وقاص احمد

وہ دونوں پورے دو مہینے بعد آئے تھے۔ آخری دفعہ کی گرما گرم سیاسی بحث میں ہم اپنے اپنے خیالات اور نظریات کی تلواریں سونتے ایک دوسرے کو گھائل کرنے کی کوشش کرتے رہے جو ہمیشہ کی طرح بے نتیجہ رہی۔

میں انتخابات کے اگلے دن سے ہی ان کا انتظار کر رہا تھا۔ بتاتا چلوں کہ یہ دونوں میرے بہت اچھے دوست ہیں۔ میرے خیالات تو کوئی ڈھکے چھپے نہیں مگر ان دوستوں میں سے ایک پکا انصافیہ اور دوسرا ایک ایسا خود ساختہ “غیر جانبدار” بندہ ہے جس کا واضع جھکاؤ فوجی اقتدار بلواسطہ تحریک انصاف کی طرف ہے (یہ والی کیٹیگری مارکیٹ میں 2-3 سال پہلے ہی نمودار ہوئی ہے)۔

خیر بات چیت شروع ہوئی، ظاہر ہے وہ دونوں بہت خوش تھے اور میں الیکشن کی انجینئرنگ کرنے والے انجنئیرز پر برانگیختہ۔
انصافی دوست پنجابی میں طنزیہ انداز میں بولا، “ہاں جی فیر؟؟ ہن ووٹ نوں عزت دینی اے؟؟”

میں نے جواب دیا “سرکار ووٹ کی عزت پر تو دو رائے ہیں ہی نہیں۔ مسئلہ تو یہ ہے کہ جنہوں نے کبھی ووٹ کو عزت نہیں دی انہوں نے اس دفعہ بھی ووٹ کو بوٹوں تلے روند دیا”.

وہ تنک کر بولا “اب کہہ دو دھاندلی ہوئی ہے، یہ تاریخ کے سب سے زیادہ شفاف الیکشن تھے۔”

میں بولا “بس اتنا فرق پڑا ہے کہ پچھلی دفعہ دھاندلی کہنے والے اور تھے اور شفاف کہنے والے اور، یہ بھی الگ بات ہے کہ پچھلی دفعہ الیکشن سے پہلے، الیکشن کے دوران اور الیکشن کے ایک سال بعد تک کسی کو دھاندلی کا خواب بھی نہیں آیا جب تک پرویز مشرف کے گرد قانون کا گھیرا تنگ نہیں ہوا تھا اور یہاں تو یہ شور پچھلے ایک سال سے مچا ہے”۔

بحث طول پکڑتی گئی، “غیر جانبدار” دوست بولے “فوج کو اقتدار کے کھیل سے باہر رکھنے کے لیے سیاستدانوں کی پرفارمینس ضروری ہے”۔

میں بولا “سر جی جن کو آئین کی حرمت اور اپنے ہی حلف کی پاسداری کی قسم اقتدار کے کھیل سے باہر نا کرسکی ان کو پرفارمینس کیا باہر کرے گی؟”

بولے ” یہ سیاستدانوں کی ہی نالائقیاں ہیں جو ان کو آگے آنے پر مجبور کرتی ہیں”۔

میں نے دست بدستہ عرض کہ “حضور اگر جرنیلوں نے ہی کچھ گل کھلائے ہوتے تو بندہ پرفارمینس پر بات کرتا اچھا لگے۔ ان کے ہر دور میں کوئی نا کوئی جنگ چھڑی، پاکستان کا رقبہ کم ہوا، معیشت کی تباہی پھری دریا ہاتھ سے نکل گئے، کسی پرائے کے پھڈے میں عبداللہ دیوانے کی طرح پاکستان کو نچوایا گیا تمام اداروں، جس میں خود ان کا اپنا ادارہ شامل ہے کی تباہی اپنے عروج کو پہنچی اور پاکستان ہر دفعہ 10-20 سال پیچھے چلا گیا. آپ کوئی ایک سیاسی حکمران ایسا گنوا دیں جس سے پاکستان کی سالمیت، اسکی جغرافیائی حدود، اسکی معیشت یا اس کے سٹریٹیجک مفادات کو کوئی زک پہنچی ہو؟”

انصافی بھائی غصے سے بولے “یہ فوج کہاں سے آگئی، فوج کی گودوں میں پلنے والوں سے آج یہ برداشت نہیں ہو رہا کہ کوئی عوامی لیڈر آگیا ہے۔”

اس بات پر تو میرے خود ساختہ غیر جانبدار دوست اور میرا قہقہہ ہی چھوٹ گیا، ہم دونوں اتنا ہنسے کہ انکھوں سے پانی نکل آیا۔ خود ساختہ غیر جانبدار دوست نے انکھیں پونچھتے ہوئے بولے “عوامی لیڈر؟؟؟”

اور پھر ہم دونوں کی ہنسی چھوٹ گئی۔ اتنا ہنسنے پر انصافی دوست کا غصہ بجا تھا، سو بھڑک کر طنزیہ انداز میں بولے کہ پھر ٹینکوں کے نیچے لیٹنے والے کدھر گئے؟؟ نعرے تو بہت لگ رہے تھے یہاں اور ایک پتہ تک نا ہلا۔

میں بولا، یار تم دونوں مانو یا نا مانو، پاکستان میں جمہوریت مضبوط ہوتی چلی جارہی ہے۔

غیر جانبدار دوست حیرت سے بولا کہ یہ کیسی مضبوطی، انہوں نے جیسا نتیجہ چاہا ویسا بنا کر رکھ دیا، یہی بات تجزیہ نگار پچھلے سال سے کہہ رہے ہیں کہ اگلے الیکشن میں ایک معلق حکومت بنوائی جائے گی اور وہ بن گئی تو پھر کدھر کی مضبوطی۔

میں نے کہا کہ “دیکھ یار، اگر ایک جمہوری وزیراعظم کو راستے سے ہٹانے کے لیے ریٹائر جرنیلوں، انٹیلیجنس ایجنسیاں، سپریم کورٹ کے 5-6 جج، نیب کا سربراہ، ڈگڈگی پر ناچنے والی سیاسی جماعتوں، واٹس ایپ والی جے آئی ٹی، خفیہ دھمکی امیز کالوں، انتہا پسند مولویوں،کفر کے فتووں، غداری کے سرٹیفکیٹوں، ملی مسلم لیگوں، تحریک لبیک اور پاک سر زمین پارٹیوں، درجنوں ٹی وی چینلز کے بیہودہ پروپیگنڈوں کی بھرمار اور سوشل میڈیا پر کروڑوں روپے کی انوسٹمنٹ سے مچائے جانے والے طوفان بدتمیزی کے بعد بھی اگر پولنگ والے دن ساڑھے تین لاکھ فوج لگا کر رزلٹ بنوانے پڑ جائیں تو اس کے مطلب ہے کہ پیروں تلے سے کافی زمین نکل چکی۔ باقی بھی نکل جائے گی، جلدی کس بات کی؟”

تو پڑھنے والے پیارے بھائی لوگو ترکی جیسی مثالوں سے نا تو غصہ میں آیا کریں اور نا ہی زیادہ جذباتی ہوا کریں۔ تاریخ کے شعور سے بے بہرہ لوگ یہ نہیں جانتے کہ ترکی کو یہ بیماری 1923 میں لگی تھی اور جان چھوٹتے چھوٹتے لگ بھگ ایک صدی لگ گئی۔ ہمیں ابھی اتنا وقت نہیں گزرا اور ہم نے بہت بہتری کا سفر کر لیا ہے۔ ہاتھ میں آیا استرا تو بندر بھی نہیں چھوڑتا تو یہ سوچنا عبث ہے کہ جس کے ہاتھ بندوق ہو وہ کھربوں روپے کے کاروبار اور ملک کے ہر اختیار پر بلا شرکت غیرے قبضہ ایسے ہی چھوڑ کر اپنے اصل کام تک محدود ہو جائے گا۔ دھیرج رکھیں جناب، اس الیکشن کے بعد آنے والے ٹویٹوں والی سرکار کے ایک بے تابانہ ٹویٹ اور وڈی سرکار کے اس بیان کہ “ہم نے دشمن کو ووٹ سے شکست دے دی” سے صاف نظر آتا ہے کہ اس دفعہ پسینہ ماتھے پر نہیں بلکہ دانتوں تلے آیا ہے