مہناز اختر

 

ٹی وی پر مسلم لیگ ن کے امیدوار کے نوعمر بیٹے سالار الاسلام کو اپنے والد کی الیکشن مہم چلاتے دیکھا تو اس بچے کے پیچھے حمایتیوں کی فوج دیکھ کر یہ بات سمجھ آگئی کہ پاکستانی عوام درحقیقت کمّی کمین ہیں جن پر طبقہ اشرافیہ کے سیاستدانوں کی نسلیں حق حکمرانی لکھوا کر پیدا ہوئیں ہیں .کہتے ہیں کہ سائیں تو سائیں, سائیں کا کتا بھی سائیں تو پاکستانی عوام کی اوقات حقیقتاً سائیں کے کتے جتنی بھی نہیں ہے. یہاں ان جاگیرداروں اور پیروں کی اولادیں اور رشتہ دار سیاست کا حق محفوظ کراچکے ہیں. بالا ہی بالا عوام کی قسمت کا فیصلہ کردیا گیا ہے اور مجھ جیسے لوگ بے وقوفوں کیطرح ایک ترقی پسند عوام دوست پاکستان کا خواب دیکھ رہے ہیں۔

جس عمر میں پاکستان میں غریب کے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی ہوتی ہے,،ان کے ہاتھ کاٹے جاتے ہیں، ان سے اینٹوں کے بھٹوں پر جبری مزدوری کرائی جاتی ہے، جہاں گھریلوں ملازمت کے نام پربچوں کو فروخت کردیا جاتا ہے، وہاں یہ لڑکا سینہ تانے باپ کی الیکشن مہم چلا رہا ہے اور پھر ہم سوال کرتے ہیں کہ ہماری تنزلی کی وجوہات کیا ہیں۔ پاکستان میں الیکشن کا موسم آتے ہی پاکستان کے سیاستدانوں کے چہرے سے نقاب اترنے لگا ہے۔ الیکشن ایک جمہوری عمل ہے لیکن پاکستان میں یہی الیکشن جاگیرداروں، وڈیروں، سرداروں،  پیروں اور سجادہ نشینوں کے درمیان اقتدار کا دنگل ہے۔ اس بار بھی تمام بڑی پارٹیوں نے ٹکٹ کی تقسیم کے معاملے اقرباء پروری اور برادری پرستی کی تمام حدیں پھلانگ دیں ہیں، اس بار بھی پیروں نے بالا ہی بالا اپنے مریدوں کے ساتھ ساتھ قوم کی قسمت کا فیصلہ بھی کرلیا ہے اور مخصوص شخصیات کی حمایت کا اعلان الیکشن سے پہلے ہی کیا جاچکا ہے۔

سال 2018 میں جہاں دنیا خلاء کی تسخیر کا خواب دیکھ رہی ہے وہاں پاکستان شدید قسم کے پانی کے بحران کا سامنا کررہا ہے اور مون سون کی آمد پر قوم اس سوچ میں غرق ہے کہ اگر برساتی نالوں کی صفائی نا ہوئی تو شہروں میں اربن فلڈ کا خطرہ ہے۔ پاکستانی روپے کی قدر میں خطرناک حد تک کمی آچکی ہے۔ FATF نے پاکستان کو دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے والے ممالک کی گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ دے دیا ہے اور اس کے نتیجے میں لگنی والی پابندیوں کے اثرات بھی عوام کو ہی بھگتنے ہوں گے مگر آج بھی پاکستان میں دہشت گرد تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد الیکشن میں شان سے حصّہ لے رہے ہیں۔ آج بھی پاکستان میں “ووٹ دو جنت لو” کے نعرے چل رہے ہیں اور آج بھی الیکشن جیتنے کے لیئے عوامی خدمت اور کارکردگی کی نہیں مزاروں میں حاضری کا ٹوٹکہ چلتا ہے۔ آج بھی پاکستان کی مذہبی جماعتیں الیکشن جیتنے کے لیئے اسلام کا نام استعمال کرکے MMA کے جھنڈے کے نیچے اکھٹی کھڑی ہوسکتی ہیں۔

پاکستان کے قیام کو سات دہائیاں گزر چکی ہیں۔ قیام پاکستان سے قبل ہی یہ طے ہوچکا تھا کہ اسلام کے نام پر بننے والی مسلمانوں کی علیحدہ ریاست ایک “اسلامی جمہوریہ ” ہوگی جہاں کے شہریوں کو مساوی انسانی حقوق حاصل ہونگے۔ مغلیہ حکومت کے خاتمے کے بعد ہندوستان مکمل طور پر تاج برطانیہ کی کالونی بن ہی چکا تھا مگر ساتھ ساتھ یہاں برطانیہ کی طرز پر سیاست کا چلن بھی عام ہونے لگا تھا۔ ہندوستان کی عوام تقسیم ہند سے قبل ہی ووٹ اور کثرت رائے کی طاقت سے آگاہ ہو چکی تھی۔ دو عالمی جنگوں کی تباہی کے اثرات برطانیہ اور ہندوستانی معاشرے پر اتنے گہرے تھے کہ آزادی کی پرتشدد تحریکوں کے بجائے سیاسی تحریکوں نے تاج برطانیہ کو ہندوستان کی آزادی کے لیئے قائل کرنے میں مدد کی۔ اسی وجہ سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کا قیام کسی جہاد (قتال) کے بجائے ایک سیاسی جدوجہد اور جوڑتوڑ کے نتیجے میں عمل میں آیا۔ تو پھر ایسا کیا ہوا کہ غیرمنقسم ہندوستان کی پروان چڑھتی سیاسی ثقافت تقسیم کے بعد ہندوستان میں تو خوب پھلی پھولی اور اسے دنیا کی سب سے بڑی سیکولر جمہوریہ قرار دیا جانے لگا۔ اسکے بالکل برعکس وہی سیاسی اور جمہوری ثقافت پاکستان میں نسل پرستوں، سرداروں، وڈیروں، آمروں، جرنیلوں، پیروں اور ملاؤں کے ہاتھوں یرغمال بن کر اپنا وقار کھو بیٹھی اور اشرافیہ کے گھر کی لونڈی بن گئی۔

آزادی کے چند ابتدائی سالوں میں ہندوستان نے بحیثیت جمہوریہ عوامی مفادات میں کئی انتہائی اہم اقدامات کیئے جس کے نتیجے میں ریاست اور جمہوریت مضبوط ہوئی اور جاگیرداریت کا خاتمہ ہوا۔ سن 1949 میں بابا صاحب امبیڈکر کی سربراہی میں ہندوستان کا دستور لکھا گیا تھا جسے اتفاق رائے سے قبول کرکے سن 1951 میں لاگو کردیا گیا۔ اس کے بعد Zamindari Abolition Act of India 1951 لایا گیا جسنے زمین ,اسکے وسائل اور اس پر بسنے والے انسانوں کو صدیوں سے قائم جاگیردارانہ استحصال کے چنگل سے نکالنے میں ریاست کی مدد کی اور بعد ازاں 1957 میں دولت کے ارتکازاور عوامی اثاثہ جات پر ریاست کی گرفت رکھنے کے لیئے Wealth Tax act 1957 لایا گیا .اسکے برعکس پاکستان میں دستور کا قیام ,زمینی اصلاحات اور ٹیکس کے نظام سے پہلوتہی کرکے اشرافیہ کو پھلنے پھولنے کا موقع دیا گیا . کاش کہ پاکستان میں دستور کے نفاذ اور لینڈ ریفارمز پر توجہ دی جاتی تو آج پاکستان کی حالت مختلف ہوتی . دوسری جانب پاکستان میں اثاثہ جات پر چیک اینڈ بیلنس کا کوئی ٹھوس نظام آج تک مرتب نا ہوپایا جسکے نتیجے میں دولت کے ارتکاز نے معیشت کا توازن بگاڑ کر رکھ دیا . اگر ہم نے انڈیا کی طرح Wealth tax پر توجہ دی ہوتی یا پھر زکوۃ کے نظام کو بہتر بناکر سرکار کی نگرانی میں لیا ہوتا تو شاید آج پاکستان مسائلستان کا نقشہ پیش نا کررہا ہوتا۔

غیر منقسم ہندوستان کے سیاسی پنڈت مولانا ابوالکلام آزاد پاکستان کے مستقبل کا حال اسکے قیام سے پہلے ہی بیان کرچکے تھے کیونکہ قائداعظم نے جن لوگوں کے ساتھ مل کر پاکستان بنایا تھا وہ سب سندھ کے وڈیرے, پنجاب کے جاگیرار اور سرحد کے سردار تھے .یہ وہ اشرافیہ تھا جسے خلافت عثمانیہ کے خاتمہ کے بعد دنیا میں ابھرنے والے جمہوری نظام سے خوف آرہا تھا . سندھ, پنجاب اور سرحد کی جاگیردار اشرافیہ کو دنیا میں مقبول ہونے والے سوشلسٹ انقلاب سے خطرہ تھا .انہیں ڈر تھا کہ ہندوستان میں ہمارے پرکھوں کا قائم کردہ جاگیرداری نظام اس نئے انقلاب کے بعد زمین بوس ہوجائے گا. اسلیئے انہوں نے قائداعظم کا ساتھ دیا. قائداعظم خود تو گجراتی کمیونٹی سے تعلق رکھتے تھے . گجراتی اور میمن فطرتاً تاجر اور مسافر ہوتے ہیں زمین کی محبت انہیں زمینی خدا بننے پر مجبور نہیں کرتی. اسلیئے گجراتیوں کے مزاج میں چوہدراہٹ بہت کم دکھائی دیتی ہے کیونکہ یہ کمیونٹی فطرتاً کاروباری ہے اسلیئے عام طور پر گجراتی بیک وقت مذہبی اور لبرل ہوتے ہیں لیکن قائداعظم کے آس پاس جو اشرافیہ تھی وہ انہیں لوگوں پر مشتمل تھی جنکی اولادیں اور رشتہ دار آج تک ہم پر حکومت کررہے ہیں۔

اسی اشرافیہ نے پاکستان میں جعلی جموریت کو فروغ دے کر سیاست کو یر غمال بنائے رکھا. پاکستان کی آبادی کا 60 فیصد سے زائد حصّہ دیہی علاقوں پر مشتمل ہے اور دیہی آبادی کا عام ووٹر کسی نا کسی جاگیردار یا سجادہ نشینوں کے گزیر اثر ہے یا پھر الیکشن میں برادری کو سپورٹ کرنے پر یقین رکھتا ہے. دیہی آبادی شہری آبادی کے مقابلے میں زیادہ ناخواندہ ہے اور معاشی طور پر جاگیردارانہ نظام کے ماتحت ہے. اس ملک میں کوئی بھی مثبت تبدیلی کیسے آسکتی ہے جبکہ یہاں عوام کی اکثریت اشرافیہ کی غلامی کو نفسیاتی طور پر قبول کرچکی ہے. آج ہم پاکستان میں حقیقی جمہوریت کی بحالی کا خواب تو دیکھ سکتے ہیں مگر جاگیرداریت, آمریت اور اکثریت پرستی کی غلیظ تہوں میں دھنسی اس حقیقی جمہوریت کو باہر آنے میں کافی وقت لگے گا۔