس پر بغاوت میں ملوث ہونے کا الزام عائد کر دیتے ہیں اور اسے بتایا جاتا ہے کہ اسے گرفتار کیا جا سکتا ہے یا اس کی ملازمت ختم ہو سکتی ہے۔ کچھ عرصہ قبل ایردوآن اور ان کے کئی حامیوں کی کرپشن سے متعلق خبر دینے پر کئی صحافیوں کو حراست میں لیا گیا اور اسی طرح ایک ایسے اجلاس جس میں ایردوآن کے متعدد وزیر اسلامک اسٹیٹ یا داعش کو اسلحہ دینے اور اس کے زیرقبضہ علاقوں سے تیل خریدنے سے متعلق بات چیت کر رہے تھے، اس کی خفیہ ویڈیو لیک کرنے پر کئی صحافیوں کو ’دہشت گردی‘ کے الزام کے تحت گرفتار کیا گیا۔
ایسے ماحول میں ایک ریفرنڈم کے ذریعے ملکی دستور کو تبدیل کیا گیا اور تمام تر حکومتی طاقت صدر کے عہدے کو تفویض کر دی گئی۔ یعنی اب ترکی میں جمہوریت کے باوجود صرف ایک شخص کو بے پناہ اختیارات حاصل ہو چکے ہیں اور پارلیمان عملی طور پر صرف ایک کٹھ پتلی کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس کی حیثیت ربر اسٹیمپ سے زیادہ کچھ نہیں۔
ترک عوام کا فیصلہ سر آنکھوں پر تاہم یہ فیصلہ ترکی کو ایک جمہوری ریاست سے ایک جمہوری عمل کے ذریعے عوامی رائے کا ساتھ ایک آمرانہ طرز حکومت والی ریاست میں تبدیل کر سکتا ہے۔ اس لیے ترک عوام کے فیصلے کا مکمل احترام اپنی جگہ مگر بہ طور اس زمین کے باسی اور ترک شہریوں سے بے پناہ محبت کرنے والے انسان کے بہ طور مجھے ان انتخابات کے نتائج کو دیکھ کر یہی احتمال ہو رہا ہے کہ ترکی بالکل اسی راستے پر چل نکلا ہے، جس راستے پر اسی کی دہائی میں پاکستان نکل پڑا تھا۔

ضیاالحق نے اقتدار پر قبضہ ضرور کیا تھا، تاہم پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں نے اس کی اس دستور شکنی کو قانونی جواز دے کر نظریہ ضرورت کے تحت قبول کیا تھا اور ایک ریفرنڈم میں عوام نے ضیاالحق کے حق میں رائے دے کر ضیا کو وہ طاقت دے دی تھی کہ وہ اس ملک کے سیاہ و سفید کا تنہا مالک بن گیا تھا اور اس کا نتیجہ ان پالیسیوں کی صورت میں نکلا جو آج تک پاکستانی قوم بھگت رہی ہے۔ اسی لیے کہا کہ ہم یہ سمجھتے رہے کہ ایک دن پاکستان ترکی بنے گا، جہاں فوج جیسا ادارہ بھی دستور توڑے تو عوام اس کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن جائیں گے، تاہم اب ایسا لگتا ہے کہ ترکی پاکستان بننے جا رہا ہے۔

اس جملے سے جمہوریت اور عوامی رائے کی تکریم پر اس لیے بھی حرف نہیں آتا کیوں کہ جمہوریت ہی ہے، جو ہمیں یہ طاقت دیتی ہے کہ عوامی رائے کو تسلیم کرنے کے باوجود اس پر بھی تنقید کی جا سکتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے کسی عدالتی حکم نامے کو تسلیم کرنا ضروری ہوتا ہے، تاہم اس فیصلے پر تنقید کی جا سکتی ہے۔