تعلیم گاہ سے مقتل بننے تک کا سفر

0
395

عاطف توقیر

میں اس بلاگ سے قبل سوچ رہا تھا کہ حکومت سے اپیل کی جائے کہ وہ مشال خان کے قتل کی تحقیق کرے اور اس میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ پھر سوچا کہ کون سی حکومت اور کون سا قانون؟

ہم بہ حیثیت قوم منافقت کا وہ ڈھیر بن چکے ہیں، جس سے روزانہ مشال خان کے قتل جیسے واقعات کا تغفن پھوٹتا اور ہماری سانسوں کو غلیظ بناتا رہتا ہے۔
منافقت اپنے عروج پر پہنچتی ہے، تو انسان مطمئن منافق ہو جاتا ہے اور ہم شاید اسی سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ بچوں کو جنسی زیادہ کا نشانہ بنانے والا مولوی اسپیکر پر انسانیت کی اصل تکریم کا درست دیتا ہے۔ کتاب سے نابلد شخص بچوں کو تعلیم دینے کا کام سرانجام دیتا ہے۔ ٹریفک سنگل کی ہر سرخ بتی توڑنے والا، دوسرے ڈرائیوروں کے گاڑی لین میں نہ چلانے پر سراپا احتجاج ہوتا ہے۔ کرپشن کے خاتمے کی ذمہ داری سب سے کرپٹ شخص کی دی جاتی ہے، مجرموں کی سرپرستی کرنے والے قانون کی وردیاں پہن لیتے ہیں، بیرونی سرحدوں کو محفوظ بنانے کا کام پر مجبور گھر کے اندر اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دیتے ہیں، عدل کا ترازو تھامنے والے ایک پلڑے میں جذبات کا باٹ رکھ کر انصاف میں کھوٹ ڈال کر شادمان ہیں اور قانون کی حفاظت کرنے والے قانون کو بوٹوں سے روند کر رکھ دیتے ہیں۔ کس سے شکوہ کیا جائے؟ شکایت کس سے ہو؟

 

سارا ملک شدت پسندوں کے ہاتھوں یرغمال بنایا جا چکا ہے۔ ہمارے ہاں وزیراعظم ایسے موقع پر غائب ہو جاتے ہیں اور کسی معاملے پر صدر کا بیان بھی اس وقت سامنے آتا ہے، جب ہم پچھلے بیان سے طویل وقفے کی وجہ سے صدر صاحب کا چہرہ ہی بھول چکے ہوتے ہیں۔

ہمارے وزیرداخلہ چوہدری نثار صاحب (سابق)، خود کالعدم جماعتوں کے چرن چھونے میں مصروف رہتے ہیں۔ اور ان کی ناک کے نیچے ہونے والے ایسے بھیانک اور انسانیت سوز ظلم کا ان سے گلا کرنا ویسا ہی ہے، جیسا کسی پیشہ ور ڈاکو سے واردات کی وجہ پوچھنا۔ پی ٹی آئی سے شکوہ یوں ممکن نہیں کہ یہ ان ہی کی حکومت والے صوبے میں ہوا اور یہ جماعت خود اس سے قبل اس شدت پسندی کو اپنی آشیرباد سے نواز چکی ہے۔ فوج سے شکایت یوں نہیں ہو سکتی کہ اسی کی بنائی ہوئی پالیسیوں ہی کا یہ نتیجہ ہے کہ ملک کا کونا کونا لہولہان ہے اور پاکستانی سرزمین کے قانون اور دستور کی تکریم اس کے لیے کسی بھی صورت ضروری عمل نہیں ہے۔

دکھ انگیزی کی بات یہ ہے کہ اس واقعے میں مرنے والا بھی ظلم کا شکار ہے اور مارنے والا بھی ظلم ہی کا شکار ہے۔ مگر ظٓالم ایک ہی ہے۔ ریاست کی وہ پالیسیوں جو شدت پسندی کو مسلسل ہوا دے رہی ہیں اور نفرت انگیزی کی سرکوبی کے لیے عملے اقدامات کی بجائے زبانی دعوے کرتی ہیں۔

 

اس قتل کے ذمہ دار وہ جنونی ہرگز نہیں جو ایک لہولہان جسم پر لاٹھیاں اور پتھر برسا رہے ہیں اور مردہ وجود پر ٹھوکریں رسید کر کے اپنے ایمان کی تکمیل کر رہے ہیں اور پوری دنیا میں اسلام کا ایک ایسا چہرہ پیش کر رہے ہیں، جس کی نظیر پوری انسانی تاریخ میں کم کم ملتی ہے، بلکہ اس واقعے کا اصل ذمہ دار ہم سب ہیں۔ وہ تمام خاموش افراد جو صرف اس واقعے کی مذمت کریں گے اور اگلے ہی دن سب کچھ بھول جائیں گے۔ ہم سب دکھ کا اظہار کریں گے اور پھر اپنے روزمرہ میں مصروف ہو جائیں گے۔ اس واقعے کی ذمہ دار ریاست ہے، جو جنونیوں کے خوف سے ان کی جڑ کا خاتمہ کرنے میں ناکام ہے۔ اس واقعے کی ذمہ دار حکومت اور تمام سیاسی جماعتیں ہیں، جو توہین مذہب کو بالکل اسی طرح استعمال کرتی آئی ہیں، جیسا ذاتی مقاصد اور مفاد کے لیے یہ پہلے پاکستان کے گلی کوچوں میں استعمال ہوتا رہا اور پھر ٹی وی چینلز پر بیٹھنے والے اینکرز اپنی ریٹنگ بڑھانے کے لیے اس معاملے کو استعمال کرتے رہے۔

خوف کا عالم یہ ہے کہ اس واقعے کی میڈیا کوریج دیکھ کر شرم آتی ہے، جہاں اس بربریت کو اگر مگر میں ڈبو دیا گیا ہے۔ یقنین مانیے کہ اس قتل اور ویڈیو کے منظرعام پر آنے کے بعد دکھ کا اظہار کرنے والے اور اس واقعے کی مذمت کرنے والے اس سے قبل اے پی ایس پر بھی آنسو بہا چکے ہیں۔ مہران اور کامرہ بیس پر حملوں پر بھی دکھ کا اظہار کر چکے ہیں اور بازاروں، مسجد، مزاروں، گرجوں اور عبادت گاہوں میں سینکڑوں افراد کے اسی انداز سے قتل ہونے پر سوگ منا چکے ہیں۔ مگر یہ واقعہ کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں ہے۔ اس واقعے کی بھی ویڈیو سامنے نہ آتی، تو دو چار سطروں والی کوئی خبر یا سوشل میڈیا پر کوئی ایک جملے کا سوگ منا کر یہ معاملہ بھی ختم ہو جاتا۔ ہم اس قوم سے تعلق رکھتے ہیں، جہاں ہمارے ڈیڑھ سو بچے اسی شدت پسندی کے ہاتھوں ذبح ہو گئے، مگر ہمیں بھولنے میں چند ہی روز لگے۔ ہم وہی قوم ہیں، جو دو سانحات کے بیچ کے وقفے کو اپنا سانس درست کرنے اور پھر ایک اور زخم کھانے کی تیاری میں صرف کرتی ہے۔ مشال خان کا قتل کوئی علیحدہ واقعہ نہیں، بالکل شدت پسندی کی ترویج کرتی ہماری سوچ کا واقعہ ہے۔ اور یہ شدت پسندی معاشرے میں پوری ریاستی سرپرستی میں پیدا کی جا رہی ہے۔

جب تک عوام اس ظلم کے سامنے کھڑے ہو کر اس کا مقابلہ نہیں کرتی۔ اپنے تعلیمی نصاب میں تبدیلیاں اور مذہبی جنونیت کو ہوا دینے والے بیانیوں کے خاتمے کا نہیں کہتی، جب تک نفرت انگیزی کو ہوا دینے والی مساجد کا قلع قمع نہیں کرتی، جب تک فرقوں اور مسالک اور نظریاتی اختلاف کی بنیاد پر دوسروں کو کافر، مرتد، غدار اور واجب القتل قرار دینے کے فتوی بازوں کو لگام نہیں دیتی۔ جب تک وہ مذہب کے نام پر قتل عام پر روک نہیں لگاتی اس وقت تک ایسے یا اس سے بھی زیادہ خوف ناک واقعات ہمارا مقدر ہیں۔
اس سے بڑی بدقسمتی کیا ہو گی کہ ایسے قتل پر ہمارے عالم بھی قتل کی جڑ پر بات کرنے کی بجائے صرف واقعے پر جھوٹ کی پٹیاں باندھ رہے ہیں۔ ہر طرح کی شدت پسندی کو ختم کر کے ہی ہم ایک بہتر معاشرے کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔

نفرت انگیزی کی تعریف یہ ہے کہ آپ کسی بھی شخص کو کسی اختلاف کی بنیاد پر سریح غلط قرار دیں اور اس سے انسان ہونے اور زندہ رہنے کا حق ہی چھین لیں۔
اگر آپ کو بھی مشال خان کے قتل کا صدمہ نہیں ہوا؟ اگر آپ کو بھی لگتا ہے کہ یہ قتل ایک جائز عمل تھا؟ اگر آپ کا کہنا ہے کہ کسی شخص کو توہین مذہب یا توہین رسالت کے الزام پر اسی طرح قتل کر دیا جانا چاہیے؟ اگر آپ کو بھی لگتا ہے کہ قانون کو پیروں تلے روند دینا ایک بالکل درست عمل ہے؟ اگر آپ کو بھی لگتا ہے کہ اس قتل کی مذمت کرنے والے بھی کافر اور غدار ہیں؟ تو سمجھ لیجیے قصور آپ کا نہیں، آپ بھی ریاست کی پالیسیوں کی وجہ سے متاثرہ افراد میں سے ایک ہیں۔

جون ایلیا نے کہا تھا کہ دنیا میں دو ہی قومیں آباد ہیں، ایک انسان اور دوسرے انسان دشمن اور دو ہی نظریات ہیں انسانیت اور انسانیت دشمنی۔ آپ اس واقعے پر اپنی رائے سامنے رکھیے اور پھراپنی قوم اور اپنے مذہب کا انتخاب خود کر لیجیے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here