عفاف اظہر، ٹورونٹو

ہر انسان کی شخصیت میں ایک اہم چیز اس کی باڈی لینگویج ہوتی ہے۔ یعنی جسم کی زبان، ہر جسم کی اپنی ایک زبان ہوتی ہے، جو حالات و واقعات، سانحات و افعال پر غیر ارادی رد عمل ظاہر کرتی ہے، جیسے ایک کنفیوزڈ  یا ابہام کا شکار انسان اکثر غیر ارادی طور پر اپنے ہاتھ ملنے لگتا ہے، تو پریشانی میں اس کی نوعیت کوئی نہ کوئی دوسرا زاویہ دیکھا رہی ہوتی ہے۔ میں نے بہ طور ماہرِ نفسیات انسانی حرکات و سکنات کا تفصیلی مطالعہ کیا ہے۔ میری نگاہ میں خوشی، غم ، پریشانی، ابہام یا کنفیوزن بنیادی انسانی جذبات ہیں، جن کی عکاسی وجود خود بہ خود کرتا ہے۔ ہاں مگر جرم کی عکاسی ایک گھمبیر موضو ع ہے، جو انسانی نفسیات کا گہرا علم مانگتا ہے اور جنس اسی انسانی نفسیات کا ایک اہم ترین باب ہے، جسے کسی طور نظر انداز کرنا خود کو دھوکا دینے کے مترادف ہے۔

جنسی ضروریات کی ذرا سی کمی بیشی انسانی نفسیات پر براہ راست اثر ڈالتی ہوئی، اس کے جسم کی زبان بھی بدل دیتی ہے۔ جنس تو ویسے ہی  انسان کی زندگی میں اتنا اہم موضو ع ہے کہ اس کے ذکر سے ہی اکثر غیر ارادی طور پر جسم کی زبان اندر کا احوال خود بہ خود بتانے لگتی ہے۔

 

وجود کی زبان کو مغرب کی عملی زندگی میں کسی نہ کسی طور پر میدان میں کامیابی سے بہ خوبی استعمال کیا جا رہا ہے، جیسے کسی بھی مجرم کا اقبال جرم کرواتے ہوئے جب اس کو تفتیشی محکمے کے اہلکاروں کے ساتھ بٹھا کر براہ راست سوال و جواب کیے جاتے ہیں، اس کا جرم اگلوانےکی بھرپور کوشش کی جاتی ہے، تو اس کارروائی کے دوران جرائم کی نفسیات کے ماہرین بھی وہاں درپردہ موجود ہوتے ہیں، جو مجرم کی ہر ہر حرکت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس کے منہ سے نکلتے ہر ہر لفظ کا اس کے جسم کی زبان سے موازنہ کرتے ہیں،  اس کے بات کرنے کے انداز، ہر سوال پر اس کا بہ ظاھر ارادی اور غیر ارادی طور پر ردعمل اور اس ساتھ ہی باڈی لینگوچ کا بہ غور مشاہدہ کیا جاتا ہے  اور یہ سب مشاہدات  ایک طرف ماہرین کو  مجرم کی نفسیات سمجھنے میں مدد دیتے ہیں تو دوسری جانب اس نفسیات کو  سامنے رکھ کر قوانین میں مزید  بہتری کے لیے نئی ترامیم کی راہیں بھی ملتی ہیں۔

 یہ موضو ع کل میرے ذھن میں بےاختیار اس لیے آیا کہ مولانا خادم حسین رضوی کی زینب کے کیس میں صحافیوں سے ہوتی مڈ بھیڑ میں نگاہ سے گزری۔ ایک صحافی کے سوال پر کہ مدرسوں میں بھی تو بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات ہوتے ہیں، وہاں کیوں شور نہیں مچایا جاتا ؟ سوال اور مولوی خادم حسین رضوری کے ڈھٹائی پر منبی جواب سے قطعہ نظر میری نظر اس وقت  مولانا کی باڈی لینگویج پر تھی اور  میں بہ غور مشاہدہ کر رہی تھی۔

لطف کی بات یہ تھی کہ گو کہ مولانا صاحب کی زبان حسب معمول اپنی کمال ڈھٹائی پر ڈٹی تھی، مگر ان کے جسم کی زبان کلی طور پر ان کی زبان سے نکلتے ہر ہر لفظ کی کھلی تردید کر رہی تھی اور یہ منافقت کی ایک ا علیٰ ترین اسٹیج ہے یعنی ان کا اپنا دل بھی اس وقت یقینی طور پر  چور ہی تھا۔ صاف الفاظ میں کہوں تو جسم کی زبان کا تھوڑا سا بھی علم رکھنے  والوں کے لیے اس لمحے یہ سمجھنا بہت آسان تھا کہ وہ خود یا تو ایسے معاملات میں ملوث رہے ہیں یا اندرونی طور پر انہیں نادرست نہیں مانتے۔

انسان کا وجودکوئی مذاق ہرگز نہیں، ہاں مگر ہمارے ہاں ایک مذاق ضرور سمجھا جاتا ہے مگر جو احباب نفسیات اور جسم کے باہمی ربط کو سمجھتے ہیں اور باڈی  لینگوئج کا تفصیلی مطالعہ کر چکے ہیں ان کے لیے ایسے معاملات میں ایسی نام نہاد شخصیتوں کے اصل کردار کو سمجھنا بہت آسان ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here