مہناز اختر

سرزمین شام سے آنے والی اندوہناک خبروں اور تصاویر نے دل پر لرزہ طاری کررکھا ہے مگر یہ کیفیت نئی تو نہیں بس کچھ دنوں پہلے ہی روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر ماتم کرکے فارغ ہوئے تھے ۔ نجانے کیوں اقوام عالم خصوصاً ‘ہنود و یہود و نصاری ‘ مسلمانوں کے خون کے پیاسے ہیں ؟ معصوم ‘مسلمان’ بچوں پر بھی رحم نہیں کھاتے ظالم ! یہاں غوطہ آگ اور خون میں نہایا ہوا ہے اور ان بے غیرتوں کو اپنی ماں (سری دیوی) کی وفات کا غم منانے اور کرکٹ میچ سے فرصت نہیں۔ “جاگو مسلمان جاگو خواب غفلت سے تم پر جہاد فرض ہوگیا ہے” ،”یہ ظالم اسلام کا نام و نشان مٹانا چاہتے ہیں کیونکہ اسلام دین حق ہے اور انہیں مسلمان ایک آنکھ نہیں بھاتے” (یہ ہیں وہ چند اظہاریے اور بیانیے جو ہمیں آج کل دیکھنے اور سنے کو مل رہے ہیں)۔

وسطی ایشیاء زمانہ قدیم سے میدان جنگ بنا ہوا ہے اور بدقسمتی سے قرون اولی کے مسلمانوں نے عربوں اور فارسیوں کےقدیم جنگی جنون کو گود لے کراسے اسلام کا حصہ بنا دیا اور آج یہ بڑی طاقتوں بشمول ایران وعرب کے لیئے وسائل پر قبضہ کی جنگ اور خطہ میں بالادستی کا تنازعہ ہے ۔ ارض موعود کی مذہبی چنگاری نے صورتحا ل کو مزید بھیانک بنا دیا ہے۔ یہودی، مسیحی اور مسلمان تینوں ہی جذبہ ایمانی سے سرشار ہیں تو امن کا عنقا ہونا اچھنبے کی بات نہیں ۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ دنیا میں ہر جگہ جنگ کو ایمان اور حب الوطنی کا جزو بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور جنگ وہ واحد شعبہ ہے جو سماجی ارتقا کے سفر میں تنزّلی کا شکار ہے ۔ انسانی جانوں کا ضیاں اور املاک کا نقصان کم ہونے کے بجائے بڑھتا جارہا ہے اورآج عراق و شام زمین پر دوزخ کا منظر پیش کررہے ہیں۔
خیر روہنگیا مسلمانوں کے معاملے میں تو ہماری بدعائوں کا کیس اس لیئے مضبوط ہوگیا تھا کہ وہاں مدّمقابل قوم غیر مسلم تھی تو چاہے عملی طور پر ہم نے روہنگیا کی بحالی اور آبادکاری میں کوئی مدد کی ہو یا نہ کی ہومگر اقوام اغیار کو بدعائیں دینے کا فریضہ ہم نے کھل کر ادا کیا، جہاد کی دعوت بھی دی گئی اور جہاد کے نام پر چندے بھی اکھٹا کیئے گئے مگر بدھسٹ برمیوں کو بدعائیں دیتے ہوئے ہم وہ دن بھول گئے جب طالبان کے ہاتھوں افغانستان اور پاکستان میں گوتم بدھ کے مجسمے مسمار کیئے گئے تھے اور ہم نے اسے ظلم اور تنگ نظری کے بجائے دین اسلام کی سربلندی قرار دیتے ہوئے غیر مسلم پاکستانیوں کو مذہبی تعصب اوراجارہ داری کا پیغام دیا تھا اور اس وقت ہم اس حقیقت کو بھی فراموش کر بیٹھے تھے کہ بدھسٹ اکثریتی ممالک میں بسنے والوں مسلمانوں پر اسکے کیا اثرات مرتّب ہونگے۔

آج دنیا میں ہرجگہ انفرادی اور اجتماعی طور پر مین اسٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پر بشارالاسد کی فوج اور اتحادیوں کی جانب سے کی گئی تباہی کی مذمت کی جارہی ہے مگر پھر بھی ہمیں دنیا سے شکوہ ہے اور ہمیں اس بات کا غصہ بھی ہے کہ پاکستانی میڈیا سری دیوی کی وفات پر غم زدہ کیوں ہے۔ عراق، یمن اور شام کی سرزمین پر قرون اولی سے لے کر اب تک دین و مسلک کے نام پر ہم مسلمانوں نے کم قہر ڈھائے ہیں جوآج ہمیں روس اور امریکہ سے شکایت ہے۔ مسلم ممالک سے گھرا وطن شام سعودی عرب اور ایران کی رسہّ کشی میں جہنم بن چکا ہے اور ہم یہودی سازش کا رونا رو رہے ہیں۔

اکثر دیکھا گیا ہے کہ ناعاقبت اندیش مسلمانوں کی طرف سے اسلام کو “انسانیت کے رد” طور پر استعمال کیا جاتا ہے مثال کے طور پر جب کبھی طالبان ، داعش ، بوکوحرام یا مسلح مذہبی تنظیمموں کی طرف سے ظلم وجبر پر مبنی کوئی کاروائی ہوئی تو ہم اسے جہاد اور نفاذ شریعت قرار دیتے ہیں۔ جب مسلمان دہشتگرد تنظیمیں دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والی خواتین کو جنسی غلام بنا کر انکی منڈیاں لگائیں تو مذمت کے بحائے ہم اس مکروہ عمل کو قرآن وحدیث سے ثابت کرنے کی کوشش کرنے لگے ۔ ہم اپنے ملک میں غیر مسلموں کے مذہبی آزادی کے حقوق سلب کر کے پوری دنیا سے اسلام اور مسلمانوں کی تکریم کا جمہوری تفاضہ کرتے ہیں۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی انسانی حقوق کی بات ہوتی ہے ہم “پہلے اسلام ” کا نعرہ لگا کر یہ تاثر دیتے ہیں کہ جیسے اسلام اور انسانیت ایک دوسرے کی ضد ہوں۔ مجھے حیرانی اس بات پر ہے کہ قتال (جہاد) اور مذہبی و مسلکی منافرت کا شوق رکھنے والی پاکستانی قوم کو شام سے آنے والی جنگی تباہ کاریوں کی تصاویر پر اس قدر حیرانی کیوں ہے ؟ جنگ تو بھیانک تباہ کاریوں کا دوسرا نام ہے تو تعجب کیسا ؟

شاید میں ایمان کی کمی کا شکار ہوں ، تبھی غم مسلماں سے زیادہ غم انسانیت میں مبتلا ہوں اور بربریت کے مناظر دیکھ دیکھ کر میرے اعصاب اس قدرمضبوط ہو چکے ہیں کہ میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے مناظر پر ہیجان میں مبتلا ہونے کے بجائے انسانی تاریخ کے ان اوراق کو پلٹنے لگتی ہوں جہاں مذہب کے نام پر انسانی ظلم اور بربریت کی داستانیں بھری پڑی ہیں یا عالمی سیاست، حالات حاضرہ اور سماجی نفسیات کا جائزہ لے کر اور اس نتیجہ پر پہنچتی ہوں کے مجموعی طور مسئلہ انسانی ہے اور تکریم انسانیت ناپید ہوتی جارہی ہے اور انسانیت خطرے میں ہے۔ آج مسلمانو ں کو تکریم انسانیت کا گم گشتہ سبق ” الخلق عیال اللہ ” پھر سے دہرانے کی ضرورت ہے جس کے مطابق تمام بنی نوع انسان ایک خاندان ہیں اور دنیا میں مسلمانوں کے علاوہ دیگر اقوام بھی بستے ہیں ۔ اگر ہمیں شام کے مظلوموں کا غم ہے تو ہمیں کوئی حق نہیں پہنچتا کے ہم سری دیوی کی وفات پر انہیں یا انکے ہم مذہبوں کو جہنم کے سرٹیفیکٹ تقسیم کریں ۔ آج دنیا ہمارے اسی متعصبانہ رویے سے نالاں ہے اور مسلمان دنیا کی آبادی کا بڑا حضہ ہونے کے باوجود بھی حاشیہ پر کھڑے نظرآتے ہیں۔

1 COMMENT

  1. انسانییت جہاں پر بھی مظلومییت کا شکار ہو ہم ظلم کی مزمت کرتے رہیں گے۔ بہت کم لوگوں کو علم ہے کہ مجاہدین با الفاظ دیگر امریکی۔سعودی اور عرب ممالک کی پراکسی کا آخری پڑاو غوتہ ہے۔ پچھلے ۵ سال سے حکومت شام کوی کاروای اس لیے نہیں کر رہی تھی کہ معصوم لوگ مارے جا ییں گے جنہیں ان مجاہد گرپوں نے ڈھال بنا رکھا تھا اور شہر سے باہر نہیں جانے دے رہے ان حالات میں آج بھی۔ اب شاید اسد نے فیصلہ کر دیا ہے جو لاس ہو سو ہو مگر ان مجاہیدین کے آخری مرکز کو ختم کرنا ہے۔ اسی لیے شاید اقوام متھدہ سشمول امریکہ سب کی چیخیں نکل رہی ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here