عاطف توقیر

کور کمانڈر پشاور کا کہنا ہے کہ منظور پشتین “ہمارا ہی بچہ” ہے اور اس کے مطالبات میں سے جو جائز ہیں، ان پر بات ہو سکتی ہے۔ جنرل صاحب یقیناً خود ہی بہتر بتا سکیں گے کہ کون سے مطالبات جائز نہیں ہیں، مگر یقیناً لاپتا افراد کی واپسی یا ماورائے عدالت قتل کے واقعات یا آرمی پبلک اسکول کی دہشت گردانہ کاروائی کی آزاد تحقیقات یقیناً “ناجائز” کام ہوں گے۔

اس سے قبل ڈی جی آئی ایس پی آر ایک پریس کانفرنس میں منظور پشتین اور پشتون تحفظ موومنٹ کا نام لے کر ایک ایسا مطالبہ تک خود سے گڑھ چکے ہیں، جس نے منظور اور تحریک دونوں کے خلاف زبردست پروپیگنڈا اور من گھڑت بات کہہ کر عوامی جذبات کو ان کے خلاف کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔
تمام تر مطالبات کو صرف نظر کر کے انہوں نے راؤ انور کی گرفتاری کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ تحریک چیک پوسٹوں کے خاتمے کا مطالبہ کر دہی ہے، حالاں کہ مطالبہ تھا “چیک پوسٹوں پر مقامی افراد سے عزت سے پیش آنے” کا۔ پشتون تحریک کے اس مطالبے کا مقصد یہ تھا کہ مقامی افراد کی تذلیل نہ کی جائے، معمولی غلطی یا قطار توڑنے پر مرغا بنانا، کان پکڑوانا اور اس جیسے توہین آمیز رویے کا مظاہرہ کرنا روکا جائے اور چیک پوسٹوں پر خواتین اہلکار بھی موجود ہوں جو مقامی خواتین کی چیکنگ کا کام سرانجام دیں۔

خیر جنرل صاحب کے اس بیان کو درست سمجھ کر بہت سے دوستوں نے توپوں کے دھانے منظور پشتین اور تحریک کی جانب کر لیے، اس دوران وہ چیخ چیخ کر اپنے مطالبات دہراتے رہے مگر بعد میں کون سنتا ہے۔ ہمیں ہر جانب یہی نعرہ سننے کو ملا کہ چیک پوسٹیں ختم کرنے کا مطالبہ اصل میں افغانستان کی ایما پر کیا جا رہا ہے یا اس کا مقصد منشیات اور دیگر ممنوعہ اشیاء کی اسمگلنگ ہے۔ اب یہ تو پوچھنے والا کوئی نہیں ہو سکتا کہ ان چیک پوسٹوں کے ہوتے ہوئے دہشت گردانہ حملے بھی ہوتے رہے ہیں اور منشیات یا اسمگلنگ بھی رکی تو نہیں۔

خیر باقی مطالبات جن کا براہ راست تعلق فوج کی جانب سے ترتیب دی گئی پالیسی سے ہے، ان کا سرے سے کوئی ذکر تک نہ کیا گیا، جن میں سے ایک دہشت گردانہ واقعات کی تحقیقات اور تفتیش کا بھی ہے۔ ظاہر ہے بات تو دستوری اور قانونی ہے، مگر “جائز” پھر بھی نہیں ہے۔

انتہائی سادہ سی بات ہے کہ اگر کہیں دہشت گردی کا کوئی واقعہ ہوتا ہے اور اس میں فوجی یا عام شہری اپنی جان سے جاتے ہیں، تو اس واقعے کے کوئی محرکات تو ہوں گے؟ اسباب تو ہوں گے؟ کسی نہ کسی کی کہیں نہ کہیں کوتاہی تو ہو گی؟ کسی نا کسی شخص نے کوئی غفلت تو برتی ہو گی؟ کوئی نہ کوئی ذمہ دار تو ہو گا؟ ایسے میں اس واقعے کی تحقیقات نہ کرانے میں کون سی مصلحت ہو سکتی ہے؟ ریاستی اداروں کو یہ بات کیوں سمجھ نہیں آ رہی کہ پاکستانی قوم اور فوجی جوانوں کا خون اتنا سستا نہیں ہو سکتا کہ لوگ مرتے رہیں اور ان کی موت کی وجوہات تک سامنے نہ لائی جا سکیں۔ مگر معاملہ یہ ہے کہ یہاں بھی روش نہیں بدلے گی، ماضی میں بھی اس ملک کے سینے پر لگنے والے سنگین گھاؤ کب سنجیدہ لیے گئے؟ کب کسی واقعے کی شفاف چھان بین ہوئی؟ اور ہوئی بھی تو ایسی کوئی رپورٹ کب عوام سے بانٹی گئی۔

فوج کی جانب سے پشتونوں کے ساتھ مذاکرات کا اشارہ تو خوش آئند ہے مگر زمینی حقیقتیں اس پیشکش کا ساتھ دیتی نہیں ملتیں۔ گمشدہ افراد بازیاب ہونا تو دور کی بات حالیہ کچھ دنوں میں جبری گمشدگیوں پر آواز اٹھانے والوں ہی کو غائب کرنے کا سلسلہ ایک مرتبہ پھر تیز ہو گیا ہے۔ کراچی سمیت ملک کے مختلف مقامات سے ایسے کئی افراد اچانک لاپتا ہو گئے ہیں، جو حقوق کی جدوجہد کے لئے باہر نکلے تھے۔

کہتے ہیں والد بننا آسان ہوتا ہے مگر باپ بننا مشکل ہوتا ہے، کیوں کہ باپ بننے کا مطلب ہے کوئی شخص باپ والی ذمہ داریاں انجام دے رہا ہو، مگر ہمارے ہاں ذمہ داریاں کوئی شخص کیا اور ریاست کیا، کوئی انجام دینے میں نہ مخلص ہے نہ سنجیدہ، مگر شہریوں کو بچہ بنانے پر سبھی مصر ہیں۔ باپ صرف وہ ہوتا ہے جب کوئی بچہ اسے دیکھے تو تحفظ محسوس کرنے لگتا ہے، اپنائیت اور پیار کے جذبات ابھرنے لگتے ہیں، اس کے بازوؤں میں یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ اب کوئی اسے چھو بھی نہیں سکتا۔

ہمارا معاملہ یہ ہے کہ جنہیں باپ بننے یا ہمیں بچہ بنانے کا شوق ہے، وہ ہمارے جائز مطالبات تک سننے کو تیار نہیں بلکہ پوری طاقت سے ہماری آواز دبانے، ہمیں لاپتا کرنے، ہمارے دیس کا تشخص بگاڑنے، ہمیں غیرمحفوظ کرنے، ہمارے گھر کے لوگ دوسرے ملکوں کو بیچنے، ہمارے اپنوں لوگوں پر ہتھیار استعمال کرنے اور ہمیں جبری طور پر غلام بنانے میں مصروف ہیں۔

آج سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کرتی ہوئی دیکھنے کو ملی۔ راولپنڈی میں ایک کموڈور صاحب نے اپنی ذاتی گاڑی غلط جگہ پارک کی۔ پولیس اہلکار نے اس گاڑی کو ایک لفٹر کے ذریعے اٹھا لیا مگر ایسے میں کموڈور صاحب اپنی فوجی گارڈز کے ساتھ نمودار ہو گئے اور حکم فرمایا کہ ان کی گاڑی کو فوراً نیچے اتارا جائے۔ پولیس اہلکار کئ جانب سے پیش و پس پر کموڈور صاحب کے ایک فوجی محافظ نے پولیس اہلکار پر بندوق تان لی اور اسے اس کی اوقات یاد دلانے کی کوشش کی اور ایسے میں ایک آواز اس پوری قوم اور دستور بلکہ ریاست کے منہ پر طمانچہ تھی، “جانتے نہیں میں کون ہوں”؟

کچھ عرصہ قبل موٹر وے کی پولیس، جس کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ بہت اچھا کام کر رہی ہے اور غلطی پر کسی کو معاف نہیں کرتی، اس کے ایک سارجنٹ نے موٹر وے پر تیز رفتار گاڑی کو روکا۔ اس گاڑی میں ایک فوجی کپتان صاحب سوار تھے۔ ان کے بیچ مکالمہ کچھ یوں ہوا ہو گا۔ کپتان صاحب نے بھی یہی کہا ہو گا، “جانتے نہیں میں کون ہوں”۔ موٹر وے پولیس کا اہلکار یہ سمجھ رہا ہو گا کہ اس ملک کا قانون تمام شہریوں کے لیے برابر ہے، اس نے جواب میں کہا ہو گا، “سر آپ کوئی بھی ہیں، آپ نے قانون توڑا ہے، اس لیے آپ کا چلان ہو گا۔”

اس پر اس کپتان نے اپنی گاڑی سے اتر کر موٹر وے سارجنٹ کو سڑک پر ہی مارنا شروع کر دیا، اس کی وردی پھاڑ دی، پھر قریبی چھاؤنی فون کر دیا، تو وہاں سے ایس ایس جی کے کمانڈوز سرکاری رائفلوں کے ساتھ پہنچ گئے، اس سارجنٹ کو گاڑی میں ڈالا اور اپنے اڈے پر لے گئے۔ فوجی اڈے پر پھر اس “معمولی” پولیس والے کو مار مار کر توبہ کرائی گئی کہ وہ آئندہ کسی فوجی کی گاڑی کو روکنے کی جرات نہ کر سکے۔ پھر فوجی تعلقات عامہ سے بیان آ گیا کہ ایسا غلط فہمی کی بنیاد پر ہوا اور اس معاملے میں صلح ہو گئی ہے۔ مگر اس بیچ میں وہ تصاویر، سپاہی کی پھٹی ہوئی وردی، اس کے کندھے سے نیچے کو لٹکتے بیج اور خصوصاً چہرے پر موجود وہ بے بسی اور دکھ ہم سب سے کہہ رہا تھا کہ ہم کس ریاست میں زندہ ہیں؟ قانون کہاں ہے؟

ڈی جی آئی ایس پی آر اگر اس واقعے میں صلح صفائی کے قصے سنانے کی بجائے قوم کو یہ بتاتے کہ اس کیپٹن کا کورٹ مارشل کر دیا گیا ہے اور اب وہ جیل میں ہے اور ہم اس پولیس اہلکار کو شاباش دیتے ہیں کہ اس نے اس دیس کا قانون لاگو کیا، تو کیا دوسرے فوجی افسروں پر بھی مثبت اثر نہ پڑتا؟ کیاُ قانون کی بالادستی قائم نہیں ہوتی؟

اسی طرح ہماری عدلیہ، ہمارا میڈیا اور ہمارے دیگر ادارے ایک ایک کر کے اپنی اپنی “وردیاں” پھٹواتے چلے گئے اور آج حال یہ ہے کہ عوام کے دکھ اور تکلیف یا شکایات کو سننے والا بھی کوئی نہیں بچا۔

جرنیل صاحب، ایک ہاتھ سے لوگوں کو لاپتا کرنے، انٹرنیٹ سروس بند کرنے، سوشل میڈیا اکاؤنٹس معطل کرانے، لوگوں خصوصا طلبہ کو دھمکیاں دینے، لوگوں کو گرفتار کرنے، ان کی تذلیل کرنے، انہیں تشدد کا نشانہ بنانے اور دوسرے ہاتھ سے بچہ کہہ کر مذاکرات کا کہنے سے نہ مذاکرات ہو سکتے ہیں، نہ امن پیدا ہو سکتا ہے اور نہ کوئی تعمیری بات چیت آگے بڑھ سکتی ہے۔

اس دیس کو قائم رکھنا ہے تو شہریوں کو عزت دیں اور ملک میں قانون کی بالادستی کو یقینی بنائیں اور اسی قانون میں لکھا ہے کہ آپ کی نوکری کیا ہو گی۔ جنرل صاحب یقین مانیے ہم آپ کے بچے نہیں ہیں، اگر ہم واقعی آپ کے بچے ہوتے تو اب انتہائی بنیادی نوعیت کے مطالبات پر غدار اور ایجنٹ کے نعرے نہ لگ رہے ہوتے۔ ہم آپ کے بچے ہوتے تو ہم اور ہمارا مستقبل محفوظ ہوتے۔ ہم آپ کے بچے ہوتے تو اس وقت ویسے ہی محفوظ ہوتے جیسے آپ کے حقیقی بچے۔ ہم آپ کے بچے ہوتے تو ہمیں آپ سے یہ نہ کہننا پڑتا کہ خداُ کے واسطے اس ملک میں قانون کئ حکم رانی قائم کریں۔ ہم آپ کے بچے ہوتے تو اسُ وقت ہم آپ کو دستور کی دہائی دے کر اپنی بنیادی شہری آزادیاں مانگتے نظر نہ آتے۔  ہم عجیب بچے ہیں کہ ہمیں آپ کوُ بتانا پڑ رہا ہے ہے آپُ کی پالیسیوں نےُ ہمیں غیرمحفوظ کیا اور آپ اب بھی اپنی پالیسیوں پر ذرا نادم نہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here