احسن علی

فرد کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی ایسے مقصد (نظریے) کا حامل ہو کر زندگی گزارے جس کا حصول اس کی زندگی میں بے شک ممکن نہ بھی ہو لیکن وہ درجہ با درجہ ہر لمحہ اپنی زندگی میں اسے حاصل کر رہا ہو۔ کیونکہ اگر وہ اپنی زندگی میں زندگی کا مقصد پا لیتا ہے تو اس کی بقیہ زندگی بے معنی ہو جاتی ہے۔ یہ اصول افراد پر ہی نہیں بلکہ عمومی طور پر سماج اور سماج میں جنم لینے والی تمام تحریکات پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ مثلا اگر کوئی تحریک محض اپنے مطالبات پورے کروانے کہ بعد دم توڑ دیتی ہے تو یہ اس تحریک کی کامیابی نہیں ناکامی ہو گی۔ لیکن اگر تحریک کے نتائج آگے بڑھنے کا لائحہ عمل واضع کریں تو اس تحریک کو زندگی ملے گی۔

گزشتہ امن مارچ کے دوران جس طرح ریاستی انتظامیہ نے نہتے مظاہرین پر گولیاں برسائی اور جس کے نتیجے میں آزادی کے متوالے اور دھرتی کے بیٹے نعیم بٹ نے جام شہادت نوش کی تو اس سارے عمل میں کچھ بھی انوکھا نہیں تھا۔ یہ وہی کردار تھا جس کی توقع کسی بھی ظالم ریاست سے کی جا سکتی ہے۔ مگر یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ مظلموں کے پاس پوری انسانی تاریخ میں دو ہی ہتھیار رہے ہیں جن کے ساتھ انہوں نے بڑی بڑی ظالم طاقتوں کا خاتمہ کیا ہے۔ ایک ان کی جان ( وجود ) اور دوسرا ان کا نظریہ ( حکمت عملی اور منصوبہ بندی )۔ جانیں تو ہم پچھلی چھے دہائیوں سے قربان کر رہے ہیں اگر کسی چیز کی کمی ہے تو وہ آخر الذکر کی۔

کسی بھی ظالم ریاست میں ظلم کے اثرات اس کے ہر فرد پر پڑتے ہیں۔ مگر عوام کو ریاست کے مظالم کا ادراک تب ہوتا ہے جب ریاست کی سفاکی کھل کر سامنے آتی ہے۔ اور یہی وہ وقت ہوتا جب عوام کے ترقی پسند طبقے پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ آگے بڑھ کر عوام کی مختلف پرتوں میں اپنی جگہ بنائیں۔ عوام کے جملہ مسائل کی بخثوں کو عام کریں اور انفرادی مسئلے کو اجتماعی ثابت کر کے عوامی طاقت کو اپنا زور بازو بنائیں۔ اس وقت ریاستی مفادات کے مخافظ مفاد پرست طبقے کے علاوہ تقریبا ہر ایک کی ہمدردیاں دھرنے والوں کے ساتھ جڑی ہیں۔ لیکن عوام ابہام کا شکار ہے اس لیے کھل کر قوم پرستوں کا ساتھ نہیں دے رہی۔

دھرنے کے منتظمیں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس وقت جو بھی سیاسی طاقت ان کے پاس موجود ہے اس کو منظم طریقے سے استعمال کر کے جسٹس فار نعیم بٹ کمیٹی کے پلیٹ فارم سے عوام کی مختلف طبقوں (جو ہماری اصل طاقت ہیں) مثلا ڈرائیوروں، قصائیوں، کارپنٹروں، مزدوروں، حجاموں، درزیوں، موچیوں ، تاجروں، سرکاری ملازموں، پرائیویٹ اداروں سے وابستہ افراد ، کالجوں، سکولوں ، یونیورسٹیوں اور مدارس کے طالب علموں اور دیگر تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سے رجوع کریں۔

دھرنے کے پلیٹ فارم سے عوامی مسائل کو جلسوں، چوکوں، چوراہوں میں بیان کرنے اور حل کروانے کی روایت ڈالی جائے اور اپنے عمل سے یہ یقیں دہانی کرائی جائے کے جسٹس فار نعیم کی تحریک جسٹس فار کشمیری عوام تک نہیں رکے گی۔

اس دوران مختلف طبقوں میں موجود داخلی اور خارجی اختلافات (خصوصا تاجر طبقہ ) کو بڑے مقصد کو پیش نظر رکھ کر حل کروانے کی کوشش کی جائے۔ اور اس سارے عمل کے دوران انتظامیہ پر پریشر بدستور بڑھایا جائے۔ تاجروں کو گلگت بلتستان کی طرز پر ٹیکس موومنٹ چلانے پر رضامند کیا جائے۔ اور اسی طرح دیگر شعبہ ہائے زندگی میں موجود لوگوں کو اپنے مسائل حل کرنے کے لیے اجتمائی جدوجہد پر آمادہ کیا جائے۔
کسی بھی ترقی پسند تحریک کو لیڈ کرنے والوں کے لیے ضروری ہے ان کا شعور عوامی شعور سے بلند ہو اور یہ فکری بلندی مخض زبانی جمع خرچ تک محدود نہ ہو بلکہ عوامی تحریکوں میں فیصلہ سازی کے دوران عملی طور پر دکھائی بھی دے۔ مثلا نعیم بٹ کی شہادت کے معاملے کا ہی اگر تجزیہ کیا جائے تو دراصل اس شہادت کی وجہ امن مارچ بنی اور امن مارچ کی وجہ آئے روز لائن آف کنٹرول پر ہونے والی گولہ باری کی وجہ سے متاثرہ عوام کے مسائل کی جدوجہد تھی۔ یعنی نعیم بٹ کی قربانی کا اصل مقصد قابض افواج کے ذریعے دونوں اطراف کی کشمیری عوام کے استحصال کا خاتمہ تھا۔ اپنے آغاز میں یہ عمل ترقی پسند بھی تھا اور بارڈر کے قریب موجود عوام کی امنگوں کا ترجمان بھی مگر جب اس عمل نے نتائج پیدا کیے اور فیصلہ لینے کا وقت آیا کہ تحریک کو مزید آگے کیسے بڑھایا جائے تو اس وقت لیے گئے فیصلوں نے تحریک کے معیار کو اوپر اٹھانے کے بجائے نیچے گرا دیا۔

اس کو یوں سمجھا جائے کہ موجودہ عوامی شعور کا تقاضہ یہ ہے کہ کسی بھی تنازعے میں مظلوم کو انصاف ملے اور مجرم کو سزا (مجرم ڈی سی ، ایس پی ، وزیر اعظم یا کوئی عام فرد ہو فرق نہیں پڑتا ) ۔ مگر انقلابی شعور کے تقاضے مختلف ہوتے ہیں انقلابی شعور نہ صرف عوامی شعور سے بلند ہوتا ہے بلکہ عملی تحریکوں کے دوران عوام کے شعور کو بلند کرنے کا بھی کام کرتا ہے۔ یعنی نعیم بٹ کوئی عام مظلوم نہیں تھا جو ذاتی تنازعے کی بنا پر ہلاک ہوا ہو بلکہ نعیم بٹ نے اس دھرتی پر جان نچھاور اس لیے کی ہے کہ بارڈر پر آباد عوام سکھ کی زندگی گزار سکیں نعیم بٹ کی قربانی کا مقصد کشمیر کی آزادی اور خود مختاری ہے۔ ان بلند مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے محظ یہ مطالبہ کرنا کہ ڈی سی اور ایس پی کو معطل کیا جائے یہ نعیم بٹ کی قربانی کے ساتھ ناانصافی ہے۔ ہمارا کم سے کم یہ مطالبہ ہونا چاہیے کہ لائن آف کنٹرول پر آئے روز جاری کشدگی کو ختم کرنے کے لیے ہندوستان اور پاکستان ایک مشترکہ کمیشن تشکیل دیں جو اسباب اور وجوہات کا جائزہ لے کر جلد از جلد اس جارحیت کو ختم کرنے کا طریقہ کار وضع کریں اور اس ضمن میں مخض بھارت اور پاکستان کے نمائندوں پر اعتماد نہ کیا جائے بلکہ دونوں اطراف کی کشمیری قوم پرست قیادت کو بھی اس کا فریق بنایا جائے۔ اس عمل سے کشمیری قوم پرست نہ صرف اپنی سیاسی تحریک کو عوامی مسائل کے ساتھ جوڑنے میں کامیاب ہوں گے بلکہ بین الاقوامی طور پر مسئلہ کشمیر کو دو فریقی معاملہ بنا کر جس طرح کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو مجروح کیا گیا ہے۔ یہ عمل اس فیصلے کی بھی بیخ کنی کرے گا اور کشمیریوں کی بین الاقوامی تشخص کی بحالی کی طرف پہلا قدم ہو گا۔

مندرجہ بالا اہداف کا حصول زبردست عوامی حمایت کے بغیر ممکن نہیں۔ اور عوام کسی تحریک کے ساتھ اس وقت تک نہیں جڑتی جب تک تحریک ان کے ذاتی مسائل سے نہ جڑی ہو۔ اس لیے کمیٹی کے لیے ضروری ہے کہ عوامی رابطہ مہم کا آغاز کرے۔ عدالتوں کا رخ کیا جائے( جہاں انصاف کے متلاشی سالوں سے غلط دروازے پر دستک دے رہے ہیں ) اور ان مظلوموں کے مسائل کے حل کے لیے درست پلیٹ فارم کی نشاندہی کی جائے، ہسپتالوں کا رخ کیا جائے جہاں لوگ اپنی صحت کی بنیادی ضروریات کے حصول کے لیے ذلیل و رسوا ہو رہے ہیں، گورنمنٹ کنٹریکٹ ملازمیں سے ملاقاتیں کی جائیں خواہ وہ محکمہ تعلیم میں ہوں ، محکمہ پولیس میں یا پھر کسی اور سرکاری ادارے میں ہوں، سی ایم ایچ کے ملازمین کی تحریک کو دوبارہ شروع کروانے کی کوشش کی جائے، یونیورسٹی اور کالجوں کے طلبہ کے فیسوں اور ڈگریوں کے مسائل کو ایجنڈے کا حصہ بنا کر طلبہ کو اپنی طاقت بنایا جائے، ٹرانسپورٹرز سے رابطے بنائے جائیں اور ان کے حالیہ مسائل کی روشنی ان کو ایک مضبوط پلیٹ فارم مہیا کر کے ان کی جدوجہد کو مزید تیز کیا جائے، لوڈشیڈنگ اور ٹیکس کے مسائل جن سے براہ راست تاجر طبقہ متاثر ہوتا ہے ان مسائل کو بھی ایجنڈا بنا کر تاجر طبقے کے ذریعے تحریک کو تقویت دی جائے، تاجر طبقے کو بلخصوص ٹیکسسز کے ذریعے ہونے والے معاشی استحصال کا شعور دیا جائے اور قابض ریاست کی جانب سے عائد ناجائز ٹیکسسز کے خاتمے کی تحریک کا آغاز کروایا جائے، اس کے علاوہ سماج کے اندر یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل طلبہ اور عرب ممالک سے واپس آئے ہوئے بے روزگار لوگوں کی ایک بہت بڑی فوج موجود ہے جن کا ہر دن ایک نفسیاتی اور معاشی اذیت میں گزر رہا ہے ان لوگوں سے رابطے قائم کر کے ان کے مسائل کے حل کے لیے سیاسی حکمت عملی وضع کی جائے۔ اور اس عمل کے دوران عوام کی سیاسی تربیت کر کے یہ باور کروایا جائے کے طاقت کا سرچشمہ صرف اور صرف عوام ہیں۔ اور کسی بیوروکریٹ اور وزیر کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی کرسی کے نشے میں ان کی تقدیر کے غلط فیصلے کرے۔ یہ دھرتی ہماری ہے اور اس پر فیصلے کرنے کا حق بھی ہمارا ہے اور اگر کوئی پاکستانی ریاست کی طرف سے نامزد ملازم یہ سمجھتا ہے کہ ہماری تقدیر کے فیصلے وہ اپنے آقائوں کی مرضی سے کرے گا اور اس کو کوئی پوچھنے والا نہیں تو یہ اس کی بھول ہے۔

اگر جسٹس فار نعیم کمیٹی دھرنے کے اختتام پر مندرجہ بالا نتائج اخذ کر لیتی ہے تو یقين مانیے نعیم بٹ کی قربانی تحریک آزادی کشمیر میں ایک قدم آگے ہو گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here