مہناز اختر

میرے گزشتہ مضمون “خلافت اور جمہوریت” پر کچھ قارئین نے یہ اعتراض کیا کہ میں ایک اسلامی نظام پر کسی غیر اسلامی نظام کو ترجیح دے رہی ہوں تو ایسی صورتحال میں میرا فرض ہے کہ میں مذکورہ موضوع سے متعلق اپنی رائے کو مزید مدلل طریقے سے پیش کروں کیونکہ جمہوریت سے نفرت یا بیزاری کی بڑی وجہ دونوں نظاموں سے عدم واقفیت ہے۔

جمہوریت یونانی لفظ ڈیموس کریٹوس کا اردو ترجمہ ہے اسکے معنی “عوامی حکومت” کے ہیں ( عوام Demos ,طاقت Kratos ) یہی لفظ انگریزی میں democracy ہے ۔ یہ لفظ دوسرے یونانی لفظ ارسطوکریشیا (اشرافیہ کی حکومت) کا متضاد ہے۔ aristos کے معنی اعلی کے ہیں اور انگریزی میں یہ لفظ Aristocracy ہے ۔ پانچ سو سال قبل مسیح یونان کے شہر پولس میں پہلی مرتبہ عوام نے یونان میں صدیوں سے چلنے والی ارسطوکریسی کے خلاف جدوجہد کی ۔ اس وقت پچاس ہزار کے قریب لوگوں نے براہ راست رائے دہی کے ذریعے اپنا سربراہ عوامی طریقے سے منتخب کیا اور صدیوں سے قائم ملوکیت اور ارسطوکریسی کے نظام کا خاتمہ کرکے عوامی حکومت قائم کی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب یونان میں حق حکمرانی ایپیٹرڈ اور اسپارٹین نسل کے لوگوں کو حاصل تھا جو اعلی اور افضل نسل کے انسان کہلاتے تھے اور انہیں God (رب, اعلی و ارفع ) کا مقام حاصل تھا۔

بلکل ایسے ہی زمانہ قدیم میں مخصوص نسل کے لوگوں کو خدا کا محبوب اور برگزیدہ تصور کیا جاتا تھا جیسے شام میں بنی اسرائیل اور ہندوستان میں براہمن طبقہ خود کو منتخب کردہ اور اعلی تصور کرتے تھے ۔ انہی طبقات کی مذہبی اور ریاستی معاملات پر اجارہ داری تھی۔ مصر اور فارس میں بادشاہ خود کو (رب کے معنوں) God کہلواتے تھے۔ عربی زبان میں پالنے والے یا مالک کو “رب” کہتے ہیں ۔ اسی طرح سرمایہ دار کو “رب المال” اور گھر کے سرپرست کو “رب البیت” کہا جاتا ہے۔ المختصر یہ کہ ہم ڈیڑھ ہزار سال قبل کے ایسے عالمی تمدن کی بات کررہے ہیں جہاں انسانیت اعلی اور ادنیٰ طبقات میں تقسیم تھی ۔ حکومت پر اعلی طبقات کا حق تھا اور اس وقت کسی بھی جمہوری نظام کا کوئی وجود نہ تھا ۔ یونان اور مصر کے حاکم خداؤں سے تو آپ واقف ہونگے ۔ حکمراں خود کو خدا یا خدا کا نمائندہ خصوصی کہلواتے تھے انکا کھانا پینا, پہنا اوڑھنا اور تمام تر اطوار عام لوگوں سے مختلف تھے اور وہ پرتعیش زندگی بسر کیا کرتے تھے۔

خلافت کا تصور قرآن ںے ایک ایسے عرب معاشرے میں پیش کیا جو حسب, نسب ,اعلیٰ وادنیٰ کے معاملے میں نہایت حساس تھا۔ ایسے میں رسول اللہ نے انسانیت کو یہ پیغام دیا کہ “تمام انسان ایک ماں باپ کی اولاد ہیں اور برابر ہیں کسی کو کسی پر رنگ و نسل کی بنیاد پر کوئی برتری حاصل نہیں۔ اللہ نے انسان کو زمین پر اپنا نائب بنایا ہے ۔حاکم اللہ کا غلام اور عوام کا نگران ہے۔ تمام شئے اللہ کی ملکیت ہے اس میں کسی کا کوئی حصّہ نہیں۔ حاکم عوام کو جوابدہ ہے” یہی وجہ ہے کہ ہم رسول اللہ اور خلفاء راشدین کو زمانہ خلافت میں عوامی نمائندے کی حیثیت سے دیکھتے ہیں ۔ عوام جیسا لباس, عوام جیسی خوراک ,نشست و برخاست۔ اس خلافت میں بلال حبشی اور عثمان غنی میں اعلی اور ادنیٰ کی کوئی تمیز نا تھی سب برابر تھے۔ اس خلافت میں معاملات مشاورت کے ذریعے طے کیئے جاتے تھے اور اختلاف کو جگہ دی جاتی تھی۔

کسی بھی ریاست کی بنیادی اساس اسکا دستور ہے۔ ہم نے اکثر لوگوں کو کہتے سنا ہے کہ ” دستور کوئی آسمانی صحیفہ تھوڑی ہے جسکا احترام ہم پر فرض ہو” دستور وہ عمرانی معاہدہ ہے جو کسی ریاست میں بسنے والی تمام اقوام کے درمیان تعلق کو استوار کرتا ہے مثلاً اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اگر ایک لمحہ کو فرض کرلیا جائے کہ مسلمانوں کو متحد رکھنے کے لیئے قرآن وسنت کافی ہے تو یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دوسری غیر مسلم قوموں کو آپ کیسے ریاست سے وفاداری کا پابند کریں گے یا دوسرے ریاستی معاملات میں کیسے معاہدات طے کریں گے ؟ لازماً آپ کو ریاست کو مربوط کرنے کے لیئے چند قراردادوں کی ضرورت پیش آئیگی۔ اسی مسئلے کے حل کے لیئے جمہوری ریاست اتفاق رائے سے ایک دستور بناتی ہے ۔ دستور ریاست اور اسکے شہریوں کے درمیان ایک عہد نامہ ہے اور عہد کی حیثیت اسلام میں کسی طور پر بھی صحیفہ مقدس سے کم نہیں۔ سن 622 ء میں رسول اللہ کی سرپرستی میں مسلمانوں اور یہود قبائل کے درمیان پہلا عمرانی معاہدہ “میثاق مدینہ” ( دستور مدینہ ) طے پایا۔

میثاق مدینہ کی چند دفعات :
1- مدینہ میں قائم ریاست کے سربراہ رسول اللہ ہونگے اور یہودی بھی آپ کی قیادت و سیادت تسلیم کریں گے۔
2- یہودی اور مسلمانوں کے درمیان کسی قسم کے اختلافات کی صورت میں رسول اللہ کا فیصلہ حتمی ہوگا۔
3- سیاسی و ثقافتی معاملات میں یہودیوں کو مسلمانوں کے برابر حقوق حاصل ہوں گے۔
4- یہودیوں کو مذہبی آزادی ہوگی۔
5 – تمام مہاجرین کو ہر معاملات میں ایک قبیلہ کی حیثیت دی گئی جبکہ انصار کے قبائل کو پرانی شکل میں تسلیم کیا گیا۔ مسلمان آپس میں امن و اتحاد قائم رکھیں گے جو اسلام کی بنیاد ہے۔ اگر ان میں کوئی اختلاف ہو تو رسول اللہ کا فیصلہ حتمی ہوگا۔
6- مدینہ کا دفاع مسلمان اور یہودی مل کر کریں گے۔

اب جن حضرات کو یہ لگتا ہے کہ جمہوریت کبھی اسلامی نہیں ہوسکتی تو میرا مشورہ ہے کہ وہ پاکستان کے دستور کا مطالعہ کریں اور دیکھیں کہ پاکستان کا دستور کس قدر اسلامی ہے۔

پاکستان کے دستور کی ایک مختصر جھلک :
آرٹیکل 1- 1: مملکت پاکستان ایک وفاقی جمہوریہ ہوگی جسکا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہوگا جسے بعد ازیں پاکستان کہا جائیگا۔
آرٹیکل 2 : اسلام پاکستان کا مملکتی مذہب ہوگا۔
آرٹیکل 4- 2- ب: کسی شخص کے کوئی ایسا کام کرنے میں ممانعت یا مزاحمت نہ ہوگی جو قانوناً ممنوع نہ ہو۔
آرٹیکل 4-2- ج: کسی شخص کو کوئی ایسا کام کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا جسکا کرنا قانوناً ضروری نہ ہو۔
آرٹیکل 20 – ا : ہر شہری کو اپنے مذہب کی پیروی کرنے, اس پر عمل کرنے اور اسکی تبلیغ کرنے کا حق ہوگا۔
آرٹیکل 20 – ب: ہر مذہبی گروہ اور اسکے ہر فرقے کو اپنے مذہبی ادارے قائم کرنے,برقرار اور انکا انتظام کرنے کا حق ہوگا۔
آرٹیکل 25 – 1: تمام شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں اور قانونی تحفظ کے مساوی طور پر حقدار ہیں۔
آرٹیکل 41 -1 :پاکستان کا ایک صدر ہوگا جو مملکت کا سربراہ ہوگا اور جمہوریہ کے اتحاد کی نمائندگی کرے گا۔

مدینہ کی پہلی اسلامی ریاست اور خلافت نبوی اسلام کے زریں اصولوں اور مختلف بین الاقومی معاہدات پر قائم تھی۔ رسول اللہ کی پوری زندگی جمہوری طرز فکر پر استوار دکھائی دیتی ہے۔ کہیں کوئی زور زبردستی اور آمریت کا شائبہ بھی نا تھا پھر چاہے وہ حجر اسود کی تنصیب نو کا معاملہ ہو یا سن 590 ء میں قبائل قریش کے درمیان ہونے والا معاہدہ “حلف الفضول” ہو جسمیں رسول اللہ بھی شامل تھے ۔ آپ ہر جگہ مشاورت کو پسند فرماتے اور عوامی مفادات کو ترجیح دیا کرتے تھے۔ آپ نے نبوت و خلافت میں ہمیشہ فقر اور سادگی کو اختیار کیا اور عوام کے درمیان عوامی زندگی کو پسند فرمایا اور اشرافیہ کی حکومت کے تصور کو اپنے عمل سے باطل قرار دے دیا۔ آپ کے بعد خلفائے راشدین بھی آپ کے ہی نقش قدم پر چلے اور خلافت کے اندر جمہوریت کے مزاج کو زندہ رکھا مگر بدقسمتی سے بعد میں یہی خلافت ملوکیت ,آمریت اور ارسطوکریسی میں تبدیل ہوتی چلی گئی ۔

مایوس کن بات یہ ہے کہ آج پاکستان میں سعودی ملوکیت کو خلافت کا نمونہ تصور کیا جاتا ہے اور اس کے مقابلے میں پاکستانی جمہوریت کو باطل کا نظام قرار دیا جاتا ہے۔

(آئندہ مضمون میں جمہوریت کے اندر موجود ارسطوکریسی اور اکثریتی اجارہ داری پر بات ہوگی)