عابد حسین

دوسری جنگِ عظیم میں جب جاپان شکست کے دھانے پہچا تو ایڈمرل یاماکاشیرو نے فتح حاصل کرنے کے لیے ایک جنگی حربہ سوچا اور اس پہ عمل کرتے ہوئے مختلف شہروں سے کم عمر نوجوانوں کو منتخب کیا انہیں جہاز اڑانے کی تربیت دی گئی۔ دورانِ تربیت ان جوانوں کو خود کش حملوں کے لیے بھی تیار کیا گیا ۔ بہت کم وقت میں ٹریننگ مکمل ہوئی اور انہیں جنگی مشن پہ بھیجا جانے لگا یہ جوان بارود سے بھرا جہاز اڑاتے اور امریکی بحری بیڑوں پر جا کر گرا دیتے۔ نتیجتاً خود سمیت بحری بیڑے اور اس پر موجود امریکی فوجی بھی لقمہء اجل بنتے۔ جاپانی قوم ان جوانوں کو کاما کازی جوان کہتی ہے اور انہی کاما کازیوں کے حملوں کی وجہ سے امریکہ نے جنگ کی بدلتی صورتحال یعنی شکست پر قابو پانے کے لیے آخری ہتھیار ایٹم بم سے حملہ کر دیا۔ اور پھر 16 اور 19اگست 1945کو ہیرو شیما اور ناگا ساگی پر ہونے والے اس حملے کے نتیجے میں لاکھوں انسان ۔ حیوان پرندے حشرات ایک لمحے میں جل کر زہریلی فضا میں بخارات بن کر مل گئے۔

اس بڑے نقصان کے بعد جاپان کے نئے جنرل میکارتھر نے اپنی شکست کو دیکھ کر ماضی میں کیے فیصلوں پر غور کیا۔ غلطیوں کی نشاندہی کی گئی۔ پھر ویسا نہ کرنے کا عزم کیا گیا۔ کاما کازی پیدا کرنے کی بجائے سائنسدان انجینئرز دانشور پیدا کرنے کو ضروری سمجھا۔

تعلیمی نصاب اور درس گاہوں پر خصوصی توجہ دی ایسے معلم بھرتی کیے جنہوں نے آنے والی نسلوں سے جنگی جنون ۔ انتقامی سوچ کو ختم کرنے پر کام کیا اور یوں جاپان کو تھوڑے عرصے بعد خونی خول سے باہر لا کھڑا کیا جس کے نتائج یہ ہیں کہ آج جاپان میں لڑائی کو ختم کرنے کے لیے ایک جاپانی کہاوت ۔ آپس میں کبھی نہ جھگڑنا مل جل کر کام کرنا ۔ سنا کر صلح کر لی جاتی ہے۔ اکانومی کے لحاظ سے جاپان دنیا کی صفِ اوّل کی طاقتوں میں شامل ہے ۔

جاپان کا سال بھر میں پبلش ہونے والا تحقیقاتی مواد مسلم ممالک میں پبلش ہونے والے مواد سے زیادہ ہے۔ جاپان کے ایک شہر کے ائیر پورٹس کی ایک دن کی آمدن پاکستان کے تمام ائیر پورٹس کی سال بھر کی آمدن سے زیادہ ہے۔ امریکی حملوں کا درد اپنے دل میں رکھنے کے باوجود بھی وہ زبان اور عملی لحاظ سے اظہار صرف دوستی کی صورت میں کرتے ہیں۔

ہیرو شیما ناگاساگی میں امن میوزیم بنا لیے ہیں۔ اور یوں اس کاما کازی فکر کو غلطی سمجھا اور اسےترک کرکے دنیا بھر میں اپنی اچھی پہچان بنا لی ہے۔ دوسری طرف ہم (پاکستان ہندوستان) ہیں کہ جہاں دونوں طرف کی عوام بنیادی ضروریات تک سے محروم ہے ۔
دونوں اطراف میں روزانہ بچے خوراک نہ ہونے کی وجہ سے مر رہے ہیں۔ پینے کے پانی کو ترس رہے ہیں ۔ ادویات تک میسر نہیں ہیں ۔ مناسب رہائش نہیں ہے۔ مگر دونوں ممالک کے زیادہ تر قیمتی وسائل صرف دفاعی پالیسیوں کی نذر ہو رہے ہیں ۔ اور جاہلانہ جنون کا ایسا مقابلہ ہے جو ہر وقت جاری ہے ذہنوں سے خونی اور جنگی جنون ہے کہ کم ہوتا نظر نہیں آتا۔

نصابی کتابیں ہوں۔ سینما سکرین ہو یا کچھ اور۔ بگڑے بچوں کی طرح منہ چڑانے اور تضحیک کا کوئی موقع ضائع نہیں ہونے دیا جاتا ۔ کاش کہ اس منہ بنانے کے بعد خود(نتائج) کو دیکھ سکتے تو اپنی حالت سے خود خوف کھا جاتے۔

دونوں طرف کا حال ان دو دوستوں کی طرح ہوچکا ہے جنہوں نے جنگل میں موجود ایک خوفناک جگہ کے بارے میں سن رکھا تھا اسے دیکھنے جا پہنچے کہ جہاں جگہ جگہ انسانی کھوپڑیاں اور ہڈیاں بکھری پڑی تھیں دونوں کے ذہن میں سوال آیا کہ آخر یہاں ہرطرف انسانی ڈھانچے کیوں بکھرے پڑے ہیں یہاں ایسا کیا ہوا ہوگا۔ یہ کیسے مرے ہونگے ۔ انہیں کس نے مارا ہوگا۔ کوئی حادثہ ہوا ہوگا یا کونسی غلطی کی ہوگی ۔

دونوں نے جواباً ایک دوسرے سے متضاد رائے بیان کی ۔ بات بڑھنے لگی تم غلط ہو میں صحیح ہوں کی تکرار ہونے لگی ۔ تکرار نازیبا بحث کی صورت ہونے لگی۔ بحث کے بعد ہاتھا پائی شروع ہوگئی وہیں پڑی ہوئی ہڈیوں سے ایک دوسرے کو مارنے لگے اور لہو لہان ہو گئے جب نیم جان ہوکر گرے تو دونوں کی نظریں سروں پر منڈلاتی بھوکی گِدھوں پر پڑیں اب تک دونوں ان گِدھوں سے بے خبر تہے جو دونوں کے بہت قریب آ چکی تھیں اور تعداد میں اتنی تھیں کہ ان سے بچنا ممکن نہیں تھا۔ ان گدھوں کو قریب آتا دیکھ کر اب دونوں کو اندازہ ہو چکا کہ اس پرانے عبرت کدے میں ہڈیوں اور کھوپڑیوں کا کیا ماجرا ہے مگر وقت گزر چکا تھا دونوں بے سدھ پڑے تہے اور گدھیں۔ زحمت تمام شد کہانی کا نتیجہ یہ تھا کہ گِدھیں حفاظت کرنے نہیں بلکہ ماس نوچنے کو اترتی ہیں۔

ابھی بھی وقت موجود ہے ایک دوسرے سے تعاون کرنے اور برداشت کرنے میں ہی دونوں طرف کی عوام کے لیے بہتری ہے۔ جاپان کے حالات سے ہمارے لیے بہت کچھ سیکھنے کو ہے اور بہترین دوستانہ تعلقات کو قائم کرکے اپنے وسائل اپنی عوام پہ لگانے کا فیصلہ اب بھی ممکن ہے جس سے دونوں طرف کی عوام خوشحال ہوسکتی ہے. زندگی کو آسان بنا سکتے ہیں ۔ دونوں ممالک کی غربت اور محکومی ختم ہو سکتی ہے۔ موجودہ وقت کے چیلنجز کو دونوں مل کر حل کر سکتے ہیں اور مسائل ختم نہ سہی کم ضرور ہو سکتے ہیں۔ اور نہیں تو دوسری صورت میں بصارت سے دیکھیں تو دنیا میں عبرت کدے بھی ہمارے سامنے موجود ہیں اور سروں پہ منڈلاتی گِدھیں بھی۔