ماہ زاد سعید

معاشرے کا پہیہ جتنی باربھی گھما لیا جائے، علاوہ تضادات کے کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ آپ ریت رواج کے دعوؤں کو کتنا ہی انصاف، علم اور تحقیق کے ترازو میں تول لیں، مال پھر بھی ناقص ہے۔ ایک چھوٹی سی مثال کہ مذہب فطرت کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے مگر حقیقت میں معاشرہ مذہب کے تقاضوں کو پورا کرنے میں اتنا مصروف ہے کہ انسانی نفسیات، ضروریات اور سوچ کچل کر رکھ دی گئی ہیں۔ اسی سلسلے کی سب سے اہم کڑی عورت اور اس کا وجود ہے۔

مرد نے مذہب کی آڑ میں اپنی جنسی خواہشات اور نفرت کو چھپانے کے لیے عورت کو ہی گناہ تصور کیا۔ یہ دماغی مرض اتنا بڑھتا گیا کہ عورت کو سات پردوں میں چھپانے کے سوا معاشرے کے ہاتھ میں کوئی حل نہیں رہا۔ زرعی معاشرے کے قیام کے بعد مرد ڈومینٹڈ (مردانہ برتری) معاشرہ وجود میں آیا۔ مرد اور عورت شادی کرکے اکھٹے رہنے لگ گئے۔ حسد کا جذبہ بیدار ہوا، یہی وہ دور تھا کہ جب مختلف معاشرتی تضادات ابھرنے لگے۔

مرد کی عورت میں جنسی کشش فطرتی ہے، الین فرام کے مطابق، ’’مرد وعورت کا رشتہ بغیر محبت کے نا مکمل اور بے معنی ہے، مگر عورت اور اس کا وجود چونکہ گناہ کی دعوت دیتا تھا اور شریف مرد وزن وہی گردانے جاتے تھے، جو اپنے آپ کوان لغویات سے دور رکھتے تھے، لہٰذا محبت ایک نیچ اور گھٹیا جذبہ سمجھا جانے لگا۔‘‘

اب ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لینے میں مجبور ہیں جہاں جنسی حبس، دبے اور کچلے ہوے جذبات کے سوا کچھ نہیں۔ ہم محبت کے متلاشی ہیں اور مذہبی قدغن کو اپنی آزادی سمجھتے ہیں۔
مسجد، گرجاگھروں اور دیگر عبادت گاہوں کے منارے اورگنبد، جنہیں ہم مقدس سمجھتے ہیں ، یہ بھی شاید جنسی تحریکات کی ہی عکاسی ہیں۔ ہم سگمنڈ فرؤیڈ کوایک قابل احترام ہستی گردانتےہیں، جن کے نظریات کے مطابق ایک ننھے بچے کا انگوٹھا چوسنا اور کسی بزرگ متبرک شخصیت کو بوسہ دینا، جنسی علامات ہیں۔ یہ دونوں فعل ہماری نظرمیں معصوم اورجائز ہیں، مگر کسی عورت پر نظر ڈالنا اورسراہنا گناہ تصور کیا جاتا ہے۔

چونکہ مرد کو معاشرے میں اولین حیثیت حاصل ہے لہٰذا وہ خود اپنی نظر جھکانے پرتوراضی نہیں ہاں مگرعورت پر یعنی ’’ایک گناہ‘‘ پر پردے کی چادریں ڈال دیتا ہے۔

پردے کے وجود میں آتے ہی ایک نئی کشمکش دیکھنے میں آتی ہے، وہی مرد جو بضد ہیں کہ عورت اپنی خوبصورتی چھپائے، اب پردہ میں حسن کھوجتے پھرتے ہیں۔ کئی پردے کو عورت کی خوبصورتی قرار دیتے ہیں اور کئی پردہ کرنے سے عورت کی خوبصورتی بڑھ جانے کے گمان میں پڑ جاتے ہیں۔

معصوم ذہنیت اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہے کہ حسن اورعشق کا چولی دامن کا ساتھ رہا ہے، خوبصورتی دیکھنا اورمحسوس کرنا ہماری فطرت کا حصہ ہے، ہم ایک عورت کو چھپا تو سکتے ہیں مگر اپنے دماغ میں لگی احساسات اور تصورات کی آگ بجھا نہیں سکتے۔

عورت ایک خوبصورت وجود اور اس میں جنسی کشش محسوس کرنا اور اسے خوبصورت سمجھنا گناہ نہیں بلکہ فطرت ہے اور بہت ممکن ہے کہ اگر ہم اس نقطے کو سمجھ جائیں اورعورت اور اس کا وجود تسلیم کر لیا جائے توشاید ہمارے گلی محلے میں کچے، ذہنی جنسی حبس کے مارے نوجوانوں کی گھٹیا جملہ بازی بھی ختم ہو جائے۔
فطرت ایک خوبصورت چیز ہے اور اس کے اپنے قوانین ہیں۔ فطرت کی گاڑی نے چلتے ہی رہنا ہے۔ یہ ہم پر ہے کہ ہم ان قوانین کوقبول کریں یا اس کے پہیے کے نیچے کچل دیے جانے پر آمادہ رہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here