حیدر راجپر

سماجی کارکن جبران ناصر سیاسی میدان میں پہلی مرتبہ 2013 کے الیکشن میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے اترے ، اس الیکشن میں انہوں نے صرف اڑھائی سو ووٹ حاصل کئے ؛ اور حال ہی میں 25 جولائی 2018 کو جو الیکشن ہوئے ان میں ایک بار پھر آزاد امیدوار کی حیثیت سے کھڑے ہوئے اور چھ ہزار ووٹ حاصل کئے ، لیکن ایک مرتبہ پھر انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

ان کو صرف الیکشن میں جیتنا ہوتا تو الیکشن کیمپئن کے دوران جب انتہاپسندوں کے ہجوم نے ان کا گھیراؤ کیا اور انہیں احمدیوں کو کافر کہنے کا کہا تو وہ “احمدی کافر” کا نعرہ لگا لیتے اور دیگر سیاستدانوں کی طرح مذہبی چورن بیچتے تو یقیناً اس وقت ایم پی اے یا ایم این اے ہوتے۔

مگر جبران کی سیاست کسی کمزور طبقے کو گالی دینا نہیں بلکہ بلاتفریق ہر انسان کے حقوق کی بات کرنا ہے۔

میں نے ایک وڈیو دیکھی جس میں وہ ووٹ ڈالنے پولنگ اسٹیشن کی جانب جا رہے تھے تو چند لوگ پیچھے سے نعرے بازی کرتے ہوئے یہ کہہ رہے تھے کہ “قادیانی ہارے گا”، مگر جبران کے چہرے پر پھر بھی مسکراہٹ کی تتلیاں اڑ رہی تھیں اور وہ پیچھے مڑ کر ان لوگوں کو “فلائنگ کس” کر رہے تھے ، ایسے میں ایک بچہ قریب سے گزرا اور نعرہ لگایا “جبران جیتے گا” ؛ اس وقت مجھے یہ یقین ہوگیا تھا کہ یہ سر پھروں کے قبیلے کا سپاہی ، جیتے یا نہ جیتے مگر ہارے گا نہیں اور نوجوان نسل کا لیڈر ضرور بنے گا۔

جہاں انتہاپسند لوگ جوق درجوق سیاسی دھارے میں شامل ہو رہے ہیں ، وہاں ایک سیکولر شخص کا سیاسی میدان میں آنا نیک شگون ہے۔

جبران نے الیکشن میں ناکامی کے بعد ” عام عوام ” تحریک کا آغاز کیا ہے ۔ یہ تحریک جنگ ہے ان زمینی خداوں کے خلاف ، جو انسانی حقوق کو اپنے قدموں کے نیچے رکھے ہوئے ہیں ۔ یہ تحریک جنگ ہے ان تعصب پرستوں کے خلاف جو مذہب ، رنگ ، نسل ، زبان ، قوم اور جنس کی بنیاد پر شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہے ہیں ۔ دیگر سیکولر لوگ بھی اس جنگ میں جبران کا ساتھ دیں تو یقیناً مستقبل قریب میں یہ بڑے پیمانے پر تبدیلی ثابت ہوگی ۔