عنایت بیگ

اساتذہ کے عالمی دن پر میں پوری ایمانداری سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں اچھے استاد بہت کم ملے جو پہلے سے بوگس تعلیمی نصاب پر اپنا نقطہ نظر تھوپنے کے بجائے ہمیں آزادی سے سوچنے کی ترغیب دیتے. ان اساتذہ نے نہ صرف ہماری آزاد خیالی کو موقع نہ دیا بلکہ اگر غلطی سے ہم نے اپنی جبلت سے مجبور ہو کر آزاد خیالی کو سامنے لانے کی کوشش بھی کی تو طرح طرح کی جسمانی و ذہنی اذیتوں(سزاوں) سے ہماری تخلیقی صلاحیتوں کو بڑی بے رحمی سے کچل دیا. اور اس سارے عمل میں انہیں اس بات کا کبھی ادراک تک نہ ہو سکا کہ وہ غلط ہیں بلکہ ان کے خیال میں ان کا یہ عمل پوری نیک نیتی پر مبنی تھا تاکہ بچہ ڈنڈے کے خوف سے ہی سہی مگر کچھ سیکھ تو لے. اللہ بھلا کرے عامر خان کا جنہوں نے اپنی ایک فلم (3 idiots) میں کہا کہ ڈنڈے کے خوف سے تو سرکس کا جانور بھی سیدھا ہو جاتا ہے. پھر کیا, تب سے ہم نے طے کیا کہ اساتذہ کے عالمی دن کے موقعے پر جھوٹ نہیں بولیں گے۔

مجھے اپنے ان اساتذہ سے پہلے اس بات کا ادراک ہو چکا کہ بنیادی مسلہ ان اساتذہ میں بھی نہیں بلکہ بنیادی مسلہ تو اس نظام میں ہے جو سکولوں, کالجوں اور یونیورسٹیوں سے نظام کے نوکر پیدا کرنا چاہتا ہے نہ کہ تخلیق کار. ہمارا نظام تعلیم تقلید (follow) کرنے کی تبلیغ کرتا ہے تخلیق کی نہیں. لہذا اس نظام کا کوئی ادنی سا نوکر (استاد) اس جابر نظام کے لئے نوکر (شاگرد) بنانا ترک کر دے اور آزاد خیالی کی تعلیم دینا شروع ہوجائے تو اسے اگلے روز سے یہی تعلیم اسے اپنے کٹیا کی دیواروں کو دینی پڑے گی۔

یہ بوگس نظام تعلیم جب استاد چنتا ہے, نصاب ترتیب دیتا ہے, تعلیم پر دو فیصد بجٹ رکھتا ہے تو پھر تعلیم کا پبلک سیکٹر تباہ ہوجاتا ہے اور پرائیوٹ سیکٹر انتہائی مہنگے داموں پر پبلک سیکٹر سے زیادہ کارآمد نوکر (اساتذہ) چنتا ہے جو مل کر اور زیادہ کاد آمد نوکر (شاگرد) تیار کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہم سب اس نظام تعلیم سے فارغ ہوتے ہے “نوکری” کی تلاش شروع کر دیتے ہیں, یعنی کہ “نوکری” حاصل کرنا ہمارا حتمی مقصد بن جاتا ہے۔

استاد معذور, شاگرد مجبور, نظام جابر….. پھر حل کیا ہے؟ اساتذہ اس ضمن میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں. اساتذہ اور شاگردوں کو مل کر اس نظام تعلیم کو بدلنے کی ضرورت ہے جو سماج کی تخلیقی قوت کا منظم طور پر قتل عام کر رہا ہے. اس نظام کو صرف اساتذہ اور شاگردوں کی مشترکہ قوت ہی بدل سکتی ہے. اس کے لئے ضروری ہے کہ تمام تعلیمی اداروں میں شاگردوں اور اساتذہ کی انجمنیں قائم کیں جائیں. انجمنوں کی تعمیر میں اساتذہ شاگردوں کی نہ صرف حوصلہ افزائی کریں بلکہ مدد بھی کریں. یہ انجمنیں کسی بھی سیاسی تنظیم کی نمائندہ نہ ہوں بلکہ سیاسی جماعتوں کی طلبہ ونگز کی نمائندگی پر مکمل پابندی لگائی جائے. طلبہ کی انجمنیں محص طلبہ کے مسائل کی ہی نمائندہ ہوں. انجمنوں کی تعمیر اس نوکری پیشہ تعلیمی نظام کے بدلاو کا پہلا مرحلہ ہو سکتا ہے. دوسرے مرحلے میں مختلف درسگاہوں کی طلبہ و اساتذہ انجمنوں کے مابین یکجہتی کا باقاعدہ تعلق پیدا کی جائے اور مل کر اساتذہ اور شاگردوں کے مسائل اور سماجی ناہمواریوں (جو نطام تعلیم پر اثرانداز ہوتی ہوں) کے خلاف جدوجہد شروع کی جانی چاہئے۔

انہی انجمنوں سے وہ رہنماء پیدا ہونگے جو تعلیمی اداروں میں جاری تخلیقی صلاحیتوں کے قتل عام کو روکیں گے. تقلید کے بجائے سوال پوچھنے اور اختلاف رائے رکھنے کے کلچرکو فروغ دیں گے. نفرت, جھوٹ اور خوشامد سے بھرے نصاب کو بدل کر سچائی, محبت اور تخلیقیت پر مبنی نصاب کی تشکیل کو یقینی بنائیں گے. تعلیم کو امیر غریب (پبلک سیکٹر اور پرائیوٹ سیکٹر) میں تقسیم نہیں کریں گے بلکہ سب کے لئے تعلیم کا حصول آسان اور یکساں بنائیں گے. ایک شاگرد دوست تعلیمی نظام کے تعمیر کو ممکن بنائیں گے پس ایک انسان دوست سماج کی تعمیر کے لئے اہم حصہ ڈالیں گے۔

اور اگر یہ سب باتیں آپ کو خیالی (آئیڈیل) یا ناممکن لگتی ہیں تو پاکستانی سیاست بالخصوص نظام تعلیم میں طلبہ انجمنوں کے تعمیری کردار کو سمجھنے کے لئے ضیاءالحق کے دور میں طلبہ یونین پر لگنے والی پابندی کی وجوہات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔